021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طالبِ علمِ دین کی شادی کی ذمہ داری
72129نان نفقہ کے مسائلنان نفقہ کے متفرق مسائل

سوال

زید بیس سال کی عمر کو پہنچ گیا ہے اور دینی تعلیم میں مشغول ہے، یعنی کسی مدرسے میں زیر تعلیم ہے۔ تو زید کے نکاح اور شادی کے اخراجات زید پر لازم ہیں یا اس کے والدین پر؟

o

بیٹے کے بالغ ہونے کے بعد والد پر کسی بھی قسم کا خرچہ شرعا لازم نہیں رہتا ،بشرطیکہ بیٹا معذور نہ ہو اور کمانے کے قابل ہو،چنانچہ شادی کا خرچہ اٹھانا والدین کے ذمہ نہیں ہے ،لڑکا خود اس انتظام کا ذمہ دارہے۔البتہ اگر والدین استطاعت رکھتے ہوں تو ایسی اولاد کے لیے جو علم دین کے حصول میں مشغول ہونے کی وجہ سے اپنے اخراجات خود نہ اٹھا سکتی ہو،بطور تبرع یہ اخراجات برداشت کرنے چاہئیں،مگر یہ  ان پر لازم  نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 612)
(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله)………(وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك، كذا في الزيلعي والعيني.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 612)
(قوله لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم، ويقال جارية، طفل، وطفلة، كذا في المغرب. وقيل أول ما يولد صبي ثم طفل ح عن النهر (قوله يعم الأنثى والجمع) أي يطلق على الأنثى كما علمته، وعلى الجمع كما في قوله تعالى {أو الطفل الذين لم يظهروا} [النور: 31] فهو مما يستوي فيه المفرد والجمع كالجنب والفلك والإمام - {واجعلنا للمتقين إماما} [الفرقان: 74]- ولا ينافيه جمعه على أطفال أيضا كما جمع إمام على أئمة أيضا فافهم.

معاذ احمد بن جاوید کاظم 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ھ

n

مجیب

معاذ احمد بن جاوید کاظم

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔