021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جادو کے علاج پر اجرت لینا
72009جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایک بندہ استخارہ کرتا ہے اور لوگ استخارہ کروانے کےلئے اس سے مختلف امور میں رجوع بھی کرتے ہیں ۔مثلاً رشتے کے لئے ،کام کاربار کے تعین کے لئے ، جائیداد کی خرید و فروخت کے لئے اور اس طرح مختلف معاملات میں استخارہ کرواتے ہیں اور ان کا استخارہ کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ شاگردوں میں سے کسی کو بٹھا کر آنکھیں بند کروا کر چیک کرتے ہیں اور اس عمل کے دوران قرآنی آیات اور اسماء الحسنی کا ورد کرتے ہیں تو جو اس کے شاگرد کو نظر آتا ہےمناسب ہونا یا مناسب نہ ہونا تو اس کے مطابق وہ لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں،اس طریقہ پر سحر کا علاج کرنا ،جس سے لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ اس پر اجرت لینااوراس اجرت  کا استعمال جائز ہے یا نہیں اس معاملے میں رہنائی فرمائیں

o

روحانی علاج میں اگر شرکیہ کلمات ادا نہ کیے جاتے ہوں اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے علاج کیا جائے تو اس پرمناسب اجرت لی جاسکتی ہےاور اس اجرت کا استعمال بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 57)
 جوزوا الرقية بالأجرة ولو بالقرآن كما ذكره الطحاوي؛ لأنها ليست عبادة محضة بل من
التداوي.
البناية شرح الهداية (10/ 280)
بما روي من حديث أبي سعيد الخدري قال: «بعثنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في غزوةوأتينا على رجل لديغ في جبهته فقال بعضهم: نعم ولكن والله لقد استضفناكم فلم تضيفونا، لانأتي حتى تجعلوا لنا جعلا، فصالحوهم على قطيع من الغنم، فانطلق فجعل يتفل عليه ويقرأ: {الحمد لله رب العالمين} [الفاتحة: 2] فكأنما نشط من عقال، فقام يمشي فآتوهم جعلهم فقالبعضهم: اقسموا، فقال الذي رقى: لا تفعلوا حتى نأتي رسول الله - صلى الله عليه وسلم –فتذكروا له الذي كان فننظر ما يأمرنا به فدخلوا على رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فذكرواله ذلك فقال: (قد أصبتم اقتسموا واضربوا لي معكم بسهم»

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

30/04/1442

n

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔