| 81083 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
والدین میں۱ طلاق کے بعد علیحدگی ہوچکی ہے۔ والد خود اپنے بچے کو والدہ کے گھر چھوڑ کر آیا تھا۔ والد عدالت کا طے کردہ خرچہ باقاعدگی سے ادا کر رہا ہے۔ عدالت نے والد کی ولایت برقرار رکھی ہے اور ساتھ ہی گھر کی ملاقات کے لئے کیس دائر کرنے کی تجویز دی ہے۔ [عدالت کے آرڈر موجود ہیں]۔ فی الحال عدالت نے مہینے میں ۱ گھنٹہ ملاقات طے کی ہے۔ والدہ اور اسکے گھر والوں سے متعدد مرتبہ بچے کی گھر کی ملاقات کی درخواست کی جا چکی ہے لیکن ان کی جانب سے انکار ہے۔ بچہ کی عمر ۴ سال سے زائد ہے۔ از روےَ شریعت، والد اپنے بچہ سے کس قدر گھر لانے کا حقدار ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں شرعابچےکی پرورش کاحق والدہ کو ہے،کیونکہ علیحدگی کےبعدوالدہ بچےکوسات سال تک اوربچی کونوسال تک اپنےپاس رکھنےکاشرعاحق رکھتی ہےموجودہ صورت میں چونکہ بچےکی عمرسات سال سےکم ہے،اس لیےوالدبچےکواپنےگھرلانےکاشرعاحقدارنہیں،ہاں اگر فی الوقت بچےکی والدہ اس پرراضی ہو،یاوالدیہ سمجھتاہوکہ والدہ کےپاس رہنےسےدینی حوالےسےتربیت کےمسائل ہونگےتو بھی بچےکواپنےگھر لاسکتاہے۔
لیکن اس مدت کےدوران بچےکواس کےوالدسےنہ ملاناظلم ہے،یہ نہ شرعادرست ہےنہ اخلاقا،دونوں خاندان باہمی رضامندی سے والدکی بچےسے ملاقات کروانے کےلیے وقت اور طریقہ کار طے کر کے اس کے مطابق عمل کریں،باہم گفت وشنیدسےملاقات طےہوجائےتوعدالت میں درخواست دائرکرنےکی ضرورت نہیں پڑےگی۔
حوالہ جات
"رد المحتار " 13 / 53:
( والحاضنة ) أما أو غيرها ( أحق به ) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب ۔
ولو اختلفا في سنه ، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا ( والأم والجدة ) لأم ، أو لأب ( أحق بها ) بالصغيرة ( حتى تحيض ) أي تبلغ في ظاهر الرواية۔
" الهندية"1/154:
أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم۔
"رد المحتارمع الدر المختار"5/254:
والحاصل أن الحاضنة إن كانت فاسقة فسقا يلزم منه ضياع الولد عندها سقط حقها وإلا فهي أحق به إلى أن يعقل فينزع منها كالكتابية۔
"الفتاوى الهندية" 11 / 334:
الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
07/محرم 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


