03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جاؤ تم آزاد ہو کا حکم
80473طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرا نام جویریہ خان ہے ،میرے اور میرے شوہر کے درمیان پچھلے 2 سال سے کوئی جسمانی تعلق نہیں ہے۔ آج سے 5 سال پہلے میرے شوہر نے غصے میں کہا تھا "جاؤ یار تم میری طرف سے آزاد ہو" اور ابھی 2 مہینے پہلے ہماری فون پر لڑائی ہو رہی تھی، وہ ملک سے باہر ہیں۔ ہماری لڑائی  اس بات پر ہو رہی تھی  کہ میں نے  کہا چھوڑدیں مجھے، تو انہو ں نے کہا: "جاؤ تم میری طرف سے آزاد ہو"،سالوں کا رشتہ 2 منٹ میں ختم ہو گیا ۔تمہارا  نام میرے نام سے ختم ہو گیا۔ جاؤ میں نے تمہیں آزاد کیا۔ تم یہی چاہتی تھیں  نا!۔ تو مجھے پوچھنا یہ ہے کہ ہمارا نکاح ختم ہو ا کہ نہیں؟ ۔

            آپریشن سے میرے بچے بند ہیں۔ میرے اور شوہر کے درمیان کوئی جسمانی تعلق بھی نہیں، تو مجھ پر  عدت ضروری ہے ؟۔

            وضاحت: سائلہ  سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ  پانچ سال پہلے  شوہر بیوی  کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی  تو بیوی نے شوہر سے کہا تھا کہ  آپ مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتے، جس پر  شوہر نے کہا کہ " جاؤ، تم آزاد ہو، ہٹا لو میرا نام، اپنے نام سے، میں نے تمہیں  آج آزاد کر دیا، سب ختم ہوگیا"۔ اس کے بعد بھی میاں بیوی اب تک  ساتھ رہتے رہے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ "جاؤ، تم میری طرف سے آزاد ہو" طلاق کے باب میں کنائی جملہ ہے، اس جملے کے ذریعہ طلاق اُس وقت واقع ہوتی ہے جب شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہو، یا اگر عورت بار بار طلاق کا مطالبہ کر رہی ہو، اور شوہر اُس کے مطالبے کے جواب میں یہ جملہ کہے، یا شوہر غصے کی حالت میں اس جملے کو کہے، تو ان سب  صورتوں میں  بیوی کو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اور آخری دونوں صورتوں میں اگر شوہر یہ دعویٰ کرے کہ اُس کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، تو قضاءً شوہر کا یہ دعویٰ معتبر نہیں ہوگا۔

            لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں پانچ سال پہلے آپ کی طرف سے طلاق کا مطالبہ کرنے پر شوہر نے "جاؤ، تم میری طرف سے آزاد ہو" کہا تھا، اس لیے آپ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے۔ نیز آپ کی عدتِ طلاق بھی مکمل ہوچکی ہے۔البتہ طلاقِ بائنہ کے بعد دوبارہ  ساتھ رہنے کے لیے نیا نکاح کرنا ضروری ہے، اور نکاح کے بغیر مرد و عورت کا ساتھ رہنا ناجائز ہے، اس لیے آپ دونوں اب تک نکاحِ جدید کے بغیر ایک ساتھ رہنے پر  توبہ و استغفار کریں، اور دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے دو گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کریں، نیز اس نکاح کے لیےنیا مہر مقرر کرنا ضروری ہے، اور آئندہ شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔( ماخوذ از  تبویب؛ حوالہ نمبر 80172)

حوالہ جات

الدر المختار (3/246):

"(ويقع الطلاق بلفظ العتق بنية) أو دلالة حال، (لا عكسه)؛ لأن إزالة الملك أقوى من إزالة القيد."

رد المحتار (10/495):

"(قوله: ويقع الطلاق إلخ) يعني: إذا قال لامرأته: أعتقتك، تطلق إذا نوى أو دل عليه الحال."

الدر المختار (3/296):

"( كنايته [الطلاق]) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق، ( واحتمله وغيره. (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء، (إلا بنية أو دلالة الحال)، وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب. فالحالات ثلاث: رضا، وغضب، ومذاكرة، والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا ... ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال، والقول له. (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع، وإلا لا. (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو؛ لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية؛ لأنها أقوى، لكونها ظاهرة، والنية باطنة."

رد المحتار (11/177):

"(قوله: تأثيرا) تمييز محول عن الفاعل: أي يتوقف تأثير الأقسام الثلاثة على نية. ط. (قوله: للاحتمال) لما ذكرنا من أن كل واحد من الألفاظ يحتمل الطلاق وغيره، والحال لا تدل على أحدهما، فيسأل عن نيته، ويصدق في ذلك قضاء."

رد المحتار (11/179):

"والحاصل أن الأول [ما يحتمل الرد] يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة. والثاني [ما يصلح للسب] في حالة الرضا والغضب فقط، ويقع في حالة المذاكرة بلا نية. والثالث [ما لا يحتمل الرد، وما لا يحتمل للسب] يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية."

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

25/ذو القعدہ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب