03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کم عمر والے جانور کی قربانی کا حکم
80500قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

ایک بکرے کے دو دانت نکلے ہوئے ہیں لیکن اس کا سال پورا ہونے میں کچھ دن باقی ہیں ۔کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ دو دانت ہیں تو خرید لو کیونکہ مناسب ریٹ میں مل رہا ہے۔ کیا ایسے بکرے کی قربانی ہوجائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جانور کی قربانی درست ہونے کے لیے اس کی عمر کا پورا ہونا ضروری ہے ۔بکرے کا دودانت والا ہونا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ قربانی کے لیےاس کی عمر پوری ہوچکی ہے، لیکن اگر یہ یقین ہو جائے کہ اس کی عمر پوری نہیں ہوئی تو پھر صرف دانتوں کا اعتبار نہیں ہوگا اور ایسے بکرے کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 322) (و) صح (الثني) فصاعدا من الثلاثة والثني (هو ابن خمس من الإبل، وحولين من البقر والجاموس، وحول من الشاة) بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 70) وأما سنه فلا يجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم من الأضحية إلا الثني من كل جنس إلا الجذع من الضأن خاصة إذا كان عظيما؛...................وتقدير هذه الأسنان بما قلنا لمنع النقصان لا لمنع الزيادة؛ حتى لو ضحى بأقل من ذلك سنا لا يجوز ولو ضحى بأكثر من ذلك سنا يجوز ويكون أفضل، ولا يجوز في الأضحية حمل ولا جدي ولا عجل ولا فصيل؛ لأن الشرع إنما ورد بالأسنان التي ذكرناها وهذه لا تسمى بها.

عبدالقیوم

دارالافتاء جامعۃ الرشید

25/ذوالقعدہ/1444

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالقیوم بن عبداللطیف اشرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب