| 79208 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
آج کل لوگ قسطوں پرپلاٹ خریدتے ہیں،جس کاقبضہ عموما اقساط مکمل ہونے کے بعدملتاہے،جبکہ خریدوفروخت پہلے بھی کرتے ہیں لوگ،اگرکسی نے پلاٹ بک کرایا ہوتواس نیت سے کہ جب کبھی پیسے کی ضرورت ہوگی یااچھی قیمت لگی توفروخت کردوں گا توکیاایسے پلاٹ پرزکات ہے؟،زکات کے لئے کس رقم کااعتبارہوگا جوجمع کرادی ہے یاجوپلاٹ کی موجودہ قیمت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قسطوں پرپلاٹ خریدنے سے بھی خریدار اس پلاٹ کامالک بن جاتاہے،لہذااگر اس نےپلاٹ فروخت کرکے نفع کمانے کی نیت سے خریداہواورتاحال یہ نیت باقی بھی ہو توایسے پلاٹ پر زکوة واجب ہے یعنی خریدتے ہی اس پرزکوة کے احکام جاری ہوناشروع ہوجائیں گے،البتہ قبضہ نہ ملنے کی صورت میں زکوة کی ادائیگی قبضہ سے پہلے لازم نہیں،قبضہ ملنے کے بعد گزشتہ تمام سالوں کی زکوة لازم ہوگی۔زکوۃ کے حساب میں پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو کااعتبارہوگا یعنی جوبھی قیمت پلاٹ کی مارکیٹ میں ہوگی تواس کااعتبارکرکے زکوۃ کاحساب کریں گے۔
حوالہ جات
فی رد المحتار (ج 7 / ص 4):
”والأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة بشرط عدم المانع المؤدي إلى الثنى وشرط مقارنتها لعقد التجارة وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض “
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 5 / ص 426):
”إن المبيع قبل القبض لا تجب زكاته على المشتري وذكر في المحيط في بيان أقسام الدين أن المبيع قبل القبض ، قيل : لا يكون نصابا ؛ لأن الملك فيه ناقص بافتقاد اليد ، والصحيح أنه يكون نصابا ؛ لأنه عوض عن مال كانت يده ثابتة عليه ، وقد أمكنه احتواء اليد على العوض فتعتبر يده باقية على النصاب باعتبار التمكن شرعا ا هـ فعلى هذا قولهم : لا تجب الزكاة معناه قبل قبضه وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي “
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۵/رجب ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


