03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مناسخہ کا حکم
80266میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

اس کے بعد ورثاء اس مکان میں رہتے رہے۔ 2010ء میں بڑے بیٹے عبدالوہاب کی شادی ہوگئی جس سے اس کے دو بیٹے ہیں۔ 2017ء میں عبدالوہاب نے یہ مکان توڑ کر نئے سرے سے تعمیر کرلیاجس پر تقریباً پندرہ لاکھ کا خرچہ آیا۔ 2022 میں عبدالوہاب کا انتقال ہوا ۔ ورثاء میں بیوہ اور دو بیٹے ہیں ۔ اب بیوہ تقاضہ کر رہی ہے کہ جائیداد میں اس کا حصہ دیا جائے۔ برائے مہربانی وضاحت کریں کہ جائیداد کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے والد مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ گھر  ، سونا،  نقدی، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب اس کا ترکہ یعنی میراث ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس کے بعد دیکھا جائے اگر اس کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر اس نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اُس میں ورثاء کےحصے درجہ ذیل جدول میں درج ہیں:

ورثاء

عددی حصے

فیصدی حصے

بیوی

1

12.5%(ثمن)

بیٹاعبدالوہاب

2

25%(عصبہ بنفسہ)

بیٹا 2

2

25%(عصبہ بنفسہ)

بیٹی 1

1

12.5٪(عصبہ بغیرہ)

 بیٹی 2

1

12.5٪(عصبہ بغیرہ)

بیٹی 3

1

12.5٪(عصبہ بغیرہ)

ٹوٹل

8

100٪

نوٹ: والد مرحوم کے متروکہ جائیداد میں عبدالوہاب کا جتناحصہ بنتا ہے وہ اس کے ورثاء کو دے دیں۔ عبد الوہاب کی میراث میں اس کی بیوی کو آٹھواں حصہ (12.5%) ملے گا باقی (87.5%) اس کے دونوں بیٹوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کیا جائیگا۔عبدالوہاب کے ورثاء میں جائیداد کی تقسیم کی تفصیل جدول میں درج ہے:

ورثاء

عددی حصے

فیصدی حصے

بیوی

2

12.5%(ثمن)

بیٹا 1

7

43.75% (عصبہ بنفسہ)

بیٹا2

7

43.75% (عصبہ بنفسہ)

ٹوٹلٍ

16

100٪

حوالہ جات

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ } [النساء: 12]

عنایت اللہ عثمانی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

10/ذی القعدہ/ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب