| 79859 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم! میرا ایک دوست ہنڈی کاکام کرنے والے بندے کے لیے اکاونٹس کا کام کرتا ہے اور وہ بندہ اسے مہینے کی تنخواہ دیتا ہے۔ برائے کرم شرعی راہنمائی فرما دیں کہ ہنڈی کا کام کرنا اور ہنڈی کا کام کرنے والے کے ہاں ملازمت کرنا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہنڈی کا کاروبار قانونی طور پر منع ہے،لہذا یہ جائز نہیں۔اگر قانونی اجازت ہو تو اس کے جائز ہونے کے لیے مزید یہ شرائط ضروری ہوں گی:
1 ۔دوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ تبادلہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق کیا جائے ۔
2۔ کسی ایک جانب سے سودا ہوتے وقت رقم وصول کی جائے۔
مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ نہ رکھا گیا تو یہ معاملہ سرے سے ناجائز ہوگا اور اس کے بدلے حاصل ہونے والی کمائی حرام ہوجائے گی،اور اگران شرائط کی پاسداری پائی جا رہی ہو اور قانوناً منع ہو تو قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا ۔
ملازمت میں بھی یہی تفصیل ہو گی کہ اگر اصل کاروبار ہی حرام طریقے سے ہو تو تنخواہ حرام ہو گی ورنہ قانون شکنی کا گناہ ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.وحكمها وقوع الملك في البدلين(الدرالمختار:6/5)
قال العلامۃ علاء الدين الكاساني رحمہ اللہ: وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته؛ لأنها طاعة الإمام، إلا أن يأمرهم بمعصية، فلا تجوز طاعتهم إياه فيها؛ لقوله عليه الصلاة والسلام :لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق.ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا، فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب، كاتباع القضاة في مواضع الاجتهاد .والله تعالى عز شأنه أعلم.
(بدائع الصنائع:7/100)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: ولهذا قيل: إن الديون تقضى بأمثالها.(ردالمحتار:3/848)
محمد عمربن محمد الیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
28رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


