021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جمعہ فوت ہوجائے تو کفارہ لازم نہیں ہوتا
71733جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر کسی شخص کی جمعہ کی نماز نکل جائے تو کہتے ہیں کہ اس شخص کو اب ظہر کی نماز ادا کرنی ہوگی ، البتہ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ جس شخص کی جمعہ کی نماز نکل جائے اب وہ کفارہ دے گا؟اگر کفارہ دینا ہے تو کتنا کفارہ دینا ہوگا؟

 

o

اگرجمعہ کی نماز نکل جائے تو صرف ظہر کی نماز ادا  کی جائے گی، البتہ بغیر عذر کے جمعہ ترک کرنا جائز نہیں،اگر کسی نے ایسا کیاتواس پر اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرے کفارہ لازم نہیں۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 222)
قال - رحمه الله - (ومن لا عذر له لو صلى الظهر قبلها كره) وقال زفر لا يصح ظهره قبل أن يصلي الإمام الجمعة؛ لأن الجمعة هي الأصل إذ هي المأمور بها دون الظهر والظهر بدل عنها فلا يصار إليه مع القدرة على الأصل ولنا أن الفرض هو الظهر لقدرته عليه دون الجمعة لتوقفها على شرائط لا تتم به وحده والتكليف يعتمد الوسع؛ ولهذا لو فاتته الجمعة صلى الظهر في الوقت وبعد خروج الوقت يقضي بنية الظهر، وهذا آية الفرضية إلا أنه مأمور بإسقاطه بالجمعة فيكون بتركه مسيئا فيكره،

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

30/04/1442

n

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔