03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بنو عباس کو زکاۃ دینا
79088زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

عباسی خاندان کو زکوٰۃ دینا شرعاً ممنوع ہے ،لیکن اس معاشی تنگی اور بیروزگاری کے دور میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اس کے حقدار ہیں کہ ان کی مالی مدد کی جائے اور اس کے لیے زکوٰۃ کا مال دینا کیسا ہے،اور کچھ لوگ حیلہ کے ذریعے اس کی ادائیگی کو جائز قرار دیتے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جو خاندان حضرت  عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں،ان کو  زکاۃ اور صدقات واجبہ  کی رقم نہیں دے سکتے کیونکہ وہ اس کا محل نہیں ،اس لیے ان کو مجبوری کی حالت میں بھی زکاۃ دینا جائز نہیں کیونکہ وہ لوگوں کے مال کا میل کچیل ہوتی ہے،اوریہ  اعلی نسب  کے لوگ ہیں ان کے نسب کی عزت اور توقیر کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کو ایسا مال  نہ دیا جائے،البتہ اہل ثروت اور مالدار لوگوں کو چاہیے ان کی امداد نفلی صدقات اور عطیات وغیرہ  سے کریں۔

البتہ حیلہ کر کے زکوۃ کامال غریب سادات کو دیا جا سکتا ہے،جس کی صورت یہ ہوگی کہ آپ کسی مستحق زکاۃ  کو زکاۃ کا مالک بنا کر، اس کو ساتھ یہ بھی کہ دیں کہ فلاں آدمی  بہت مجبور ہے اگر آپ اس کو دے دیں تو یہ زیادہ مناسب ہوگا،لیکن اس کو مجبور نہ کیا جائے اگر وہ دلی خوشی سے دے دے تو جائز ہوگا وگرنہ  وہ غریب ہی اس کا مالک ہوگا جہاں چاہے وہ اس زکاۃ کے مال  کو خرچ کر سکتا ہے،اس طرح حیلہ کرنے میں کوئی غدر اور دھوکہ نہیں ہے ۔          

حوالہ جات

في المحیط :ولا یجوز أن یعطي من الزکاۃ فقراء بنی ھاشم ،ولا موالیھم،قال علیہ الصلاۃ والسلام:

(الصدقۃمحرمۃ علي بنی ھاشم ومولی القوم من أنفسھم )،وقال علیہ الصلاۃ والسلام :(یا بنی ھاشم  إن اللہ کرہ لکم  غسالۃ الناس) قال :وبنوا ھاشم الذین تحرم علیھم الصدقۃ:آل عباس،وآل جعفر،وآل عقیل وآل عليوإنما تحرم علی ھؤلاء الصدقۃ الواجبۃ من العشور،والنذور،والکفارات،فأما الصدقۃ علی وجہ التصدق والتطوع لابأس. 

والحیلۃ  لمن أراد ذلک  أن یتصدق بمقدار زکاتہ علی فقیر،ثم یأمرہ بعد    ذلک  بالصرف لھذہ الوجوہ،فیکون  لصاحب المال ثواب الصدقۃ،وللفقیر ھذہ  القربۃ.(المحیط البرھاني:3/212)

في الدر مع الرد:ولا یصرف  إلی بناء مسجدولا إلی بنی ھاشم  إلا من أبطل  النص قرابتۃ،وھم  بنو لھب  فتحل لمن أسلم منھم کما تحل لبنی المطلب. ثم ظاھر المذھب إطلاق المنع،وقول العینی والھاشمی.

   ولا إلی موالیھم،وجازت التطوعات من الصدقات و غلۃ الأوقاف لھم أي لبنی ھاشم،قولہ:(إطلاق المنع الخ)

  یعنی   سواء في ذلک کل الأزمان وسواء في ذلک بعضھم لبعض  ودفع غیرھم لھم.(الشامیۃ:3/299)

      في البدائع:ومنھا:أن لایکون من بنی ھاشم ؛لما روي عن رسول للہ ﷺ أنہ قال:(یامعشر بنی ھاشم ، إن اللہ کرہ لکم  غسالۃ الناسفقال:یا أبا رافع إن الصدقۃ حرام علی محمد وآل محمد...وبنوا ھاشم الذین تحرم علیھم  الصدقات:آل العباس ،وآل علی وأما صدقۃ التطوع :فیجوز دفعھا إلی ھؤلاء،والدفع إلیھم  أولي لأن فیہ أجرین:أجر الصدقۃ وأجر الصلۃ.(بدائع الصنائع:2/481)                                                                                       

  سید سعد عمر شاہ

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید،کراچی

21/ جمادی الثانیۃ /۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید سعد عمر شاہ بن سید مہتاب شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب