03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یوبی ایل ،میٹروپولیٹن بینک سےوصول ہونے والی سودی رقم کامصرف
76545سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

سوال:میری فیکٹری ہے،اورلین دین کےلیےبینک اکاؤنٹ استعمال کرناپڑتاہے،کچھ فیکٹری کےنام سےاورکچھ ذاتی نام سےہے،کسی پربینک مارک اپ"منافع"سودبھی دیتاہے،اورکسی پرنہیں،مزیدپچھلےدنوں فیکٹری کےلیےباہرملک سےمشینری درآمدکرواناپڑی ،جس کےلیےبینک کااستعمال LC (letter of credit)کی سہولت لینی پڑی،ایل سی کھولنےکےلیےبینک نےمشینری کی پوری رقم تقریبا چارماہ تک اکاؤنٹ منجمند کیےرکھا،مشینری آنےکےبعد مشینری کی رقم ادائیگی کرکےمشینری ہمارےحوالہ کردی،مگرجتنی مدت تک میری رقم بینک میں جمع رہی،اس پربینک نے مارک اپ" منافع" بھی دیا۔

ان حالات میں یہ رقم مارک اپ منافع یاسود ہی سمجھی جائےگی،جوکہ حرام ہے،اوراس کااستعمال بھی ناجائزہوگا،اور میں ایسی رقم کواستعمال بھی نہیں کرتاہوں۔

مسئلہ:۱۔مندرجہ بالا رقم بینک میں ہی چھوڑدی جائے،جبکہ فی زمانہ کاروبارمیں بینک کااستعمال ناگزیرہے۔

۲۔یاکسی نےمشورہ دیاہےکہ بغیرثواب کی نیت کیےمدرسہ یامسجد کےباتھ روم کی تعمیر میں استعمال کرلیاجائے۔

۳۔یابغیرثواب کی نیت کےکسی سفید پوش (جوکہ خدشہ ہےکہ وہ صاحب نصاب ہوگا،جس کی وجہ سےاس کوزکوۃ دی نہیں جاسکتی)کی مدد کردی جائے۔

۴۔دوران کاروبارسرکاری محکموں کےاہل کار جیسےانکم ٹیکس سیلزٹیکس ،لیبرڈیپارٹمنٹ  کےبندےباوجودہ اس کےکہ جوبھی حکومتی واجبات بنتےہیں،مکمل اداکیاہوتاہے،مگرپھربھی رشوت کےلیےہراساں کرتےہیں،اوراگران کورشوت نہ دی جائےتوپریشان کرکےہی دم لیتےہیں،اوراگران کےحکم کےخلاف اپیل میں جائیں توان کےاوپروالےان سےبھی زیادہ کےطلب گارہوتےہیں،نوٹس وغیرہ جاری کردیتےہیں،اوردفتروں کےچکرلگواکراپنےدفتروں کےباہربٹھاکرگھنٹوں بٹھاکر ذلیل کرتےہیں،یہ واضح رہےکہ رشوت کےبدلےکسی قسم کی مراعات نہیں لیتے،یعنی سرکاری ذمہ داری یاٹیکس پوراکاپورااداء کرتےہیں۔

لہذاکیاان حالات میں ایسےلوگوں کوبینک سےملنےوالی رقم مارک اپ پرافٹ یاانٹرسٹ جوبھی کہےکراہت کےساتھ دیتےہوئے،ان کےشرسےبچاجاسکتاہے؟ازراہ کرم راہنمائی فرماکرشکریہ کاموقع دیں۔

o

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یوبی ایل ،اورمیٹروپولیٹن بینک چونکہ غیراسلامی(سودی )بینک ہیں،لہذا اس طرح کےسودی بینکوں میں ایل سی کھلوانےکےبعدجورقم بطور مارک اپ ملتی  ہے،شرعایہ سود ہی ہے،ایسی رقم کاخوداستعمال کرناجائزنہیں،بلکہ اس طرح کےحرام مال کاحکم یہ ہےکہ اس کو بلانیت ثواب فقراء ومساکین پرصدقہ کردیاجائے۔

آپ کی ذکرکردہ ممکنہ صورتوں کاجواب درج ذیل ہے:

۱۔جو سود بینک میں اصل رقم پرجمع ہوتاہے اس  کےبارےمیں حکم یہ ہےکہ  اسےبینک سے وصول کرکے بلانیت ثواب فقراء ومساکین پرصدقہ کیاجائے یا پھراپنے طورپربلانیت ثواب رفاہی کاموں میں اسے خرچ کیا جائے۔

۲۔سودی رقم کو مسجد یامدرسہ کےواش روم وغیرہ کی تعمیرمیں صرف کرناجائزنہیں ہے۔

۳۔جی ایسےحضرات کو سودی رقم دی جاسکتی ہے،کوشش تویہ کرنی چاہیےکہ ایسےحضرات کوبھی حلال رقم سےتعاون اورصدقہ کیاجائے،لیکن اگرکسی کےپاس اورمال نہ ہو،دوسری طرف  استحقاق اورضرورت شدید ہوتوسودی رقم کوبھی دیاجاسکتاہے۔

۴۔انکم ٹیکس،سیلزٹیکس اوردیگرٹیکسزسودی رقم سےاداء کرناجائزنہیں ،بلکہ حلال رقم سےادائیگی لازم ہوگی ۔البتہ اگربطوررشوت دی جائےتوبوقت ضرورت جہاں  رشوت دینےکی شرعابھی  گنجائش ہووہاں اس طرح کی رقم سےادائیگی کی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

"ردالمحتار 146:4 "(مطلب فیمن ورث مالا حراما) والحاصل أنہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیہم والا فان علم عین الحرام لا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔

"رد المحتار"26 / 453:

لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة ، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم ، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه۔

" رد المحتار": 9/553:لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذر الرد علی صاحبہ۔

"حاشية رد المحتار" 5 / 219:مطلب: الحرمة تتعدد قوله: (الحرمة تتعدد الخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المتن: وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى ذمتين.سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هومحمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام ۔۔

"رد المحتار" 19 / 370:

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم ، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه ، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما ، والأحسن ديانة التنزه عنه۔

"قواعد الفقہ، القواعد الفقھیۃ / 115) :"فیتصدق بلا نیۃ ثواب "

"ردالمحتار"7/663:ولواضطرالی دفع الرشوة لاحیاء حقہ    جاز لہ الدفع وحرم علی القابض۔

"رد المحتار"6/423:(وفیہ ایضا)دفع المال للسلطان الجائرلدفع الظلم عن نفسہ ومالہ لاستخراج حق لہ لیس برشوة  یعنی فی حق الدافع۔

"حاشية رد المحتار" 2 / 315:وفي مختارات النوازل: السلطان الجائر إذا أخذ الخراج يجوز۔

ولو أخذ الصدقات أو الجبايات أو أخذ مالا مصادرة: إن نوى الصدقة عند الدفع قيل يجوز أيضا، وبه يفتى، وكذا إذا دفع إلى كل جائر بنية الصدقة لانهم بما عليهم من التبعات صاروا فقراء، والاحوط الاعادة۔وهذا موافق لما صححه في المبسوط، وتبعه في الفتح، فقد اختلف التصحيح والافتاء في الاموال الباطنة إذا نوى التصدق بها على الجائر وعلمت ما هو الاحوط۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

  12/رمضان  1443 ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب