03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لڑکی کی بلوغت کی عمر
79984نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

ایک شخص نے شادی کی ہےاور اس لڑکی کے والد کا کہناہے کہ اس لڑکی کی عمر کم ہے۔اس کی عمر 20 سال ہےلیکن اس کا والد کہتاہے کہ اس کی عمر 17 سال ہے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنا،البتہ اس کے بھائی کا بنا ہوا ہے(بھائی کی تاریخ پیدائش:21/10/2002)۔لڑکی اپنےمذکورہ بھائی سے ایک سال چھوٹی ہے۔لڑکی نے کورٹ میں جاکر شادی کی ہے۔آیا یہ لڑکی شریعت کی رو سے بالغ اور شادی کے قابل ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ لڑکی کی عمر پندرہ سال ہونے پر لڑکی بالغ سمجھی جائے گی اگرچہ بلوغت کی علامات میں سے کوئی علامت ظاہر نہ ہو،البتہ لڑکی کی بلوغت کی کم سے کم عمر نو سال ہے یعنی نو سال پورے ہونے کے بعد لڑکی میں اگر بلوغت کی علامات مثلاً:احتلام ہونا،حیض آنا یا حمل کا ٹھہرنا،ان میں سے کوئی ایک علامت بھی ظاہر ہوجائے تو لڑکی بالغ سمجھی جائے گی۔

لہٰذا صورت مسؤلہ میں چونکہ لڑکی کی عمر 20 یا بقول والد 17 سال ہےتو لڑکی بالغ ہے اورشادی کے قابل بھی ہےا گرچہ شناختی کارڈ نہیں بنا۔

حوالہ جات

مشکاة :  باب الولی فی النکاح واستئذان المرأة(3138)

عن أبي سعید و ابن عباس قالا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وأدبہ، فإذا بلغ فلیزوجہ فإن بلغ ولم یزوجہ فأصاب إثماً فإنما إثمہ علی أبیہ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 6/ 153

(بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ولم يذكر الإنزال صريحا لأنه قلما يعلم منها (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة به يفتى) لقصر أعمار أهل زماننا(وأدنى مدته له اثنتا عشرة سنة ولها تسع سنين)۔

البناية شرح الهداية 11/ 109

بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال إذا وطئ فإن لم يوجد ذلك فحتى يتم ثماني عشرة سنة، وبلوغ الجارية بالحيض والاحتلام والحبل، فإن لم يوجد ذلك فحتى يتم لها سبع عشرة سنة۔

الفتاوى الهندية (5/ 61)

بلوغ الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال، والجارية بالاحتلام أو الحيض أو الحبل، كذا في المختار. والسن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وعليه الفتوى۔

محمدمصطفیٰ رضا

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 23/شعبان/1444ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب