03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عمرہ کے دوران عدت کاحکم
78744طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

اگرمجھے طلاق ہوجاتی ہے تومیں اس وقت عمرہ کے لئے سعودیہ میں ہوں  اورعمرہ کرکے مدینہ جارہی ہوں تواس کاکیاحکم ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرآپ مکہ مکرمہ میں ہیں اورعمرہ کرلیاہے یامدینہ میں ہیں اورآپ کے لئے واپس پاکستان آناممکن ہے تو عدت پاکستان آکرگزاریں اوراگراحرام باندھ چکی ہیں یاانتظامی اورقانونی مسائل کی وجہ سے فوری واپسی ممکن نہیں توعمرہ کرلیں(،واضح رہے کہ عمرہ کے افعال کے بعد اپناساراوقت قیام گاہ میں گزاریں اورسخت ضرورت کے بغیرباہرنہ نکلیں۔

حوالہ جات

(ملخص جدیدفقہی مسائل599/13)

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۱۱/جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب