021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کنونشل اوراسلامک بینکوں میں فرق
77486سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

میرےخاوندچارٹرڈاکاؤنٹنٹ ہیں،وہ کہتےہیں کہ میزان بینک کیسےاسلامی ہےاورباقی بینک کیسے غیراسلامی ہے،؟ پلیز تھوڑی تفصیل بتادیں،تاکہ میں انہیں مطمئن کرسکوں۔

o

تفصیلی جواب سےپہلےتمہیدکےطورپریہ بات سمجھ لینی چاہیےکہ شریعت صرف نتائج کومدنظررکھتےہوئے حلت وحرمت کافیصلہ نہیں کرتی ،بلکہ نتیجےتک پہنچانےوالےاسباب وعوامل کومدّنظررکھتےہوئےکسی عقد/ٹرانزیکشن کے جائز  وناجائز کافیصلہ کرتی ہے۔اس بات کومزیدیوںسمجھ لیناچاہیےکہ دومعاملات کاصرف نتیجہ ایک جیساہونے سےہرگزیہ بات لازم نہیں آتی  کہ دونوں کا حکم بھی ایک ہو، کیونکہ حکم کا تعلق معاملے کی حقیقت سے ہوتا ہے ، انجام سے نہیں ہوتا ، اس بات کو بذریعہ مثال اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص نے اللہ تعالی کا نام لے کر جانور ذبح کیا اور دوسرے نے جان بوجھ کر اللہ تعالی کا نام لئے بغیر جانور ذبح کیا ۔ دونوں جانوروں سے حاصل کئے گئے گوشت کا الگ الگ قورمہ بنایا گیا ۔ دونوں کا ذائقہ بھی ایک جیسا ہے اور لذت بھی برابر ہے لیکن کوئی بھی مسلمان دونوں کو حلال کہنے کے لئے تیار نہیں ۔ حقیقت حال سے واقف ہر مسلمان پہلے جانور کے گوشت کو حلال اور دوسرے کو حرام کہے گا ۔ حالانکہ دونوں کا انجام ایک ہے ۔اسی طرح کامعاملہ کنونشل اوراسلامی بینکاری کاہے،بظاہردکھنےمیں اگرچہ ایک نظرآتےہےلیکن معاملےکی حقیقت مختلف ہونےکی وجہ سےدونوں کاحکم مختلف ہے۔

بینک کے بنیادی حصے :

 بینک کی تمویلی سرگرمیوں کو عام طور پر دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جا تا ہے :

ا ۔اثاثہ جاتی حصہ ( Asset Side ): اس حصے میں بینک اپنے تمویل کار ( کلائنٹ ) کو مختلف تمویلی سہولیات فراہم کرتا ہے جیسے کنویشنل بینک اپنے کلائنٹس کو سودی قرضے دیتے ہیں جب کہ اسلامی بینک مرابحہ ، اجارہ ، سلم        اور استصناع وغیرہ(جوکہ Islamic Mode of Financingہے،ان)کےذریعے تمویلی سہولیات (Financacing Facility) فراہم کرتے ہیں ۔

۲۔ ذمہ داری والاحصہ Liability Side) ): اس حصے میں سودی بینک اپنے ڈیپازیٹرز سے رقوم وصول کرتا ہے اور انہیں آگے سودی قرض کے طور پر دیتا ہے ، اس پر حاصل ہونے والا سود یا نفع اپنے اور ڈیپازیٹرز کے درمیان تقسیم کرتا ہے ۔ جبکہ اسلامی بینک اپنے ڈیپازیٹرز سے مشارکہ(Partnership)ا ور مضاربہ کی بنیاد پر رقوم وصول کر کے جائز کاروبار میں لگا تا ہے اور اس سے حاصل شدہ نفع میں اپنے ڈیپازیٹرز کو شریک کرتا ہے ۔

۔ Asset Side میں کنویشنل اور اسلامی بینک میں فرق : Asset Side میں کنویشنل بینک کی تمویلی سرگرمی بنیادی طور پر سودی قرضہ ہے ۔ ظاہر ہے کہ سودی قرضہ گا ہک ( کلائٹ ) خواہ کسی بھی مقصد کے لئے لے ، معاملے کی حقیقت (Underline Transaction ) ایک ہی ہوتی ہے جبکہ اسلامی بینکوں میں کلائنٹ کی مختلف ضروریات کے پیش نظر مختلف معاملات انجام دیئے جاتے ہیں ۔ آج کل عام طور پر تین طرح کے معاملات زیاد و رواج پذیر ہیں ۔ 1۔مرابحہ، اجارہ ۳۔ مشارکہ متناقصہ ( ہوم مشارکہ ) ان کے علاو و بعض اوقات سلم اور استصناع کے ذریعے بھی تمویلی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں،جوکہ اسلامی طریقہ تجارت ہے۔

اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ مروجہ سودی بینکوں اور اسلامی بینکوں کے معاملات کس طرح ایک دوسرے سے مختلف ہیں تا کہ ہمارے لئے حقیقت تک رسائی آسان ہو جائے ۔ جہاں تک مروجہ سودی بینکوں کے تمویلی معاملات ( Financing ) کا تعلق ہے تو اس کی حقیقت ایک ’ ’ سودی قرضہ ‘ ‘ کی ہے جس میں بینک رقم اس شرط پر کلائنٹ کو بطور قرض دیتا ہے کہ وہ اس پر کچھ اضافہ کر کے واپس کرے۔ ظاہر ہے کہ سودی قرض کا لین دین شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، اس لئے مروجہ سودی بینک کے تمومی معاملات ( Financing )شرعاً جائز نہیں ، البتہ بعض دیگر معاملات جیسے رقوم کی منتقلی ( Remittance ) اور بعض جائز خدمات ( Services ) کے سروس چارجز ( Service Charges ) وغیرہ ایسے ہیں کہ وہ شرعی اصولوں سے متصادم نہیں ، اس لئے ان کے انجام دینے کی اور ان پر مناسب فیس لینے کی شرعاً گنجائش ہے ۔(اسلامی اورسودی بینکاری میں فرق،مؤلفہ:مولانااعجازاحمدصمدانی صاحب)

مزیدتفصیل کےلیےدرج ذیل کتابوں کامطالعہ ان شاء اللہ تعالیٰ مفیدرہےگا:

  1. اسلامی اورسودی بینکاری میں فرق( مولانااعجازاحمدصمدانی صاحب)
  2. اسلامی بینکاری کی بنیادیں(شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)
  3. اسلامی بینکاری  تاریخ وپس منظراورغلط فہمیوں کاازالہ(شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی صاحب)

اسلامی نظام معیشت اوراسلامی بینکاری سےمتعلق کچھ کتابیں درج ذیل لنک پربھی ملاحظہ کیا جاسکتاہے:

https://muftitaqiusmani.com/ur/book_category/

حوالہ جات

 محمدعمربن حسین احمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 7محرم الحرام 1444ھ

n

مجیب

محمد عمر ولد حسین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔