| 71520 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
سوال یہ تھا کہ کیا ایساہوسکتاہے کہ صاحب نصاب آدمی صدقہ فطر غریب کودے اوراسے یہ نہ بتائے کہ صدقہ فطر کی رقم ہے ؟ کیااس طرح سے صدقہ فطر اداہوجائےگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صدقہ الفطر یا زکاۃ کی صحت کے لئے مال الگ کرتے وقت صرف نیت کا ہونا ضروری ہے، غریب کو بتانا ضروری نہیں کہ یہ صدقۃ الفطر ہے،بلکہ بہتر یہ ہے کہ غریب کو ہدیہ کے عنوان سے دیا جائے تاکہ اس کی عزت ِ نفس بھی مجروح نہ ہو اور فریضہ بھی ادا ہوجائے۔
حوالہ جات
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 174)
ولا يشترط علم الفقير بأنها زكاة على الأصح لما في البحر عن القنية والمجتبى الأصح أن من أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة، فإنها تجزئه اه ...لأن العبرة لنية الدافع
مصطفی جمال
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
۲۱/۶/۱۴۴۲
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


