03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع کا حکم
80626طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میں مسمیٰ محمد اقبال نے  درجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر عدالت سے اپنی بیٹی کا خلع لیا ہے:

  1. لڑکے کے غیر عورتوں سے ناجائز تعلقات تھے۔
  2. لڑکا میری بیٹی پر تشدد کرتا تھا۔
  3. لڑکا بار بار کہتا تھا "میں تجھے چھوڑدوں گا" اور شادی کے آٹھ ماہ بعد پھر وہ ایک سال تک یہ کہتا رہا کہ طلاق کے پیپر آج دے دوں گا، کل دے دوں گامگر مہر کی وجہ سے اور ہمیں پریشان کرنے کی وجہ سے نہیں دیے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں تجھے ساری زندگی لٹکا کر رکھوں گا۔

میں نے ایک سال بچی کو گھر میں رکھا تاکہ معاملات بن جائے لیکن معاملات نہیں بن سکے۔ میں نے مجبوراً کورٹ  سے خلع لے لی ہے اور مہر چھوڑ دی ہے۔ کورٹ سے خلع لینے کے بعد لڑکے کے دستخط کے بغیر کیا میں بیٹی کی شادی دوسری جگہ کرسکتا ہوں؟ ابھی بیٹی کی دوسری جگہ رشتے کی بات چل رہی ہے۔ وہ خلع کے پیپر پر لڑکے کے دستخط مانگ رہے ہیں۔ آپ راہنمائی فرمائیں کہ ازروئے شریعت کیا خلع لینے کے بعد خلع کے پیپر پر لڑکے کا دستخط ضروری ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلے چند باتیں ذہن نشین کرلیں:

نکاح کو ختم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ کسی مناسب طریقے سے کوشش کرکے شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر وہ بغیر عوض کے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو پھر کسی عوض مثلا مہر وغیرہ کے بدلے اس سے خلع لینے کی کوشش کرلی جائے،اگر شوہر قصوروار ہوتو ایسی صورت میں اس کے لئے طلاق کے بدلے کوئی عوض لینا جائز نہیں،پھر اگر شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ خلع پراور نہ ہی بیوی کو ساتھ رکھ کر اس کے نان نفقہ وغیرہ حقوق ادا کرنے کے لیے تیار ہو، تو بیوی کے حقوق ادا نہ کرنے کی بنیاد پر فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کرنا جائز ہے، لیکن ایسی صورت میں یہ ضروری ہوگا کہ عدالت میں دو گواہوں سے اپنے دعوی کو ثابت کردیا جائے۔  اس طرح گواہوں کے ذریعہ اپنا دعوی ثابت کرنے کے بعد اگر قاضی یا عدالت فسخ نکاح کا فیصلہ کردے تو وہ فیصلہ نافذ ہوگا اور عدت گزارنے کے بعد آپ کی بیٹی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی لیکن اگر آپ نے گواہوں کے ذریعہ شوہر کا جرم ثابت نہیں کیا یا وہ جرم اس درجہ کا نہ ہو جس سے عدالت کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہو تو اس طرح کی عدالتی خلع کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوگی۔

صورت مسئولہ میں اگر شوہر کا تشدد اس حد تک تھا کہ اس کی بنیاد پر خلع کا مقدمہ درج کرنا جائز تھا، یعنی ناقابل برداشت مار پیٹ کرتا تھا، اور خلع لیتے وقت آپ  نے مذکورہ بالا طریقہ کار کو اپنایا تھا، یعنی گواہوں کے ذریعے شوہر کا جرم ثابت بھی کیا اور عدالت نے محض بیوی کے بیان پر فیصلہ نہیں سنایا، تو پھر عدالت کا یہی فیصلہ فسخ نکاح شمار ہوگا، جس کی وجہ سے بیوی کا نکاح ختم تصور ہوگااور اس پر شوہر کا دستخط ہونا بھی ضروری نہ ہوگا۔ اس صورت میں عدت گزارنے کے بعد بیوی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔ اور اگر شوہر کے خلاف دعوی کو عدالت میں گواہوں سے ثابت نہیں کیا گیا اور عدالت نے محض بیوی کے دعوی پر خلع کی ڈگری دی ہے تو عدالت کے یک طرفہ ڈگری جاری کرنے کا کوئی اعتبار نہیں، عورت کا نکاح باقی ہے کسی جگہ نکاح نہیں کرسکتی،  البتہ اگر شوہر یہ جانتے ہوئے کہ یہ خلع کی ڈگری ہے اور دلی رضامندی سے اس پر دستخط کردے تو یہ خلع یا عدالتی ڈگری معتبر ہوگی اور عورت کودوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہوگی۔

حوالہ جات

أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165)

وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.

حاشية ابن عابدين (3/ 498)

 قوله ( وإلا بانت بالتفريق ) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة ,بحر , قوله ( من القاضي إن أبى طلاقها ) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه

المبسوط للسرخسي (6/ 173)

(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.

عنایت اللہ عثمانی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

24/ذو  الحجہ/ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب