021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیزائننگ میں تصاویر کا استعمال‎‎
77167جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

میں ایک گرافک ڈیزائنر ہوں، میں فری لانس بھی کام کرتا ہوں اور ایک جگہ جاب بھی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کبھی کبھی مجھے کمپنی کی جانب سے ان کی ویب سائٹ کے لئے تصاویر ایڈٹ کرنے کو دی جاتی ہے، کمپنی مارکیٹنگ کی سروسز دیتی ہے، ان سروسز کے پیجز میں مختلف  قسم کے عنوانات کے لحاظ سے تصاویر بھی لگائی جاتی ہیں جو کہ مختلف طریقوں کی ہوتی ہے، جیسے کوئی آفس ورک کررہا ہے کوئی کھیل رہا ہے۔ اب اس میں بعض اوقات خواتین کی بھی تصاویر ہوتی ہے، تو کیا اس صورت میں میرا کام اور آمدنی حرام ہوجائیگی؟ یہ بھی آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ میرا مین کام یہ نہیں ہوتا،زیادہ تر لوگو ڈیزائننگ یا پوسٹر ڈیزائننگ وغیرہ کرنی ہوتی ہے، لیکن کبھی اس نوعیت کا کام بھی آجاتا ہے۔تو کیا اس صورت میں تمام آمدنی مشتبہ ہوجائے گی؟ تو اس صورت میں،میں کیا کروں؟براہ کرم جواب اور حل بتادیں۔

o

اگر تصویر پرنٹ کرنا آپ کے کام میں شامل ہو تو ایسی صورت کا حکم یہ ہے کہ  کسی بھی جاندار  کے چہرے کی واضح تصویرپرنٹ کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس کی کمائی جائزہے  اور تصاویر پرنٹ کرنا شامل نہ ہو توجانداروں کی جائز منظر کشی پر مشتمل تصاویر بنانے کی حد تک اس کی گنجائش ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اس بھی احتراز کیا جائے اور ناجائز منظر کشی پر مشتمل تصاویر مثلا بے پردہ اورکھلے چہرے خواتین کی تصاویر  کا عمل ناجائز ہوگااور اگر زیادہ آمدن  جائز کام کی اجرت ہو،البتہ جزوی طور پر ناجائز بھی شامل ہو  تو  ناجائز کام کی اجرت کے بقدر آمدن حلال نہیں رہے گی ،لہذا اس قدر رقم بلا نیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸رجب۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔