03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منیجمنٹ کو کام نکلوانے کے پیسے دینا
81064جائز و ناجائزامور کا بیانرشوت کا بیان

سوال

             میرے بھائی کا لائبیریا (مغربی افریقہ) میں کرش پلانٹ کا کاروبار ہے۔ ملک بنیادی طور پر کرپٹ ہے اور وہاں تعمیراتی شعبے میں ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ انہیں کرش میٹریل کی ضرورت ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کمپنیوں میں انتظامیہ مقامی آبادی کی ہے اور زیادہ تر کرپٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ سے کرش خریدیں تو آپ کو فی لوڈ ریٹ کم کرنا ہوگا اور پھر اسے ہمارے لیے ذاتی کمیشن کے طور پر ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔ مثلاً  اگر 1 لوڈ 600 کا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ سے 550 میں خرید لیں گے لیکن دستاویزات میں یعنی کمپنی کو کوٹیشن پر آپ ریٹ 600 لکھیں گے۔ کمپنی کو   600 کا 1 لوڈ ملتا ہے اور میرے بھائی کو 600 ملتے ہیں۔ جس میں سے 50 فی لوڈ مینجمنٹ کو غیر سرکاری طور پر کمیشن کے طور پر دینا پڑتا ہے۔ کیا اس کی اجازت ہے ؟کیونکہ اس کے بغیر کوئی معاہدہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس سے کمپنی کو کوئی نقصان نہیں ہوتا  اور نہ ہی میرے بھائی کے علاوہ کسی دوسرے فرد کو۔ اسے   600 کی چیز 550  میں بیچنی ہے اور کنٹریکٹ کو آگے بڑھانے کے لیے انتظامیہ کو اضافی 50 دینا ہیں۔کمپنی کو 600  میں 600 کی پوری مقدار ملتی ہے، بھائی اپنے پیسوں میں سے 50 منیجمنٹ کو دیتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

منیجمنٹ ،کمپنی کی ملازم   ہے، اسے اپنے کام کی تنخواہ ملتی ہے۔  مذکورہ صورت میں منیجمنٹ کی طرف سے یہ مطالبہ کرنا کہ انہیں 50 روپے مثلاً  فی لوڈ دئے جائیں،جائز نہیں ہے۔ منیجمنٹ کامذکورہ پیسے لینا رشوت کے حکم میں ہے۔   لہٰذا آپ کے بھائی کا شدید مجبوری کے بغیر منیجمنٹ کو پیسے دینا درست نہیں،ناجائز اور حرام ہے، البتہ شدید مجبوری میں منیجمنٹ کو رشوت دینے کی ضرورتاً اجازت ہے، تاہم منیجمنٹ  رشوت لینے پر گناہ  کی مرتکب  ہوگی۔

            مینجمنٹ کو کہیں نہ کہیں سے کرش لازمی خریدنا ہی ہے، ایسے میں پلانٹ والے اگر رشوت سے انکار کریں توبھی کرش  خریدنا  منیجمنٹ کی مجبوری ہے، اس کے باوجود پلانٹ والےرشوت دیتے ہیں ،تو یہ  اجتماعی طور پر رشوت کا ماحول بنانے اور رشوت دینے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے ۔ آپ کے بھائی چونکہ   اکیلے اس نظام کو ختم نہیں کر سکتے تو استغفار  کے ساتھ کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

حوالہ جات

سنن أبي داود (3/ 300):

 عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»

بذل المجهود في حل سنن أبي داود (11/ 306)

قال الخطابي : الراشي: المعطي، والمرتشي: الآخذ، وإنما يلحقهما العقوبة معا إذا استويا في القصد والإرادة، ورشا المعطي لينال به باطلا، ويتوصل به إلى الظلم، فأما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق أو يدفع عن نفسه ظلما، فإنه غير داخل في هذا الوعيد.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (5/ 362):

" ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب ."

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

یکم/صفر المظفر /1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب