03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ اور دوبھائیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم
81037میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ماسٹر محمد عبداللہ دوران سروس فوت ہو گیا ہے۔ اس کے اصول وفروع پہلے فوت ہو چکے ہیں، اس کے ورثإءمیں ایک بیوہ  دو بھائی (اکبراوراصغر) ترکہ تین جگہ رقبہ قیمت میں تفاوت  دو عدد رہائشی  مکان  ہیں، سوال یہ ہے کہ مرحوم کا ترکہ ان کے ورثاء میں کس طرح تقسیم ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد، سونا، چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے، ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے پچیس فیصد بیوی کا اور بقیہ ترکہ دونوں بھائیوں میں برابر تقسیم ہو گا، لہذا پیچھے ذکرکیے گئے تین حقوق ادا کرنے کے بعد بقیہ ترکہ کو آٹھ (8) حصوں میں برابر تقسيم كر كے  ہربیٹے کو تین (3) حصے اور بیوی کو دو (2) حصے  دے دیے جائیں، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:واضح رہے کہ اگر کسی وارث کا انتقال مرحوم کی وفات کے بعد ہوا ہو تو شریعت کے حکم کے مطابق اس کو بھی مرحوم کے ترکہ سے حصہ ملے گا اور پھر اس کا شرعی حصہ اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہو گا۔

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی

2

25%

2

بھائی

3

37.5%

3

بھائی

3

37.5%

 

حوالہ جات

السراجی فی المیراث:(ص:36) مكتبة البشرى:

أما العصبة بنفسه: فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت وهم أربعة أصناف: جزء الميت، وأصله وجزء أبيه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

28/محرم الحرام 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب