021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ادھار خریداری کے بعد متعاقدین کا باہمی رضامندی سے سامان کی قیمت میں اضافہ کرنا
75693خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں نے ایک تاجر کو 20 دن کے ادھار پر اناج فروخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے ، اناج تاجر کے حوالے بھی کر دیا ہے ، اب ریٹ بڑھ گئے ہیں ، کیا ابھی زیادہ در قم لے سکتا ہوں، کیا یہ جائز ہو گا؟ جبکہ خریدنے والا بھی زیادہ رقم دینے پر راضی ہے۔

o

واضح رہے کہ شریعت کا یہ اصول ہے کہ خرید و فروخت کا معاملہ مکمل  ہو جانے کے بعد سامان کی قیمت میں  خریدار یا فروخت کنندہ میں سے کسی کیلئے  یک طرفہ تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے، چاہے معاملہ نقد ہوا ہو یا ادھار۔ چنانچہ  جو قیمت دونوں کے درمیان طے ہوئی تھی خریدار پر وہی قیمت دینا لازم ہے  ،یعنی آپ کے لئے ریٹ بڑھ جانے کی بنیاد پر قیمت میں اضافے کا مطالبہ کرنا تو جائز نہیں ہے  البتہ  اگر  خریدار بغیر کسی شرط کے اپنی رضا مندی  سے قیمت میں کچھ اضافہ کر ے تو ایسا کرنا   اس  کیلئے جائز ہے، بلکہ اگر ثمن میں اس کی طرف سے یہ اضافہ  ایسے وقت میں ہو کہ اناج اسی طرح موجود ہو یعنی استعمال نہ ہوا ہو  اور آپ  مجلس میں  اس اضافے کو   قبول بھی  کر لیں  تو یہ اضافہ لازم ہو جائے گا اور پھر خریدار کے لئے اس سے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے گی،  لیکن اگر یہ دونوں شرطیں موجود نہ ہوں تو پھر خریدار کی مرضی ہے  کہ چاہے تو اضافہ کر دے اور چاہے تو نہ کرے ۔ بہر حال  اگر وہ رضامندی سے آپ کو اضافی قیمت دیدے تو  آپ کے لئے اس کا  لینا جائز ہو گا۔

حوالہ جات

النهر الفائق شرح كنز الدقائق(3/ 465):
(و) صح (الزيادة فيه) أي: في الثمن (والحط منه) ويلتحقان بأصل العقد، وقال زفر: لا يلتحقان بل الزيادة أبرأ مقيدا والحط إبراء من بعض الثمن إذا لا يمكن تصحيح الزيادة ثمنا لأنه يصير ملكه عوض ملكه وكذلك الحط لأن الثمن صار مقابلا بكل المبيع.
قلنا: إنما يلزم ما ذكرتم لو التحقا بالعقد مع عدم تغيره لكنه مع التغير عن المقدار الأول إلى الثاني وقد رأينا الشارع أثبت لهما ولاية الرفع بالإقالة فأولى أن يكون لهما ولاية التغير.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 81):
(و) ‌صح (‌الزيادة فيه) أي في الثمن (حال قيام المبيع) إن قبل في المجلس حتى لو زاده فلم يقبل حتى تفرقا بطلت الزيادة كما في الهداية وغيرها فعلى البائع هذا لو قيد به لكان أولى لأنه مما لا بد منه (لا بعد هلاكه) أي المبيع في ظاهر الرواية إذ لو هلك المبيع أو تغير بتصرف المشتري فيه حتى خرج عن إطلاق اسمه عليه كبر طحن أو خرج عن محلية المبيع كعبد دبر لا تجوز الزيادة إذ ثبوتها ملحوظ في مقابلة الثمن وهو غير باق على حاله فلم يتصور التقابل فيه.

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۲۴، جمادی الثانی  ۱۴۴۳ ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔