| 80670 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
دبئی میں ایک ایپلیکیشن ہے جس کا نام سکائی میڈیا(sky media)ہے۔لوگ اس میں اپنا پیسہ انویسٹ کرتے ہیں اور پھر ایک مہینہ بعداس کا منافع ملتاہے۔طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اس ایپ پر موجود ویڈیوز اور پیج کو لائیک کرکےاس کااسکرین شاٹ لینا ہوتا ہےاور پھر اس کو لنک کے ساتھ شیئر کرنا ہوتا ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ اس ایپ سےکمائی کرنا حلال ہے یا حرام ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ ایپ اور اس طرح کی تمام ایپلیکیشنز میں معاملہ اجارہ کا ہوتا ہے جو کہ شرعی طور پر کئی مفاسد( مثلاً اس طرح عمل کرنے سے مقصود ریٹنگ کو بڑھانا ہوتا ہے جو کہ حقیقت میں دھوکہ ہے،ویڈیوز اور پیج کو لائک کرنا کوئی مقصودی منفعت نہیں ہے،اس لئےیہ اجارہ درست نہیں ہے،ایپ میں شامل ہونے کے لئے ابتداءً جو رقم دی جاتی ہے وہ اصل میں رشوت ہونے کی وجہ سےناجائز اور حرام ہے،وغیرہ) کی بناء پر جائز نہیں ہے۔
لہٰذا اس طرح کی ایپ میں انویسٹ کرنا اور پیسہ کمانا جائز نہیں ہے،اس سے اجتناب ضرور ی ہے۔
حوالہ جات
سنن الترمذي (2/ 597)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: يا صاحب الطعام، ما هذا؟، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، ثم قال: من غش فليس منا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 6/ 4
هي لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية۔
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
28/ذو الحجہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


