| 80662 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
یہ واقعہ 6 سال پرانا ہے، جب میری بہن 14 سال کی تھی، تب اس کا ایک بوائے فرینڈ تھا۔ ایک دن وہ، اس کا بوائے فرینڈ اور ان کے دو دوست (دونوں جوان لڑکے) سب لوگ اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے اور نکاح اور شادی کی بات کر رہے تھے اور ایک دوسرے کو تنگ کر رہے تھے، ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ اس کو ٹھیک سے یاد نہیں، لیکن اس کو اس بات کا یقین ہے کہ اس کے اور اس کے بوائے فرینڈ کے درمیان ایجاب و قبول جیسا کچھ ان دونوں لڑکوں کی موجودگی میں ہوا تھا۔ لیکن اس کو ایجاب و قبول کے جملے یاد نہیں اور اپنا یا اپنے بوائے فرینڈ کا جواب بھی یاد نہیں۔ اس نے کنفرم کرنے کے لیے ان دونوں لڑکوں سے رابطہ کیا اور پوچھا ان دونوں نے کہا کہ ان کو ایسا کچھ یاد نہیں اور پکا نہیں پتا۔ پھر اس نے اپنے بوائے فرینڈ سے پوچھا اس نے بھی کہا کہ نہیں نکاح ایسے نہیں ہوتا، نکاح کے لیے ولی کا اور خطبے کا ہونا لازمی ہے۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ میری بہن نے اس لڑکے سے پوچھا کہ کیا تمہیں 100 فیصد یقین ہے اس لڑکے نے کہا ہاں۔ کیا میری بہن کا نکاح کسی اور سے ہو سکتا ہے؟ اس کا کسی اور سے نکاح زنا شمار تو نہیں ہو گا؟
لڑکااور لڑکی دونوں کاخاندان ایک ہےاور میری بہن بالغ تھی۔ایک بار اکیلے میں ملے تھے، کمرے میں صرف 15، 20 منٹ کے لیے، لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ ہوا نہیں تھا۔ کمرے کا دروازہ بند تھا، لیکن میں اور میرے ساتھ اور بھی بچے تھے وہ کمرے کے باہر ہی کھڑے تھے۔ اور ان 15، 20 منٹ کے دوران جب تک وہ دونوں کمرے میں تھے ایک بچے نے ایک بار دروازہ کھول کر جھانکا بھی تھا۔میری بہن کو جب اس حدیث کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ نکاح مذاق میں بھی ہو جاتا ہے تو اس نے اپنے بوائے فرینڈ سے جھوٹ بولا تھا کہ اس کے دوستوں نے اس کو چیلنج دیا ہے کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ سے طلاق کا میسج کروائے۔ اس کے بوائے فرینڈ نے شاید خالی لفظ "divorce" لکھ کر بھیج دیا تھا، لیکن اس وقت اس کے بوائے فرینڈ کو یہ پتہ نہیں تھا کہ میری بہن اس سے یہ میسج کیوں کروا رہی ہے نہ ہی اس کو یہ پتہ تھا کہ میری بہن کو ان دونوں کے آپس میں نکاح ہونے کا شک ہے۔ اس کے بوائے فرینڈ نے یہ میسج صرف اس لیے بھیجا تھا، تاکہ میری بہن کا چیلنج پورا ہو جائے (جو کہ جھوٹ تھا)، یہ چار سال پہلے کی بات ہے۔
اب جب ہم نے پتہ کروایا ہے تو ہمیں مختلف جواب مل رہے ہیں، کچھ کہہ رہے ہیں کہ طلاق ہوگئی ہے کیونکہ نکاح کی طرح طلاق بھی مذاق میں ہو جاتی ہے، کچھ کہہ رہے ہیں کہ نہیں ہوئی، کیونکہ صرف ایک لفظ "divorce" لکھ کر بھیج دینا کافی نہیں یہ بات کچھ واضح نہیں ہو رہی اور نہ ہی لڑکے کو نکاح کا علم تھا تو یہ نہیں مانی جائے گی۔
یہ سب پتہ لگنے کہ بعد میری بہن نے اپنے بوائے فرینڈسے دوبارہ رابطہ کیا اور اس سے کہا کہ وہ میری بہن کو اس کی دل کی تسلی کے لیے "you are divorced" کا میسج بھیج دے اور اس لڑکے نے بھیج بھی دیا تھا لیکن ساتھ میں ایک اور میسج بھی بھیجا تھا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ یہ "you are divorced" کا میسج وہ صرف میری بہن کی دل کی تسلی کے لیے بھیج رہا ہے ورنہ اللہ جانتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا، لیکن پھر تھوری دیر بعد اس نے یہ دونوں میسج ڈیلیٹ کر دیے اور اب 4 ماہ ہو چکے ہیں میری بہن کے کسی بھی میسج کا جواب نہیں دے رہا۔ کیا اس طلاق سے نکاح ختم ہو گیا ہے؟ میسج کا ڈیلیٹ کرنا رجوع میں تو شمار نہیں ہو گا نا؟ کیونکہ اس کا بوائے فرینڈ تو کہہ رہا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور اس نے یہ میسج صرف اس کی دل کی تسلی کے لیے کیا ہے۔میسج کا ڈیلیٹ کرنا رجوع میں تو شمار ہو گا یا نہیں؟ہم اس کی شادی کرنے لگے ہیں اس لیے بس آپ سے کنفرم کر رہی ہوں کہ میری بہن کا کسی اور سے نکاح ہو سکتا ہے؟ اس کا کسی اور سے نکاح زنا شمار تو نہیں ہو گا؟
وضاحت: سائلہ کےبقول جب ہم کمرے میں علیحدہ ہوئے تھے اس وقت نکاح کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کو زوجین کی طرح نہیں سمجھ رہے تھے، اسی لیےبوس وکنار وغیرہ بھی نہیں ہوا۔نیزکمرے کے باہر کزن پھر رہے تھے، جن کے اندر آنے کا خطرہ تھا، چنانچہ بچے نے ایک مرتبہ اندر بھی جھانکا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق جب آپ کی بہن، دوسرے لڑکے اور موقع پر موجود دوگواہوں کو ایجاب وقبول کے الفاظ کہنا یاد نہیں ہے تو اصولی اعتبار سے فریقین کے درمیان شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوا، کیونکہ شک اور غیر یقینی صورتِ حال سے شرعاًنکاح ثابت نہیں ہوتا۔
نیز اگر بالفرض شرعی طور پر نکاح کا انعقاد تسلیم بھی کر لیا جائے تو بھی چونکہ لڑکا طلاق دے چکا ہے اور طلاق کےصریح الفاظ بلا نیت وارادہ بھی زبان سے ادا کر دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اور پھر طلاق سےشرعاً رجوع بھی نہیں کیا جا سکتا۔ نیز جس عورت کے ساتھ ہمبستری اور خلوتِ صحیحہ (جبکہ مذکورہ صورت میں بظاہر خلوتِ صحیحہ کا تحقق نہیں ہوا) نہ ہوئی ہو اس کو ایک طلاق دینے سے بھی نکاح ختم ہو جاتا ہے، لہذا مذکورہ صورتِ حال کے پیشِ نظر آپ کی بہن کا مذکورہ لڑکے کے ساتھ نکاح برقرار نہیں ہے اور اس کا دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً درست ہے۔
حوالہ جات
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 48) دار الكتب العلمية، بيروت:
قولهم: اليقين لا يرتفع بالشك معنى فإنه حينئذلا يتصور أن يثبت شك في محل ثبوت اليقين ليتصور ثبوت شك فيه لا يرتفع به ذلك اليقين.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 235) دار الفكر-بيروت:
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق........... (أو هازلا) لا يقصد حقيقة كلامه (أو سفيها) خفيف العقل (أو سكران) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا، وبه يفتى .......... (أو أخرس) ولو طارئا إن دام للموت به يفتى، وعليه فتصرفاته موقوفة. واستحسن الكمال اشتراط كتابته (بإشارته) المعهودة فإنها تكون كعبارة الناطق استحسانا.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 332) دار الفكر،بيروت:
قال: الخلوة الصحيحة أن يخلو بها في مكان يأمنان فيه من اطلاع الناس عليهما كدار وبيت دون الصحراء والطريق الأعظم والسطح الذي ليس على جوانبه سترة، وكذا إذا كان الستر رقيقا أو قصيرا بحيث لو قام إنسان يطلع عليهما يراهما، وأن لا يكون مانع من الوطء حسا ولا طبعا ولا شرعا اھ.
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (9/ 6835) دار الفكر، سوريَّة ، دمشق:
الخلوة الصحيحة: هي أن يجتمع الزوجان بعد عقد الزواج الصحيح في مكان يأمنان فيه من اطلاع الناس عليهما كدار أو بيت مغلق الباب. فإن كان الاجتماع في شارع أو طريق أو مسجد أو حمام عام أو سطح لا ساتر له أو في بيت مفتوح الباب والنوافذ أو في بستان لا باب له، فلا تتحقق الخلوة الصحيحة. ويشترط فيها ألا يكون بأحد الزوجين مانع طبعي أو حسي أو شرعي يمنع من الوطء أو الاتصال الجنسي.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/ذوالحجہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


