03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک وارث نےٹھیکہ  لےلیاتوسال مکمل ہونےسےپہلےٹھیکہ ختم کیاجاسکتاہے؟
78911میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال: اگرکوئی وارث مجبورہوسال بھرانتظارنہ کرسکےاورٹھیکہ مسترد کردےتوکیاوہ اس وارث بھائی کےٹھیکہ کوسال مکمل ہونےسےقبل مسترد کرکےاپناحصہ وصول کرسکتاہے؟

مجبور یعنی اپنی زمین اپنے پاس لے کر فروخت کرنا چاہے تا کہ پیسے سے کوئی کام کرے ۔ اور اسکے علاوہ چارہ نا ہو

        

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرکوئی ایک وارث بھی اس ٹھیکہ کےمعاملےپرراضی نہ ہوتودوسرےبھائی کاٹھیکہ پرلیناشرعادرست نہیں تھا،لیکن اگرتمام ورثہ کی رضامندی سےٹھیکہ کامعاملہ ہوگیاتوسال مکمل ہونےسےپہلےٹھیکہ کومستردکرنادرست نہیں ہوگا،الایہ کہ کوئی  ایساعذرپیش آگیا، جس کی وجہ سےٹھیکہ کوبرقراررکھنامشکل ہو(جیسےصورت مسئولہ میں) توایسی صورت میں یہ ایک وارث (بھائی )خاص اپنےحصےکی حدتک ٹھیکہ کےمعاملےکو ختم کرسکتاہے۔

حوالہ جات

"العناية شرح الهداية" 12 / 474:

قال ( وتفسخ الإجارة بالأعذار عندنا ) تفسخ الإجارة بالأعذار ۔۔۔۔۔( ولنا أن المنافع غير مقبوضة وهي المعقود عليها فصار العذر في الإجارة كالعيب قبل القبض في البيع فتفسخ به ) كالبيع ( إذ المعنى المجوز للفسخ يجمع الإجارة والبيع جميعا ، وهو ) أي المعنى الجامع ( عجز العاقد عن المضي في موجب العقد إلا بتحمل ضرر زائد لم يستحق به ، وهذا هو معنى العذر عندنا )۔

"رد المحتار" 24 / 366:

باب فسخ الإجارة تفسخ بالقضاء أو الرضا ( بخيار شرط ورؤية ) كالبيع۔

"تحفة الفقهاء للسمرقندي" 2 / 360:

ثم الاجارة تفسخ بالاعذار المخصومة عندنا، وإن وقعت الاجارة صحيحة لازمة، بأن لم يكن ثمة عيب ولا مانع من الانتفاع۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

16/جمادی الثانیہ    1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب