021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرکت عقدمیں نقصان کا حکم
71564شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دس سال پہلے مجھے شاپنگ مال میں ایک اچھی دکان کرائے پر مل رہی تھی پر اس وقت میرے پاس دس لاکھ نہیں تھے، میرے دوست عبد المجید نے کہا کہ میں اپنے بھائی کو یہ دکان دلا دیتا ہوں وہ تمہیں قسطوں پر 12لاکھ کی بیچ دے گا پر مجھے اپنے بھائی کو راضی کرنے پر کیا ملے گا؟ اس پر میں نے کہا کہ اگر آپ یہ انتظام کردیں تو آپ میرے اس دکان کے زندگی بھر 50 فیصد کے پارٹنر ہوں گے، لیکن اس پر انہوں نے کہا کہ میں تنخواہ دار آدمی ہوں اگر دکان میں نقصان ہوگیا تو میں نہیں بھروں گا۔ اس پر یہ طے ہوا کہ جب تک یہ 12لاکھ ادا نہیں ہوجاتےہم دونوں میں سے کوئی نفع نہیں لے گا اور اگر خدانخواستہ دکان قرض ادا کرنے سے پہلے بند ہوگئی تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہوگی،کہیں سے بھی ادا کروں گویا نقصان کی ساری ذمہ داری مجھ پر آگئی۔دس سال کے اس عرصے میں اس دکان سے کما کروہ 12 لاکھ بھی اتارے اور انہیں اپنی زبان کے مطابق 50فیصد نفع جو 40لاکھ بنتا ہے دے چکا ہوں۔اسی دوران ہم دونوں میں سے ہر ایک نے 6لاکھ ملائے اور 12 لاکھ کی ایک اور دکان خرید لی، ابتدا میں اس دکان کی پارٹنرشپ سے سابقہ دکان کا کوئی تعلق نہیں تھا لیکن حساب کتاب میں آسانی کے لیے اس کا حساب بھی ہم نے سابقہ دکان کے کھاتوں میں کرنا شروع کردیا۔ پھر اس نئی دکان میں نقصان ہونا شروع ہوا تو اس کو بھی بعض اوقات پہلی دکان سے پورا کیا جاتا جو تقریبا 5لاکھ بنتا ہے، نئی دکان ہماری نقصان میں گئی اور ہم نے وہ بند کردی اور 3لاکھ کا مال اس سے بچا جو ہم نے پہلی دکان میں ڈال دیاگویا جو پانچ لاکھ اس دکان سے گئے تھے اس میں سے تین لاکھ کی ریکوری ہوگئی اور وہ دکان ابھی تک الحمد للہ چل رہی ہے۔مجھے پہلے بھی کافی لوگوں نے کہا کہ آپ کی یہ پارٹنر شپ درست نہیں ہے اسے ختم کردیں، اصل مالک و ذمہ دار آپ ہی ہیں ان کا اس طرح نفع لینا درست نہیں۔

سوال:ہم نے دوسری دکان سے ریکور ہونے والا مال اسی دکان میں ضم کردیا تھا ،اسی طرح بعض اوقات نئیدکان کے اخراجات بھیاس دکان سے ادا کیے گئے جو اس مال کی مالیت سے زیادہ ہیںتو کیا اس سے بھی ہماری شرکت پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟

o

پہلی شرکت چونکہ قائم نہیں ہوئی تھی اور اس سے حاصل ہونے والا منافع اور تمام اثاثوں کے آپ ہی مالک تھے اور وہ آپ کی ذاتی ملکیت تھی اس لیے پہلی دکان سے جو رقم(پانچ لاکھ) بطور اخراجات کے آپ دوسری دکان کے لیے نکالتے رہے اس کی حیثیت قرض کی ہے اور وہ بطور لائیبلٹی دونوں شریکوں پر ان کے سرمائے کے تناسب سے ہی تقسیم ہوگی۔چنانچہ دوسری دکان سے بچ جانے والا مال جو پہلی دکان میں شامل کیا گیا اس سے نئی شرکت قائم نہیں ہوئی بلکہ اس کو کل قرض میں سے تین لاکھ کی وصولی سمجھا جائے گا اور پچاس فیصد کے نفع نقصان کے پارٹنر ہونے کی وجہ سے بقیہ دو لاکھ میں سے مزید ایک لاکھ دوسرے شریک کے ذمہ آپ کو دینا لازم ہے۔

 

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 340)
ويتفرع على لزوم الاشتراك في رأس المال في شركة العقد المسألة الآتية وهي: لو قال أحد لآخر: أقرضني ألف درهم حتى أبيع وأشتري والربح يكون مشتركا بيننا، وأقرضه الآخر على هذا الشرط فيكون كل الربح للمقترض، وليس للمقرض أن يأخذ شيئا من الربح البحر.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 389)
(الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال، وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر).

معاذ احمد بن جاوید کاظم 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ھ 

n

مجیب

معاذ احمد بن جاوید کاظم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔