021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کفار کے ملک میں مورگیج پر گھر خریدنا
71704سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

یہاں کے بعض مقامی علماء کہتے ہیں کہ آپ یہاں رہنے کے لئے ایک گھر مورگیج پر لے سکتے ہیں ۔بنیادی ضرورت کےعلاوہ ایک دلیل یہ ہےکہ اگر نہیں لیں گے تو مسلمان اس معاشرے میں اقتصادی لحاظ سے سب سے پیچھے رہ جائیں گے اور یہاں واقعی نقد گھر خریدنا  ناممکن ہےاس بارے میں رہنمائی فرما دیں ۔کیا مورگیج پر گھر لینا جائز ہو گا یا نہیں ؟

o

’’معاشرے میں اقتصادی  لحاظ سے مسلمان پیچھے رہ جائیں گے ‘‘ اس بات کو سود کے معاملات کے جواز کی  دلیل بنانا  بالکل غلط ہے۔حرام راستہ اختیار کر کے مسلمان کبھی بھی اقتصادی غلبہ حاصل نہیں کر سکتے۔

اسی طرح محض بنیادی  ضرورت کی بنا پر  مورگیج پر گھر لینے کو جائز قرار دینا بھی  درست نہیں ہے۔فقہاء نے صرف حالتِ اضطرار میں سود ی قرض پر معاملہ کی اجازت دی ہے۔ اور اس صورت میں حالتِ اضطرار اس وقت ہو گی جب اس شخص کے پاس سر چھپانے کے لئے بھی جگہ نہ ہو،نہ ہی کوئی اسے بلا سود قرض دیتا ہو،اور نہ ہی کسی جائز طریقہ مثلاً کرائے وغیرہ   پر گھر ملتا ہو،تو اس کے لئے یہ اجازت ہو گی۔ اگر کرائے پر گھر ملتا ہے ،تو صرف اپنی ملکیت کا گھر لینے کے لئے اسے بنیادی ضرورت قرار دے کر مورگیج پر گھر لینا جائز نہیں۔البتہ اس کے لئے یہ متبادل صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں:

  1. بینک  یا مالیاتی اداروں سے گفت و شنید کرکے انہیں اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ  مورگیج کے معاملہ کے بجائے خرید و فروخت کا معاملہ کریں اس طرح کہ بینک پہلے یہ گھر خرید لے پھر ادھار اقساط بنا کر زائد قیمت پر فروخت کر دے۔
  2. وہاں کے مسلمان تاجر مل کر ایک یونین اور ویلفیئر ٹرسٹ بنائیں جو مستقل شرعی  و قانونی وجود رکھتا ہو،اس ٹرسٹ کے اصول و ضوبط طے کیے جائیں،ادارہ کے ممبران اس میں بطور مضاربت اپنی رقوم لگائیں، کچھ رقم کسی منافع بخش کاروبار میں لگائی جائےبقیہ کچھ رقم سے کسی حاجتمند مسلمان کو گھر خرید کرشرکتِ متناقصہ کے طریقہ پر فروخت کر دیں۔وہ اس طرح کہ مثلاً پورے گھر کے دس حصے بنا لیے جائیں ، ایک حصہ ہر ماہ اسے فروخت کیا جائے باقی میں ٹرسٹ  کی ملکیت رہے گی ،بقیہ حصوں کا کرایہ وصول کیا جائے،یہاں تک کہ وہ تمام حصے بیچ دیے  جائیں۔
  3. وہاں کے مسلمان اپنی زکوۃ و صدقات سے حاجتمند مسلمانوں کی گھر خریدنے میں مدد کریں۔بشرطیکہ مذکورہ حاجتمند شخص مستحقِ زکوۃ ہو۔
  4. اگر کوئی شخص کچھ رقم ملا سکتاہے تو اس کے ساتھ دوسرے مسلمان مل کر گھر خرید لیں ،اس میں یہ سب شریک ہو جائیں گے ،اور پھر اپنا حصہ ادھاراقساط پر ،مناسب زائد قیمت پر فروخت کر دیں۔

حوالہ جات

     {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 137)
وفي القنية من الكراهية يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح اهـ.
الموسوعة الفقهية الكويتية (6/ 166)
وفي الأشباه لابن نجيم، ومثله في المنثور للزركشي: ما حرم أخذه حرم إعطاؤه، كالربا ومهر البغي وحلوان الكاهن والرشوة للحاكم إذا بذلها ليحكم له بغير الحق، إلا في مسائل في الرشوة لخوف على نفسه أو ماله أو لفك أسير أو لمن يخاف هجوه. وينبغي أن يكون مثله إعطاء الربا للضرورة فيأثم المقرض دون المقترض.
شرح القواعد الفقهية (ص: 210)
والظاهر أن ما يجوز للحاجة إنما يجوز فيما ورد فيه نص يجوزه، أو تعامل، أو لم يرد فيه شيء منهما ولكن لم يرد فيه نص يمنعه بخصوصه وكان له نظير في الشرع يمكن إلحاقه به وجعل ما ورد في نظيره واردا فيه.

  محمد عبدالرحمن ناصر

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

01/07/1442

n

مجیب

محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔