021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسافر کی مقیم امام کے پیچھے نماز
71724نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

کیا فرماتےہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا سسرال نواب شاہ میں ہے اور میرا اپنا گھر کراچی میں ، میں ہر مہینے تقریباً ایک سے دو  دن کے لئے اہلیہ کو ماں باپ سے ملانے کے لئے نواب شاہ جاتا ہوں ،اب مسئلہ یہ پیش آتا ہےکہ  لوگ کہتے ہیں کہ آپ پر قصر ہے لیکن اگر جماعت سے نماز پڑھتا ہوں تو قصر کرنے کا طریقہ نہیں آتا برائے کرم نمازوں کے قصر کرنے یا نہ کرنے سے متعلق رہنمائی فرمادیں۔

o

اگر آپ کی اہلیہ مستقل آپ کے ساتھ کراچی میں رہتی ہیں جیسا کہ سوال میں ذکر ہے تو آپ اور آپ کی اہلیہ دونوں نواب شاہ میں مسافر ہیں لہذا دونوں کے لئے قصر ضروری ہےالا یہ  کہ وہاں جاکر آپ لوگ پندرہ دن یا اس سےزیادہ قیام کی نیت کرلیں تو ایسی صورت میں آپ لوگوں کے لئےاتمام ضروری ہوگا۔مسافر اگر مقیم امام کے پیچے نماز ادا کرتا ہے تو امام کی متابعت کی وجہ سے مسافر کے لئے بھی قصر کا حکم ختم  ہوکر اتمام کا حکم ہوتا ہے  ،لہذا جب آپ جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں تو مقیم حضرات کی طرح پوری نماز ادا کریں اور سنن ِمؤکدہ بھی پڑھیں۔

حوالہ جات

لدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 131)
(قوله أو تأهله) أي تزوجه. قال في شرح المنية: ولو تزوج المسافر ببلد ولم ينو الإقامة به فقيل لا يصير مقيما، وقيل يصير مقيما؛ وهو الأوجه ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما،فإن ماتت زوجته في إحداهما وبقي له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة واستقرت سكنا له وليس له فيها دار وقيل تبقى. اهـ.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 213)
قال - رحمه الله - (وإن اقتدى مسافر بمقيم في الوقت صح وأتم) هكذا روي عن ابن عباس وابن عمر ولأنه تبع لإمامه فيتغير فرضه إلى أربع كما يتغير بنية الإقامة لاتصال المغير بالسبب وهوالوقت

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

۳۰/۶/۱۴۴۲

n

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔