| 78535 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایسی محفل قراءت کے لیے مدرسے کے فنڈ سے یا طلبہ کو مساجد میں بھیج کر چندہ کروانا یا چندہ دینا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مدرسے کے وقف فنڈ سے تو اس کے لئے رقم نکالنا درست نہیں،اسی طرح تلاوت پر اجرت دینے کی نیت سے چندہ کرنا جائز نہیں،البتہ لوگوں میں قرآن اور تجوید کا شوق بڑھانے کی نیت سے قراء حضرات کے آنے جانے یا طے کئے بغیر انہیں اپنی طرف سے ہدایا دینےاور تقریب کے دیگر اخراجات کے لئے باوقار طریقے سے لوگوں کو چندے کی ترغیب دینے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (2/ 269):
"الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل".
"البحر الرائق " (5/ 233):
"الثامنة في وقف المسجد أيجوز أن يبنى من غلته منارة قال في الخانية معزيا إلى أبي بكر البلخي إن كان ذلك من مصلحة المسجد بأن كان أسمع لهم فلا بأس به وإن كان بحال يسمع الجيران الأذان بغير منارة فلا أرى لهم أن يفعلوا ذلك".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
20/جمادی الاولی1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


