| 79862.62 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
گزارش ہے کہ میری شادی کو ابھی صرف چھ ماہ ہوئے ہیں،میری بیوی بہت بدزبان ہے اور اکثر میری والدہ سے جھگڑتی رہتی ہے،دو ہفتے پہلے اس نے میری والدہ کے ساتھ حد سے زیادہ بد تمیزی کی تو بات بڑھ گئی۔اس کے بھائی آ کر اسے لے گئے۔اس سارے واقعے کے بعد میں میسج پر بیوی سے با ت کر رہا تھا اور اس دوران میں نے بیوی سے کہا کہ تم صرف اس صورت میں ہی میرے ساتھ دوبارہ رہ سکتی ہو کہ تم خود گھر آؤ،میں لینے نہیں آؤں گا اور آکر میری والدہ سے معافی مانگو،لیکن اس نے معافی مانگنے والی بات سے انکار کر دیا۔اس بات پر مجھے غصہ آیا اور میں نے میسج لکھا کہ"اگر ایسے ہی ہے تو پھر میری طرف سے تمہیں طلاق،دفعہ ہو جا"۔اس وقت میرا بڑا بھائی اور بھابھی میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے،ان سے میں نے کہا کہ یہ میسج میں نے اسے ڈرانے کے لیے کیا ہے،اگر یہ امی جان سے معافی مانگنے پے آمادہ ہو جاتی ہے تو میں اسے طلاق نہیں دوں گا۔میرے آخری میسج کے بعد میری بیوی رونے لگی اور فون بند ہو گیااور اس کے بعد ہماری مزید کوئی بات نہیں ہوئی۔اب اس نے پیغام بھیجا ہے کہ میں آپ کی ہر شرط ماننے پر تیار ہوں آپ مجھے معاف کر دیں،میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔
اس وقت میں نے ڈرانے کے لیے میسج کر تو دیا پر اب بہت پریشان ہوں کیونکہ میری بیوی حمل سے ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ میسج پر طلاق دینے سے کیا طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟اور اگر ہو گئی ہے تو ہمارے دوبارہ ساتھ مل کر رہنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟شکریہ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میسج کے ذریعے دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔آپ کی طرف سے میسج پر لکھے جانے والے اس جملے:"اگر ایسے ہی ہے تو پھر میری طرف سے تمہیں طلاق!"اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی،اور "دفعہ ہو جاؤ" کنایات میں سے ہے اور طلاق کا موقع بھی ہے،لہذا اس کے لیے الگ سے نیت کی ضرورت نہیں،صرف "دفع ہو جاؤ" کہنے سے ہی ایک مزید طلاقِ بائن واقع ہو گئی ہے ،لہذا آپ کی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اوراب بغیر نکاح کے رجوع نہیں ہو سکتا،آپ عدت کے دوران یا عدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔لیکن آئندہ کے لیے آپ کو صرف ایک طلاق کا حق حاصل ہوگا۔
حوالہ جات
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ: الكتابة على نوعين ،مرسومة وغير مرسومة ،ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا، مثل ما يكتب إلى الغائب ،وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا ،وهو على وجهين، مستبينة وغير مستبينة ،فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته ،وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ،ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى ،وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة، إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو.(الفتاوی الھندیۃ:1/378)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:وفي أنت الطلاق أو طلاق أو أنت طالق الطلاق أو أنت طالق طلاقا ،يقع واحدة رجعية إن لم ينو شيئا.(الدرالمختار:3/251)
قال العلامۃ علي بن أبي بكرالمرغيناني رحمہ اللہ:وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض.(الهداية: 2/ 126)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: كنايته عند الفقهاء :ما لم يوضع له أي الطلاق واحتمله وغيره ،فالكنايات لا تطلق بها قضاء إلا بنية أو دلالة الحال، وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
(الدرالمختار:3/297)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل:6/468،500)
محمد عمر بن محمد الیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
28رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


