| 78742 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں میری شادی کو 26 سال ہو چکے ہیں۔ شادی کے دو سال بعد میاں صاحب نے میرے کمرے میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر شراب نوشی کی۔ جب میں نے اعتراض کیا تو اس نے مجھے گالی دی اورمجھے کہا جاؤ تمہیں میری طرف سے طلاق ہے ۔ اگلے دن مجھے اپنے والدین کے گھر لے جایا گیا اور ساری بات کا اعتراف کر لیا۔ 3 یا 4 سال کے بعد ایک بار پھر میاں صاحب رات کو گھر نہیں آئے بلکہ صبح سویرے آئے تو نشے کا اثر تھا ،میں نے غصہ کیا کہ گھر میں کوئی فون بھی نہیں تھا ،میں رات بھر پریشان رہی ۔ آپ مجھے بتا سکتے تھے کہ میں رات کو گھر نہیں آؤں گا۔ اس پر بھی جھگڑا ہوا اور والد کے سامنے میاں نے مجھے دوسری طلاق دی ، میرے والد مجھے اپنے ساتھ لے گئے، بزرگوں نے علماء سے مسئلہ کا حل پوچھ کرہم دونوں میں صلح کرائی اور 15 یا 20 دن کے بعد میں واپس اپنے سسرال چلی آئی ۔ اس کے بعد آج سے 5 سال پہلے میاں صاحب مجھے میر ے والد کے گھر لے گئے اور اگلے دن سےلینے نہیں آئے، فون پر کہاکہ میں رکھنا نہیں چاہتا، پھر میرے چچا نے صلح کراکے ان کے گھر بھیجا۔ واپسی کے اگلے دن ان کے ایک بزرگ نے ہم دونوں کا دوبارہ نکاح پڑھادیا۔
6 دن پہلے میرے شوہر نے غصے میں مجھے کہا کہ میں نےتمہیں فارغ کردینا ہے ۔ میرا بیٹا جوان اور شادی شدہ ہے، اس نے جواب میں کہا کہ ہم تھک گئے ہیں روز روز کے جھگڑوں سے ٹھیک ہے ختم کردیں، میاں نے کاغذ اور پنسل منگوایا ، ہم اپنے عزیز و اقارب کے پاس مکہ مکرمہ آئے ہوئے تھے عمرہ ادا کرنے، وہ منع کرتے رہے، لیکن اس نے لکھ کر طلاق دے دی، اب وہ کہتے ہیں کہ میں نے دوبارہ نکاح کے بعدپہلی طلاق دی ہے یعنی ان کے نزدیک پچھلی دو طلاق مؤثر نہیں رہیں تجدید نکاح کے بعد، اس لئے وہ اس طلاق کو پہلی سمجھ رہے ہیں ۔
میاں صاحب شروع سے جس ماحول میں پلے بڑھے وہاں حلال اور حرام سب جائز تھا ۔ میرا اس کے ساتھ ہمیشہ ایسی باتوں پر جھگڑا ہوجاتا تھا۔ میرے تین بچے ہیں۔ بڑے بیٹے کی عمر 25 سال اور دوسری بیٹی کی عمر 22 سال ہے۔ اس کے بعد 12 سال بعد اللہ نے مجھے بیٹی عطا کی، وہ اس وقت 10 سال کی ہے ۔
آج سے 8 سال پہلے میاں صاحب کو اپنے پراپرٹی کے کاروبار میں 3.4 کروڑ کا نقصان ہوا تھا ، اس کے بھائی پر قتل کا مقدمہ بن گیا۔ مختلف صدموں کی وجہ سے وہ ڈپریشن میں چلے گئے۔ اور بھائی کی وجہ سے جیل میں بھی رہے، جیل سے واپس آکر مجھ پر شک کیا کہ میرے جانے کے بعد تم 4-5 مردوں کے ساتھ میل جول رکھتی رہی ہو۔اورجن مردوں کے وہ نام لیتے ہیں ان میں سے تین کو میں جانتی ہی نہیں، ایک اپنے بہنوئی کا نام لیتے ہیں جن کے ساتھ ان کی کاروباری شراکت داری ہے، اور انہوں نے ان کے ساتھ مختلف جھگڑوں میں ہمیشہ میرے لئے بڑا بھائی یا باپ بن کر میری حمایت کی، وہ میرے لیے باپ کی طرح قابل احترام ہیں۔
یہ مختصر حالات بیان کردئیے گئے ہیں، میاں صاحب نفسیاتی ڈاکٹر سے بھی علاج کرواتے رہے ہیں۔ اور وقتاً فوقتاً دوا بھی شروع کر دیتے ہیں۔
1: کیا نکاح باقی ہے؟ اگر باقی نہیں توکیا نکاح کی کوئی صورت ہے؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دوطلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کرنے سےتین طلاقوں کااختیارحاصل نہیں ہوجاتا،ایک طلاق کااختیارباقی رہتاہے،لہذاصورت مسؤلہ میں دوبارہ نکاح کے بعدایک طلاق دینے سےآپ اس مرد پرہمیشہ کے لئے حرام ہوچکی ہیں،اس مرد کے ساتھ آپ کانکاح شرعی حلالہ کے بغیرنہیں ہوسکتا ہے۔
شرعی حلالہ کامطلب یہ ہے کہ مطلقہ خاتون عدت گذارنے کے بعدکسی دوسرے مردسے شرعی طریقہ (دومردیاایک مرداوردوعورتوں کی موجودگی) کے مطابق نکاح کرے،اب اگریہ شوہرصحبت کرکے طلاق دیتاہے تواس خاتون کاعدت مکمل کرنے کے بعدپہلے شوہرسے نکاح کرنادرست ہوگاورنہ نہیں۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۱/جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


