| 78437 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
ہمارے علاقے میں کاشت کاری کاپیشہ عام ہے، عشرکی ادائیگی کے حوالہ سے چندمسائل درپیش ہیں اورکچھ مشکلات درپیش ہیں،ان مسائل کاتسلی بخش جواب چاہئے،کیونکہ اس سے اکثرکاشت کار پریشان رہتے ہیں۔پہلاسوال یہ ہے کہ اگرزمین اجرت پرلی ہوئی ہوتواس صورت میں عشر کس کے ذمہ لازم ہوگا؟اورکتنالازم ہوگا عشر یانصف عشر؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زمین کرایہ پردینےکی صورت میں عشرکے حوالہ سے تفصیل یہ ہے کہ اگرزمینداراجرت بہت زیادہ لیتاہے اورمستاجرکےپاس بہت کم بچتاہے توعشر موجر(مالک) پرہے اوراگرموجر(مالک) کرایہ کم لیتاہے،مستاجر(کرایہ دار)کوزیادہ بچتاہے توعشر مستاجر پرہے۔(احسن الفتاوی:347/4)
اگرزمین بارانی ہے توعشرلازم ہوگااوراگرٹیوب ویل یانہری پانی سے سیراب ہوتی ہےتونصف عشرلازم ہے۔
حوالہ جات
(احسن الفتاوی:347/4)
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۱/جمادی الاولی ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


