| 80500 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
ایک بکرے کے دو دانت نکلے ہوئے ہیں لیکن اس کا سال پورا ہونے میں کچھ دن باقی ہیں ۔کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ دو دانت ہیں تو خرید لو کیونکہ مناسب ریٹ میں مل رہا ہے۔ کیا ایسے بکرے کی قربانی ہوجائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جانور کی قربانی درست ہونے کے لیے اس کی عمر کا پورا ہونا ضروری ہے ۔بکرے کا دودانت والا ہونا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ قربانی کے لیےاس کی عمر پوری ہوچکی ہے، لیکن اگر یہ یقین ہو جائے کہ اس کی عمر پوری نہیں ہوئی تو پھر صرف دانتوں کا اعتبار نہیں ہوگا اور ایسے بکرے کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 322) (و) صح (الثني) فصاعدا من الثلاثة والثني (هو ابن خمس من الإبل، وحولين من البقر والجاموس، وحول من الشاة) بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 70) وأما سنه فلا يجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم من الأضحية إلا الثني من كل جنس إلا الجذع من الضأن خاصة إذا كان عظيما؛...................وتقدير هذه الأسنان بما قلنا لمنع النقصان لا لمنع الزيادة؛ حتى لو ضحى بأقل من ذلك سنا لا يجوز ولو ضحى بأكثر من ذلك سنا يجوز ويكون أفضل، ولا يجوز في الأضحية حمل ولا جدي ولا عجل ولا فصيل؛ لأن الشرع إنما ورد بالأسنان التي ذكرناها وهذه لا تسمى بها.
عبدالقیوم
دارالافتاء جامعۃ الرشید
25/ذوالقعدہ/1444
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالقیوم بن عبداللطیف اشرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


