03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز میں قراءت کی آواز کی مقدار
80784نماز کا بیانقراءت کے واجب ہونے اور قراء ت میں غلطی کرنے کا بیان

سوال

سری نماز پڑھتے ہوئے آواز کس قدر بلند  ہونی چاہیے ، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اتنی اونچی آواز ہو کہ خود سن سکے۔ اگر کسی نے ہلکی آواز میں قراءت کی ہو تو نماز ہوجائے گی؟دل ہی دل میں ہونٹ ہلائے بغیر قراءت سے  نماز  ہوجاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز میں قراءت فرض ہے۔قراءت کرتے ہوئے ہونٹوں کا ہلنا لازم ہے، چاہے معمولی سی حرکت ہی کیوں نہ ہو۔ نماز میں قراءت اس قدر آواز سے کرنا  کہ خود سن سکے، بہتر ہے، البتہ آہستہ آواز میں  زبان سے صحیح  حروف ادا کیے جائیں تو نماز ہو جائے گی ۔

 دل ہی دل میں ہونٹ ہلائے بغیر قراءت کرنا  صحیح نہیں، اس طرح نماز  نہیں ہوتی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (1/ 535)

أن أدنى المخافتة إسماع نفسه أو من بقربه من رجل أو رجلين مثلا، وأعلاها تصحيح الحروف.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1/ 296)

أما معرفة حدها، فنقول: تصحيح الحروف أمر لا بد منه، ولا تصير قراءة إلا بعد تصحيح الحروف، فإن صحح الحروف بلسانه ولم يسمع نفسه؛ حكي عن الكرخي أنه يجزيه، وبه كان يفتي الفقيه أبو بكر الأعمش؛ لأن القراءة فعل اللسان، وذلك بإقامة الحروف، لا بالسماع، فإن السماع فعل السامع.

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

4/محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب