03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازم کا مفوضہ ذمہ داری کے بجائے کوئی اور ذمہ داری انجام دینا
80527اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں(مولانا ضیاء اللہ) جامع مسجد جمرود کا عرصہ دراز سے خطیب رہا ہوں۔اس مسجد میں سرکاری طور پر خطیب کی پوسٹ نہیں ہے،بلکہ پرائیویٹ طور پر خطابت کی پوسٹ پر کام کررہا ہوں۔چونکہ انتہائی مہنگائی ہے اور تنخواہ پر گزارہ کرنا مشکل ہورہا ہے تو اب حال ہی میں ایک دوست نے بتایا کہ آپ کو اسی ہسپتال میں کلاس فور کی پوسٹ پر تعینات کررہا ہوں اور ساتھ ہی افسر بالا (ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر) بذاتِ خود اجازت دے رہا ہے کہ آپ فقط اسی ہسپتال کی مسجد میں خطابت کے فرائض انجام دیا کروگے اور پوسٹ آپ کا کلاس فور ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ کلاس فور کی پوسٹ پر تعینات ہوکر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی اجازت سے ہسپتال کی مسجد میں خطابت یا امامت کے فرائض انجام دینے سے میری ڈیوٹی صحیح ہوگی اور تنخواہ حلال ہوگی؟کیا افسر بالا (ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر یا دیگر افسران) کی اجازت اور حکم معتبر سمجھاجائے گا؟

تنقیح:سائل نے بتایا کہ مذکورہ آفیسر مجھے کلاس فور پر تعینات کررہا ہے اس طور پرکہ میں کلاس فور کی ذمہ داریاں انجام نہیں دوں گا،بلکہ صرف امامت کروں گا اورتنخواہ مجھے کلاس فور کی ملے گی،جبکہ یہاں خطیب کی پوسٹ نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ سرکاری اداروں میں کلاس فور کا ملازم اجیر خاص کہلاتا ہے،اجیر خاص پر شرعا لازم ہے کہ ادارے کی طرف سے جو ذمہ داریاں اس کے سپرد کی گئی ہوں مقررہ وقت میں ان ذمہ داریوں کو ادا کرے،اگر مفوضہ ذمہ داریاں ادا نہیں کرے گا تو جتنی کوتاہی کی ہے اس کے بقدر تنخواہ حلال نہیں ہوگی۔

اس تمہید کے بعد صورت مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ اگر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو مجاز اتھارٹی( ہیلتھ منسٹر،ہیلتھ سیکریٹری یا ہیلتھ ڈائریکٹر) کی طرف سے  قانون کے مطابق(نا کہ خلافِ قانون) اس بات کی اجازت ہو کہ آپ کلاس فور کے ملازم سے مفوضہ ذمہ داریوں کے بجائے خطابت کی ذمہ داریاں لے سکتے ہو اور تنخواہ کلاس فور کی ملےگی تو اس صورت میں آپ کے لیے کلاس فور کی پوسٹ پر صرف خطابت کرنے اور اس کے عوض تنخواہ لینے کی اجازت ہوگی،لیکن اگر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو مجاز اتھارٹی کی طرف سے قانون کے مطابق  اس بات کی اجازت نہ ہو کہ آپ کلاس فور کے ملازم سے مفوضہ ذمہ داریوں کے بجائے کوئی اور ذمہ داری لے سکتے ہو تو ایسی صورت میں آپ کے لیے کلاس  فور کی مفوضہ ذمہ داریوں کے بجائے خطابت کی ذمہ داریاں انجام دینا اور اس کے بدلہ تنخواہ لینا حلال نہ ہوگا۔

اس کا بہترین اور بے غبار حل یہ ہے کہ آپ کلاس فور کی مفوضہ ذمہ داریاں انجام دیں اور ساتھ میں خطابت وامامت بھی کریں تو تنخواہ بھی حلال ہوجائے گی اور امامت وخطابت کی ذمہ داریاں بھی سرانجام دینے کا موقع ملے گا۔یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ اس صورت میں آپ کی اصل ذمہ داری کلاس فور کی ہی ہوگی، خطابت وامامت ثانوی درجہ کی ہوگی،اس کی وجہ سے کلاس فور والی ذمہ داریوں میں کوئی کوتاہی کرنا جائز نہ ہوگا۔       واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

حوالہ جات

(تفسير الخازن علاء الدين البغدادي :ج: 2 ، ص :2)

" ( قوله عز وجل : ( يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود ) يعني العهود . قال الجماعة : واختلفوا في المراد بهذه العقود التي أمر الله تعالى بوفائها..... وقيل : بل هي العقود التي يتعاقدها الناس بينهم، وما يعقده الإنسان على نفسه. والعقود خمسة : عقد اليمين ، وعقد النكاح ، وعقد العهد ، وعقد البيع، وعقد الشركة.  زاد بعضهم : وعقد الحلف."

(الدر المختار للحصفكي :ج: 5 ، ص: 355)

"وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل."

  ابرار احمد صدیقی

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 ۲۸/ ذو القعدة/ ١۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابراراحمد بن بہاراحمد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب