| 81101 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
دو ورثاء کا کہنا ہے کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد 1996ء سے 2015ء تک چار ورثاء زرعی زمین کا ٹھیکہ اور زمین کی آمدن جیسے آم اور کھجوریں وغیرہ استعمال کرتے رہے ہیں،جبکہ اس عرصہ کے دوران بقیہ دو بھائیوں کو اس میں سے کچھ بھی حصہ نہیں دیا گیا، البتہ 2015ء کے بعد ان دو کو بھی حصہ دینے لگ گئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ 2015ء سے پہلے تقریباً بیس سال تک بعض ورثاء کا مشترکہ جائیداد سے نفع اٹھانا جائز تھا؟ کیا اب بقیہ دو ورثاء مشترکہ جائیداد سے حاصل کیے گئے نفع کے مطالبہ کے حق دار ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدین کی وفات کے بعد ان کی منقولہ وغیر منقولہ تمام جائیداد میں سب ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار تھے اور وراثت تقسیم کرنے سے پہلے ترکہ کی ہر چیز ورثاء کے درمیان مشترک تھی، لہذا بعض ورثاء کا دیگر ورثاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر مشترکہ جائیداد سے نفع اٹھانا ہرگز جائز نہیں تھا، بلکہ حاصل شدہ آمدن کو شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کر کے تمام ورثاء تک ان کا حصہ پہنچانا یا ان کا حصہ ان کی اجازت سے استعمال کرنا ضروری تھا۔ اب چونکہ دیگر ورثاء دو بھائیوں کا حصہ استعمال کر چکے ہیں اس لیے انہوں نے اب تک مشترکہ ترکہ میں سے جتنا نفع حاصل کیا ہے اس پر غصب کا حکم لگے گا، لہذا زرعی زمین چونکہ معدّ للاستغلال (آمدن کے لیے تیار کی گئی چیز) تھی، یعنی اس کو ٹھیکہ پر دے کر اجرت حاصل کی جا رہی تھی اس لیے ان دو بھائیوں کے شرعی حصہ کے مطابق اتنے سالوں کا ٹھیکہ ان کو ادا کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح اتنا عرصہ آموں اور کھجوروں کے جو پھل استعمال کیے ہیں ان دو بھائیوں کے شرعی حصوں کے مطابق اتنی مقدار میں پھل یا ان کی قیمت کا اندازہ لگا کر وہ بھی ان کے سپرد کرنا ضروری ہے۔
یہ بات واضح رہے کہ مذکورہ بالا حکم اس وقت ہے جب ان دو بھائیوں کی طرف سے دیگر ورثاء کے لیے ان چیزوں کے استعمال کی اجازت نہ ہو، لیکن اگر ان کی طرف سے صراحتاً یا دلالتاً اجازت تھی تو پھر حکم بدل جائے گا۔
بہتر یہ ہے کہ فریقین آپس میں صلح کا معاملہ کر لیں، حق کا مطالبہ کرنے والے حضرات اپنے حق میں کچھ تخفیف کر دیں اور جنہوں نے ان کا حق ان کی اجازت کے بغیر کھایا ہے وہ خوشی کے ساتھ ان کا حق ادا کریں، کیونکہ قیامت کے دن کسی کا ایک درہم بھی بغیر اجازت کے استعمال کیا گیا اللہ کے ہاں عذاب اور پکڑ کا باعث ہو سکتا ہے، لہذا کسی کے مالی حق کو ادا کیے بغیر اسی حالت میں دنیا سے چلے جانا العیاذ باللہ بہت بڑے نقصان اور خسارے کا سبب ہو گا۔ اس لیے صاحبِ حق کا حق دنیا میں ادا کرنا یا اس سے معافی تلافی کروانا ضروری ہے۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (4/ 1997) دار إحياء التراث العربي - بيروت:
"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «أتدرون ما المفلس؟» قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع، فقال: «إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة، وصيام، وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه، ثم طرح في النار»".
الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، ج:5 / ص:340،339، ط: رشيدية:
إذا مر الرجل بالثمار في أيام الصيف وأراد أن يتناول منها والثمار ساقطة تحت الأشجار، فإن كان ذلك في المصر لا يسعه التناول إلا إذا علم أن صاحبها قد أباح إما نصا أو دلالة بالعادة، وإن كان في الحائط، فإن كان من الثمار التي تبقى مثل الجوز وغيره لا يسعه الأخذ إلا إذا علم الإذن، وإن كان من الثمار التي لا تبقى تكلموا فيه قال الصدر الشهيد - رحمه الله تعالى -والمختار أنه لا بأس بالتناول ما لم يتبين النهي، إما صريحا أو عادة، كذا في المحيط. والمختار أنه لا يأكل منها ما لم يعلم أن أربابها رضوا بذلك، كذا في الغياثية۔۔۔۔۔۔۔۔وأما إذا كانت الثمار على الأشجار فالأفضل أن لا يأخذ من موضع ما إلا بالإذن إلا أن يكون موضعا كثير الثمار يعلم أنه لا يشق عليهم أكل ذلك فيسعه الأكل، ولا يسعه الحمل.
بدائع الصنائع ج:2 / ص:234، ط: دار الكتب العلمية،بيروت:
"ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه".
رد المحتار (5/99)مطلب فيمن ورِث مالا حراما ط: سعید:
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 80) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
(المادة 416) الضمان هو إعطاء مثل الشيء إن كان من المثليات وقيمته إن كان من القيميات. (المادة 417) : المعد للاستغلال هو الشيء الذي أعد وعين على أن يعطى بالكراء كالخان والدار والحمام والدكان من العقارات التي بنيت واشتريت على أن تؤجر وكذا كروسات الكراء ودواب المكارين , وإيجار الشيء ثلاث سنين على التوالي دليل على كونه معدا للاستغلال والشيء الذي أنشأه أحد.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (449/1) دار الجيل:
لو آجر إنسان ماله ثلاث سنوات اعتبر ذلك بالنسبة إليه معدا للاستغلال فإذا باعه من آخر بعد مضي الثلاث السنوات، أو توفي؛ فلا يبقى ذلك المال معدا للاستغلال فإذا أعده المشتري للاستغلال ثلاث سنوات أخرى على التوالي يعتبر كذلك بالنسبة إليه أما إيجاره سنة، أو سنتين؛ فلا يعتبر به معدا للاستغلال وإنما يعتبر كذلك بعد مضي ثلاث سنوات متوالية مأجورا فيها والمراد من السنة هنا كما في مرور الزمن السنة العربية لا الشمسية؛ لأن السنة إذا أطلقت انصرفت إلى السنة العربية في العرف الشرعي لكن إذا كان لإنسان أرض لا يقوم هو على زراعتها بنفسه في قرية اعتاد أهلها أستئجار أراضي الغير للزراعة، فإن أرضه تعتبر معدة للاستغلال فإذا زرعها أحد فلصاحبها مطالبة هذا الزارع بالأجرة المتعارفة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
4/صفرالمظفر 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


