03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سورہ الممتحبۃ تفہیم القرآن میں ذکر کردہ عبارت کی تحقیق
80353جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

تفہیم القرآن جو کہ مودودی نے لکھی ہے سورہ الممتحنۃ کی جوکہ سورہ نمبر 60 ہے کی آیت نمبر 10 میں مودودی نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص غیر مسلم ہوجائے تو تین ہیز سے قبل اس کے دوبارہ اسلام لانے پر مذکورہ شخص نکاح نہیں ٹوٹے گا فقہ شافعی کے تحت کیا یہ بات مودودی نے درست لکھی ہے یا اس نے جھوٹ لکھا ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تفہیم القرآن میں ابو الاعلٰی مودودی صاحب نے فقہ شافعی کے حوالے سے سوال میں مذکور  جو جزیہ بیان کیا ہے، وہ درست ہے۔البتہ فقہ حنفی میں شوہر کے مرتد ہونے کی صورت میں نکاح ختم ہوجاتاہے، شوہر  کے دوبارہ اسلام لانے کی صورت دورانِ عدت  یا عدت گزر جانے کے بعد شوہر اگر اپنی پہلی بیوی سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو اس کی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر سکتا ہے۔ تجدیدِ نکاح  لازم ہے۔  لیکن اگر عورت مرتد ہوجائے،اور مرتد ہونے کی وجہ شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو ، وہ دوبارہ اسلام قبول کر لے تو اس کا پہلے شوہر سے ہی نکاح کروایا جائے گا، اسے نکاح پر مجبور کیا جائے گا۔

مشائخ بلخ کا فتوی یہ ہے کہ عورت کے مرتد ہوجانے کی صورت میں نکاح فسخ نہیں ہوگا، عورت کے دوبارہ اسلام لانے کی صورت میں وہ شوہرِ اول کے نکاح میں برقرار رہے گی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 194)

وتجبر على الإسلام وعلى تجديد النكاح زجرا لها بمهر يسير كدينار وعليه الفتوى ولوالجية.

وأفتى مشايخ بلخ بعدم الفرقة بردتها زجرا وتيسيرا لا سيما التي تقع في المكفر ثم تنكر،

قال في النهر: والإفتاء بهذا أولى من الإفتاء بما في النوادر.

الفتاوى الهندية (1/ 339)

ارتد أحد الزوجين عن الإسلام وقعت الفرقة بغير طلاق في الحال قبل الدخول وبعده.

الفتاوى الهندية (1/ 340)

رجل ارتد مرارا وجدد الإسلام في كل مرة وجدد النكاح على قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - تحل له امرأته من غير إصابة الزوج الثاني.

الدر المختار للحصفكي (3/ 212)

ارتداد أحدهما) أي الزوجين (فسخ) فلا ينقص عددا (عاجل) بلا قضاء.

المهذب في فقة الإمام الشافعي للشيرازي (2/ 460)

إذا ارتد الزوجان أو أحدهما فإن كان قبل الدخول وقعت الفرقة وإن كان بعد الدخول وقعت الفرقة على انقضاء العدة فإن اجتمعا على الإسلام قبل انقضاء العدة فهما على النكاح وإن لم يجتمعا وقعت الفرقة.

روضة الطالبين وعمدة المفتين (7/ 142)

وإذا ارتد الزوجان أو أحدهما قبل الدخول، تنجزت الفرقة، وبعده نقف على العدة. فإن جمعهما الإسلام قبل انقضائها، استمر النكاح، وإلا، بان حصول الفرقة من وقت الردة.

البيان في مذهب الإمام الشافعي (6/ 105)

أما إذا وقع العقد صحيحا، ثم طرأ عليه أمر أخرجه عن حكم العقد، فإنه إذا زال ذلك المعنى.. عاد العقد صحيحا، كما نقول في زوجة الكافر إذا أسلمت، فإن وطأها يحرم عليه، فإذا أسلم الزوج قبل انقضاء العدة.. عاد العقد كما كان، وكذلك إذا ارتد الزوجان أو أحدهما.

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

18/ذو القعدہ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب