03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خاتون کے ترکہ میں شوہرِ ثانی اور اُس کی اولاد کے حصے کا حکم
79974میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون کا پہلا نکاح ہوا جس سے تین اولاد ہوئی۔ پھر خاتون کے شوہر کا انتقال ہوا۔ شوہر کے ترکہ میں سے 4ایکڑ زمین ملی جبکہ ایک بیٹا اور دو بیٹیوں کو الگ زمین ملی۔ کچھ عرصہ بعد خاتون کا دوسرا نکاح ہوا جس سے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ اب اس خاتون کا 2006ء میں انتقال ہوا۔ مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اس خاتون کو اس ک پہلے شوہر سے جو زمین ملی ہے کیا اس زمین میں سے دوسرے شویر سے جو اولاد ہے، اُن کا حق شریعتِ محمدی کی رُو سے بنتا ہے یا نہیں؟ اگر بنتا ہے تو کس حساب سے وراثت تقسیم ہوگی۔ اسی طرح اس زمین میں دوسرے شوہر کو بھی کچھ ملے گا یا نہیں؟ اگر ملے گا تو کیا تناسب ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خاتون کوپہلے شوہر سے جو کچھ وراثت میں ملا تھا وہ سب اس کی ملکیت میں آگیا تھا اور وہ اس کی مالکہ بن گئی تھی۔ مرحومہ کی وفات کے وقت اس کی تمام مملوکی جائیداد کو ترکہ شمارکیا جائے گا۔ مرحومہ کی تمام اولاد چاہے پہلے شوہر سے ہو یا دوسرے شوہر سے، اس  کے کل ترکہ میں وارث ہے ، اسی طرح دوسرا شوہر بھی اس کے کل ترکہ میں وارث ہے۔

اگر مرحومہ  کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو اس قرض کی  ادائیگی کی جائے، پھر اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی تک اسے پورا کیا جائے۔ پھر جو ترکہ باقی  بچ جائے اس کے کل 44 حصے کیے جائیں اور انہیں درج ذیل طریقے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کیا جائے ۔

نمبرشمار

ورثہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

شوہر (زندہ)

11

25%

2

بیٹی

3

6.8181%

3

بیٹی

3

6.8181%

4

بیٹی

3

6.8181%

5

بیٹا

6

13.6363%

6

بیٹا

6

13.6363%

7

بیٹا

6

13.6363%

8

بیٹا

6

13.6363%

کل

44

100%

حوالہ جات

﴿يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ ۖ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ،فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ﴾ [النساء: 11[

﴿ وَلَـكُم نِصفُ مَا تَرَكَ اَزوَاجُكُم اِن لَّم يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ، فَاِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَـكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكنَ مِنۢ بَعدِ وَصِيَّةٍ يُّوصِينَ بِهَآ اَودَ ينٍ﴾[النساء[12:

احمد الر حمٰن

دار الافتاء، جامعۃ الرشید کراچی

29/شوال/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احمد الرحمن بن محمد مستمر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب