03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدین کا کسی خاص جگہ شادی پر مجبور کرنے کاحکم
80431نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

جناب  مفتی صاحب عرض  یہ ہے کہ   میں   گریجویشن  مکمل  کرنے کے ساتھ عالم کا کورس  بھی مکمل کرنے والا  ہوں ،میرے والدین مجھے  اپنے رشتے  داروں  میں ایک ایسی لڑکی سے   شادی پر مجبور کررہے  ہیں  جوکہ  پڑھی  لکھی  نہیں  ہے ،اور دیہات کی رہنے والی  ہے ،  میں   وہاں  شادی  کے لئے تیار نہیں  ہوں ،  لیکن  والدین  اس حد تک  مجبور کر رہے ہیں  کہ  کبھی مار پٹائی   تو  کبھی طعن وتشنیع ، نافرمان اور باغی کا  خطاب  ،اور  رشتے   داروں  کی شادی بیاہ  میں   شرکت سے روکنا  غیرہ ،دوسری   طرف  اگر میں ان کی بات   مان کر شادی  کرلوں تو مجھے خطرہ  ہے  کہ  میں حقوق  العباد ادا  نہیں کر سکونگا ،اب سوال   یہ ہے  کہ کیا   والدین  کا اسطرح  مجبور کرنا شرعا   درست ہے ؟  کیا  میرے  اوپر  ان کی بات ماننا  لازم  ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شادی وقتی  مصلحت  کے لئے  نہیں ہوتی بلکہ زندگی بھر    نباہ کرنے کے لئے  ہوتی ہے ، اس کے لئے  دونوں کی طبیعت  میں میلان اور ہم آہنگی  کا ہوناضروری  ہے ،اسی وجہ سے حدیث میں حکم دیا گیا ہے کہ لڑکا لڑکی کوشادی  سے پہلے ایک نظر دیکھ لے تا کہ بعد میں پشیمانی نہ ہو۔مشاہدہ یہی ہے کہ آپس کی ہم آہنگی کے بغیر شادی کارشتہ  مضبوط اور  پائدار  نہیں ہوتاجس کا نتیجہ عمومایہ نکلتاہے  کہ یا تودونوں کی زندگی لڑائی جھگڑے میں گذرتی ہے ، یا طلاق  کے ذریعہ  جدائی  ہوجاتی ہے یوں شادی کا مقصد   فوت  ہوجاتا  ہے ۔اور اس سے  اولاد کی زندگی بھی متائثر ہوتی ہے  کہ ماں باپ کی سرپرستی سے محروم ہوجاتی ہے،اس  لئے اگر  واقعة لڑکے  کو  لڑکی  پسند  نہ ہو   تو  والدین کے لئے کسی طرح درست نہیں کہ لڑکے کو اس جگہ  نکاح پر  مجبورکریں۔

البتہ مسئولہ  صورت میں  لڑکے کو  اپنے فیصلے پر  نظر  ثانی کرنا  چاہئے  کیونکہ ہوسکتا  ہے  کہ والدین  کا  پسند کردہ رشتہ  مستقبل  میں بہتر ثابت ہواور زیادہ باعث راحت  سکون ہو ،کیونکہ  اس میں  والدین کی  رضا ء کے  ساتھ ان کی  دعا ئیں بھی  شامل  ہونگی ،اور ان کی طرف سے تعاون بھی جاری  رہے گا ،جہاں  تک  بات ہے لڑکی  کے ان پڑھ  ہونے کی  تویہ عیب بھی  دور  ہوسکتا  ہے کہ شادی ہونے   کے بعد  شوہراس کو  گھر میں پڑھائیں  یا کسی بنات کے مدرسہ میں تعلیم  دلائیں ،لہذا  صرف  ان پڑھ ہونے کو  عذر بنا کر والدین کے پسند کردہ  رشتے کا انکار کرنا  اور  خود سے  پسند کرکے کوئی رشتہ طئے  کرلینا  یہ بھی  شرعا  پسندیدہ  طریقہ  نہیں  ہے ۔اس سے والدین   کی ناراضگی ،عدم تعاون اور خاندان  سے  قطع تعلقی  وغیرہ  بہت سی خرابیاں  پیدا ہوسکتی ہیں جن کا  برداشت کرنا  بعض دفعہ  انسان کے لئے بہت  مشکل ہوجاتا  ہے ،اس لئے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی  ضرورت ہے ۔  

حوالہ جات

مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 204)

عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إذا خطب أحدكم المرأة فإن استطاع أن ينظر إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل " . رواه أبو داود

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (10/ 57)

وعن المغيرة بن شعبة قال خطبت امراة فقال لي رسول الله هل نظرت إليها قلت لا قال فانظر إليها فإنه أي النظر إليها أحرى أي أقرب وأولى وأنسب أن يؤدم أي بأن يؤلف بينكما قال ابن الملك يقال أدم الله بينكما يأدم ادما بالسكون أي أصلح وألف وكذا آدم في الفائق الادم والإيدام الإصلاح والتوفيق من ادم الطعام وهو إصلاحه بالادام وجعله موافقا للطاعم والتقدير يؤدم به فالجار والمجرور أقيم مقام الفاعل ثم حذف ونزل المتعدي منزلة اللازم أي يوقع الادم بينكما يعني يكون بينكما يعني يكون بينكما الألفة والمحبة لأن تزوجها إذا كان بعد معرفة فلا يكون بعدها غالبا ندامة

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 248)

وبالبلوغ عن عقل زال العجز حقيقة وقدرت على التصرف في نفسها حقيقة فتزول ولاية الغير عنها وتثبت الولاية لها؛ لأن النيابة الشرعية إنما تثبت بطريق الضرورة نظرا فتزول بزوال الضرورة مع أن الحرية منافية لثبوت الولاية للحر على الحر، وثبوت الشيء مع المنافي لا يكون إلا بطريق الضرورة ولهذا المعنى زالت الولاية عن إنكاح الصغير العاقل إذا بلغ، وتثبت الولاية له      

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۲١ ذی قعدہ  ١۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب