03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسکول استاذ کاڈیوٹی کے اوقات میں ٍتقدیم اورتاخیرکی تلافی دیگرمضامین پڑھانے سے کرنا
81004اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

         میں ایک سکول میں بطوراستاذسرکاری ملازم ہوں  اورہماری ڈیوٹی آٹھ بجےشروع ہوتی ہے اورآخری وقت اڑھائی بجے ہے،کبھی کبھارمیں تاخیرسے آتاہوں نیزہم ایک بجے چھٹی کرلیتے ہیں۔ میری تقرری مثلاً ڈرائنگ ماسٹر کے طور پر ہوئی ہے، میں اپنے تین کلاسوں میں ڈرائنگ کے ساتھ ساتھ دوسرے کلاسوں میں ایسے مضامین بھی پڑھاتا ہوں اردو اسلامیات وغیرہ یہ ایسے مضامین ہوتے جن کے  اساتذہ کرام نہیں ہوتے ( یہاں بلوچستان میں ایسے بہت سارے اسکول موجود ہیں جن میں اساتذہ کرام یا تو سرے سے ڈیوٹی نہیں کرتے یا سرے سے بھرتی نہیں ہوتے، ان اساتذہ کے مضامین پورے سال بغیر پڑھائی کے ختم ہوتے ہیں) تو کیا ان مضامین کے پڑھانے سے اوقات میں مجھ سے جو تاخیر ہوئی ہےیا پہلے چھٹی کی ہے اس کی تلافی ممکن ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

          سرکاری ملازم فقہی اعتبارسے اجیرِ خاص ہوتاہے اور اجیرِ خاص کے لیے ڈیوٹی کے اوقات میں اپنا مفوض کام کرنا ہی ضروری ہوتا ہے دوسرا کام بلااجازت  وہ نہیں کرسکتا، لہذا ڈرائنگ ماسٹر کا دوسرے مضامین پڑھاناقانوناً اس کی ذمہ داری میں نہیں آتا،اورنہ ہی اس سے تلافی ہوگی،تاہم اگر اسکول کی مجاز انتظامیہ اساتذہ کی کمی کی وجہ سے دوسرے مضامین پڑھانے کاکہہ دےاورپھراس بناء پرکہ استاذاضافی مضامین بھی پڑھاتاہے شروع میں یا آخرمیں وقت کے حوالےسے کچھ چھوٹ دیدےبشرطیکہ حکومت کی طرف سےاُس کو اِس طرح کرنے کی اجازت ہو تو پھراس چھوٹ سے فائدہ اٹھانا استاذ کےلے جائزہوگا ،لیکن اگرحکومت کی طرف سے سکول انتظامیہ کواس طرح کرنے کی اجازت نہ ہوتو پھرباہمی ملکی بھگت سے اس طرح کرنا جائزنہیں ہوگا۔

حوالہ جات

وفي حاشية ابن عابدين (6/ 70):

(قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة.

مجلة الأحکام العدلیة مع شرحھا: درر الحکام لعلي حیدر:

 لو استوٴجر أحد ھوٴلاء علی أن یعمل للمستأجر إلی وقت معین یکون أجیراً خاصاً في مدة ذلک الوقت (مجلة الأحکام العدلیة مع شرحھا: درر الحکام لعلي حیدر، ۱: ۴۵۴، رقم المادة: ۴۲۲، ط: دار عالم الکتب للطباعة والنشر والتوزیع، الریاض)

وإذا استأجررجلا یوما لیعمل کذا،فعلیہ أن یعمل ذالک العمل إلی تمام المدۃ،ولا یشتغل بشیء آخر سوی المکتوبۃ۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الإجارۃالباب الثالث،ج:4،ص:416)۔

وفی الدر المختار:

(الخاص)۔۔۔(وھو من یعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصیص،ویستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ،وإن لم یعمل۔( الدر المختار علی صدر رد المحتار،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج:9،ص:95)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

21/محرم 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب