| 78292 | سود اور جوے کے مسائل | انشورنس کے احکام |
سوال
آپ سےایک مسئلےمیں رہنمائی درکار ہےاورمیں آپ کاپیروکارہوں۔وہ یہ کہ میں اسٹیٹ لائف کی پالیسی لینا چاہتاہوں ،اس میں آپ کی رائے چاہیےکیوں کہ میرے پاس بہت سے علماء دین کے فتوےکی کاپی ہےمگرمیں آپ سے معلوم کرناچاہتاہوں کہ میں کون سے پالیسی لوں؟
اسٹیٹ لائف کےپاس موجودہ وقت میں دوطرح کی پالیسی ہےروایتی انشورنس یاتکافل جوکہ تمام علماء کےفتاویٰ کےعین مطابق ہے۔برائےمہربانی میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے کونسی پالیسی لینی چاہیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
روایتی انشورنس مختلف قسم کی شرعی قباحتوں (مثلاًسود،غرر اورقمار)پرمشتمل ہونےکی وجہ سےحرام اورناجائز ہے،تاہم مروجہ تکافل سےمتعلق مسئلہ درالافتاء جامعۃ الرشیدمیں زیرغورہے،اب تک اس بارےمیں حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
لہٰذااسٹیٹ لائف کی انشورنس پالیسی یاکسی دوسرےمروجہ روایتی انشورنس کی پالیسی لیناکسی صورت جائز نہیں ہے،البتہ اسٹیٹ لائف کی تکافل پالیسی سے متعلق دارلافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی سےفتویٰ طلب فرماسکتےہیں۔
حوالہ جات
...
محمدعمربن حسین احمد
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
26جمادی الآخر 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر ولد حسین احمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


