| 80689 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
میرے بیٹے کی عمر ساڑھے تین سال ہے، جب سے پیدا ہوا ہے بہت بیمار رہتا ہے۔ ہم نے ان کا نام محمد ہادی رکھا ہے،بچہ شرارتی اور ضدی بھی ہے حد سے زیادہ۔ اب ہم چاہ رہے ہیں کہ ان کا نام تبدیل کر کے محمد ابو بکر رکھیں۔ براہ مہربانی اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ نام کیسا رہیگا ،اور ابوبکر کے ساتھ محمد لگانا ٹھیک ہے یا نہیں؟ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
"محمد ابوبکر" نام رکھنا درست ہے،کیونکہ احادیث مبارکہ میں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "محمد" نام رکھنے کی اجازت دی ہے، اور ابو بکر ایک جلیل القدر صحابی کا نام ہے۔
"ابوبکر "کے ساتھ "محمد" نام میں لگانا ٹھیک ہے۔
حوالہ جات
صحیح البخاری: (باب قول النبی سموا باسمی، رقم الحدیث: 6188)
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن أيوب، عن ابن سيرين، قال: سمعت أبا هريرة، يقول: قال أبو القاسم صلى الله عليه وسلم: "سموا باسمي، ولا تكتنوا بكنيتي "
و فیه ایضاً: (باب تحویل الاسم الی اسم احسن منه، رقم الحدیث: 6192)
حدثنا صدقة بن الفضل، أخبرنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن عطاء بن أبي ميمونة، عن أبي رافع، عن أبي هريرة: " أن زينب كان اسمها برة، فقيل: تزكي نفسها، فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم زينب ".
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
29/ذی الحجہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


