03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اپنی زندگی میں تحریری طور پر ایک وارث کو آدھے گھر کامالک بنانا
71952میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

قاسم کے والد نے گھر خریدا اور اسکی ایک منزل تعمیر کی پھر قاسم کو والد نے کہا کہ تم اپنے مال سے دوسری منزل کی تعمیر کرلو تو قاسم نے اپنے مال سے دوسری منزل کی تعمیر کرلی اور اس میں رہائش اختیار کرلی ۔ پھر والد قاسم سے کہتے تھے کہ تم نچلی منزل کی قیمت ادا کر کے پورا گھر خرید لو مگر قاسم  نہیں خرید سکا، پھر جب والد حج کرنے جارہےتھے تو ایک پرچہ میں یہ تحریر اپنی بیٹی کو دے گئے کہ ” اس گھر میں آدھا گھر قاسم کا ہے“ پھر تین (۳) سال کےبعد ان کا انتقال ہوگیا اور انہوں نے زبانی وصیت کی تھی کہ میری بیوی کی زندگی تک اس گھر کو نہیں بیچنا جس پرتمام ورثاء متفق تھے اور انکی اہلیہ (والدہ) پہلی منزل پر تقریباً دس سال سے مقیم ہیں۔ قاسم اس گھر میں سے آدھےگھر کا مالک ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد اپنی حیات میں کسی  ایک بیٹے  کو جائیدا د  میں سے کچھ ہبہ کرنا چاہے تو اس  شرط  کے ساتھ گنجائش ہےکہ دیگراولاد کو محروم کرنے کی نیت نہ ہو، لیکن  قابلَ تقسیم جائیداد کے ہبہ کےمعتبر ہونے کے لئے شرعاً ضروری ہے کہ اپنی حیات میں ہی تقسیم کرکے بیٹے کو اس کا قبضہ دے کر خود اس سے لاتعلق ہوجائے ۔صورتِ مسئولہ میں  یہ دونوں باتیں نہیں پائی گئیں بلکہ مشترکہ طور پر  آدھے گھر کا ایک بیٹے کو مالک بنانے کا اپنی بیٹی کے سامنے صرف اقرار کیا ہے۔ لہذا یہ ہبہ شرعاً معتبر نہیں ہےاوروالد کی وصیت کی وجہ سے قاسم اس گھر میں سے آدھے گھر کا مالک نہیں  ہے۔

قاسم والد  کے کہنے سے تو آدھے گھرکا مالک نہیں ہوا،البتہ قاسم نے دوسری منزل اگر واقعۃ ً  اپنے والد کی اجازت سے تعمیر کی تھی،توبنائی ہوئی دوسری منزل کا شرعاً  قاسم  مالک ہے ۔لہذا مکان کی قیمت میں سے بنائی ہوئی تعمیر کی موجودہ قیمت میں سےاُس کا جتنا حصہ بنتا ہے وہ قاسم کو ادا کردیں۔قاسم کی بنائی ہوئی تعمیر کی موجودہ قیمت کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتا ہے کہ قاسم کی بنائی ہوئی تعمیر کے بغیر اور اس تعمیر کے ساتھ اس مکان کی الگ الگ دو قیمتیں لگوا لی جائیں۔ جو فرق ہو وہ قاسم کی بنائی ہوئی تعمیر کی قیمت ہوگی۔اس کے علاوہ دیگر ورثاء قاسم سے باہمی رضامندی سے جس قیمت پرچاہیں صلح بھی کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 687)

وشرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح

الفتاوى الهندية - (4 / 377)

ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة.

الدر المختار - (6 / 747، مسائل شتى)

(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه، ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، وفي أن العمارة لها أو له فالقول له لأنه هو المتملك كما أفاده شيخنا

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (6 / 747)

(قوله عمر دار زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلاأن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ (قوله فالعمارة له) هذا لو الآلة كلها له فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما ط عن المقدسي ذكر في الفوائد الزينية من كتاب الغصب إذا تصرف في ملك غيره، ثم ادعى أنه كان بإذنه فالقول للمالك.

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

۳۰/۶/۱۴۴۲

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب