03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متنازعہ زمین میں قبرستان بنانا
78406وقف کے مسائلقبرستان کے مسائل

سوال

السلام علیکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ :

سوات میں ایک گاؤں ہے جس کا نام لاخار ہے،اس میں ایک زمین ہے جس پر فریقین کے درمیان تنازع چل رہا تھا،ایک فریق یعنی فریق اول دو بھائی تھے،جبکہ گاؤں کے بقیہ لوگ ان کے مقابلے میں فریق دوم تھا،فریق اول یعنی دو بھائی قسم کھانے کے لئے تیار تھے اور عدالت میں کیس کرکے جیت گئے،لیکن چونکہ بقیہ گاؤں کے اکثر لوگ دوسری طرف تھے،اس لئے کیس جیتنے کے باوجود یہ دونوں بھائی گاؤں کے لوگوں سے صلح پر رضامند ہوگئے،پھر علاقے کے کچھ معززین درمیان میں آئے اور انتشار ختم کرنے کے لئے فریقین کے درمیان صلح کردی،جس کے مطابق نصف زمین فریق اول یعنی دونوں بھائیوں کو دےدی گئی اور بقیہ آدھی زمین بقیہ گاؤں والوں کو۔

اب صلح کے بعد گاؤں والوں کا دعوی ہے کہ جس جس نے ان دو بھائیوں کے خلاف کیس میں تعاون کیا اور اپنا مال خرچ کیا یہ نصف زمین صرف ان لوگوں کی ہے،اب مسئلہ یہ ہے کہ گاؤں میں چار قومیں آبادہیں،جن میں سے ایک قوم  کےبائیس افراد نے ،دوسری قوم کے چودہ افراد نے،تیسری قوم کے بارہ افراد نے،جبکہ چوتھی قوم کے چھ افراد نے اس میں اپنا مال خرچ کیا۔

صلح کے بعد تین قوموں نے زمین آپس میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کرلی،اس بات کو مدنظر نہیں رکھا گیا کہ کس قوم کے کتنے افراد نے تعاون کیا،جبکہ چوتھی قوم جس کے چھ افراد نے تعاون کیا تھا ان سے کہا گیا کہ چونکہ آپ کے لوگوں نے فلاں قوم کے لوگوں کے پاس رقم جمع کروائی تھی،اس لئے آپ کا حصہ اس قوم کے ساتھ ہے۔

تقسیم کے بعد ہر قوم نے اپنے حصے میں آنے والی زمین اپنی قوم کے لوگوں کے قبرستان کے طور پر وقف کردی ہے،جبکہ چوتھی قوم کو اس سے محروم رکھا گیا ہے،اس تمہید کی روشنی میں آپ سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1۔جب زمین کیس میں پیسے خرچ کرنے کی بنیاد پر ملی ہو تو جس قوم کے چھ بندوں نے مال خرچ کیا اگرچہ کسی

دوسری قوم کے افراد کے ذریعے خرچ کیا،کیا ان کا اس زمین میں حصہ نہیں ہوگا؟

2۔اگر اس قوم کا اس زمین میں حصہ ہو تو پھر حصہ نہ دینے کی وجہ سے بقیہ قوم کے لوگوں کا اس زمین  کو قبرستان کے لئے وقف کرنا صحیح ہوگا؟ اور لوگوں کے لئے اس جگہ اپنے مردوں کی تدفین جائز ہوگی؟

3۔جس قوم کے چھ افراد نے کسی دوسری قوم کے افراد کو پیسے حوالے کئے اگر ان کا حصہ ان کے ساتھ مشترک مانا جائے تو پھر سوال یہ ہے کہ اس قوم کے بارہ افراد نے جتنی رقم خرچ کی تھی دوسری قوم کے چھ افراد نے ان کے برابر رقم خرچ کی تو پھر اس قوم کے حصے میں آنے والی زمین دونوں قوموں کے درمیان نصف نصف ہوگی یا کوئی اور صورت ؟

 4۔اگر یہ قوم اس قوم کو اس کا حصہ نہ دیں جن کے افراد نے کیس میں پیسے ان کے ذریعے خرچ کئے تھے ،تو پھر اس قوم کے افراد کے لئے اس زمین اپنے لوگوں کی تدفین جائز ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔جب پورے گاؤں کے ساتھ صلح ہوئی ہے توزمین فقط ان قوموں میں تقسیم کرنا جنہوں نے رقم خرچ کی ہے،درست نہیں،اس میں تمام لوگوں کا حق ہے،اور پھر شرعی طور پر اس کے وقف میں تمام  قوموں کی رضامندی ضروری ہے۔

2۔ وقف کےلیےموقوفہ جائیداد کاملکیت میں ہوناضروری ہے،اس لیےزمین پر قبضہ کرکےاسے قبرستان میں شامل کرنے سےشرعاًیہ زمین قبرستان کے لیےوقف نہیں ہوئی ہے، اورنہ اس میں مردے دفناناجائز ہے۔

3۔زمین تمام قوموں کی ہے،اس لیے سب اس میں برابر شریک ہیں۔

4۔زمین کی تقسیم چونکہ درست طریقے سے نہیں ہوئی ہے،اس لیے شرعا ابھی یہ سب میں مشترک ہے،لہذا اس میں تدفین شروع نہ کی جائے۔بلکہ درست طریقے سے تقسیم کے بعد وقف کی جائے اور پھر مرنے والوں کی تدفین کی جائے۔

واضح رہے کہ کیس میں جن لوگوں نے خرچہ کیا ہے اگر وہ دوسرے سب لوگون کی رضامندی سے کیا ہے تو اس رقم کی ادائیگی کا وہ مطالبہ کرسکتے ہیں،البتہ اگر دوسروں کی طرف سے ان کو خرچہ کرنے کی اجازت اور اختیار نہیں تھا تو مطالبہ کا حق نہیں۔

حوالہ جات

وفی الشامیة(4/ 340):

(وشرطه ‌شرط ‌سائر ‌التبرعات) كحرية وتكليف۔

وفي الرد:(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت

الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف، حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح، وإن ملكه بعد بشراء أو صلح، ولو أجاز المالك وقف فضولي جاز۔

وفی الھندیة(2/ 353):

(ومنها) الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

11/جمادی الاولی1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب