03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا خوف فتنہ چہرہ کے پردے کی علت ہے؟
81281جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

اگر چہرہ کا پردہ فرض ہے تو احناف کی معتبر فقہی کتابوں میں چہرہ کے پردے کو مستثنی کیوں قرار دیا گیا ؟جبکہ فتنہ تو اس زمانہ میں بھی موجود تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ چہرے کےپردہ کے حکم کی علت خوف فتنہ ہے، لیکن یہ بات خلاف واقعہ اور خلاف تحقیق ہے۔

 اس بارے میں ان کا استدلال بنیادی طور پر دو باتوں سے ہے :

۱۔سورہ نور کی آیت میں الا ماظہر کی تفسیر میں منقول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت،جس میں اس سے مراد  چہرہ اور کفین مراد لی گئیں ہیں۔

۲۔ کتب فقہ میں کتاب الحظر والاباحۃ میں خوف فتنہ کو علت قرار دیا گیا ہے۔

لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مذکورہ دلائل کی بنیاد پر خوف فتنہ کو پردے بالخصوص چہرے کے پردے کی علت ومدار حکم قرار دینا بالکل درست نہیں۔

پہلی دلیل کا جواب:

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت سے چہرے کے پردے کا حکم حجاب سے استثناء پر استدلال درست نہیں ،اس لیے کہ خودحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورہ احزاب کی آیت یدنین علیہن من جلابیبہن کی تفسیر میں چہرے کے پردے کی جو تفسیر منقول ہے وہ چہرے کے پردے کے وجوب اور عدم استثناءکی واضح دلیل ہے۔اسی طرح اس مقام سورہ نور میں ان سے ایک تفسیر اس کے خلاف ومعارض بھی منقول ہے جس میں ماظہر کی تفسیر باطن کف ،خاتم اور مسکہ سے منقول ہے۔

تفسير ابن كثير ت سلامة (6/ 481)

قال علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس: أمر الله نساء المؤمنين إذا خرجن من بيوتهن في حاجة أن يغطين وجوههن من فوق رؤوسهن بالجلابيب، ويبدين عينا واحدة.

لہذا معلوم ہوا کہ سورہ نور کی اس آیت میں منقول تفسیر کا چہرے کے پردے کے حکم سے استثناء سے کوئی تعلق نہیں۔لہذا اہل علم سے اس کے علاوہ اس کی چارتاویلیں یا محمل منقول ہیں:

۱۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس تفسیر ماظہر کا تعلق حکم حجاب سے نہیں بلکہ حکم ستر عورت سے ہے جیساکہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ تعالی نے تفسیر روح المعانی میں اس کو اس پر محمول کیا ہے اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تفسیر کو حکم حجاب پر محمول فرمایا ہے کما یظھر ھذا من صنیع العلامۃ الآلوسی رحمہ اللہ تعالی۔نیز فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی کے صنیع سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے اس لیے کہ انہوں نے کتب فقہ میں ستر کے بیان کے باب میں اسی آیت سور نور سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اسی روایت کی روشنی میں استدلال فرمایا ہے۔

۲۔ دوسرا محمل یہ ہے کہ یہ حالت غیر اختیاری اور اضطراری کے اظہار پر محمول ہے، جیساکہ یہ  مفہوم حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالی نے بھی  بوادر النوادر:ص۵۱۰پر  رسالہ القاء السکینہ فی تحقیق ابداء الزینہ میں تفصیل سے لکھا ہے۔اور اس کی تایید تفسیر ابن کثیر سے بھی ہوتی ہے جس میں اسی کو بیان کیا ہے۔(کما فی فتح الملہم:صج۴،ص۲۶۹)

۳۔ اس تفسیر کا تعلق ماظہر سے نہیں ،بلکہ لایبدین زینتھن سے ہے۔کما فی روایۃ مصنف ابن ابی شیبہ وکما فی تفسیر ابن کثیر( بحوالہ ھدایۃ المرتاب فی فرضیۃ حکم الحجاب از مفتی اعظم رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالی)

۴۔ یہ تفسیر قبل نزول حکم الحجاب پر محمول ہے۔( بحوالہ ھدایۃ المرتاب فی فرضیۃ حکم الحجاب از مفتی اعظم رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالی)

حاصل یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی  مذکورہ روایت، حکم حجاب سے وجہ کے استثناء کے باب میں صریح نہ ہونے بلکہ محتمل ہونے کی وجہ سے قابل حجت نہیں بلکہ خود ان سے اور دیگر متعددصحابہ کرام سے منقول روایات اور تفاسیر بلکہ خود قرآن مجیدوحدیث کی نصوص صریحہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے واجب التاویل ہے، اس کاظاہر بلا خلاف متروک ہے۔(مزیر تفصیل کے لیے بوادر النوادر رسالہ القاء السکینہ اور احسن الفتاوی :ج۹ص۲۲۷ پر رسالہ ہدایۃ المرتاب  ملاحظہ ہوں۔)

دوسری دلیل کا جواب:

دوسر دلیل کا جواب یہ ہے کہ حکم حجاب قرآن وسنت کی صحیح اور صریح نصوص  اور تعامل سے ثابت ایک ایسا بدیہی  اور مسلم امت اور اسلامی تہذیب وثقافت کا ایک ایسا مسلمہ غیر مختلف فیہ مسئلہ ہے جس پر فقہاء امت کا  اختلاف رائے یا بحث مباحثہ کا سؤال ہی نہیں پیدا ہوتا،لہذا فقہاء احناف کی ان عبارات اور باب کا تعلق حکم حجاب سے ہے ہی نہیں،بلکہ ان میں ستر عورت کا بیان ہے۔ اور اس کے کئی دلائل اور قرائن ہیں:

۱۔ کتب فقہ میں کتاب الکراہیۃ میں ستر عورت کا باب اور عنوان ہی قائم ہوتا ہے۔ نہ کہ حجاب کا۔

۲۔ اس فصل میں عورتوں کے ساتھ مردوں کے ستر کا بھی بیان ہے جبکہ یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ حجاب عورت اور خاتون کا وظیفہ ہے نہ کہ مرد کا۔

۳۔ اگر حکم حجاب مذکور ہوتا تو جن جن غیرمحارم سے پردہ ہے ان کی تفصیل بھی ذکر ہوتی، حالانکہ اس میں خاتون کے خاتون کے حق میں اور محرم مردوں اور نامحرم مردوں کے حق میں الگ الگ ستروں کی حدود کا بیان ہے۔

باقی فقہی عبارات میں خوف فتنہ یاضرورت وحاجت کی بات اور استثناء کا تعلق حکم حجاب سے نہیں، بلکہ نظر الاجنبی سے ہے کہ اجنبی کے حق میں چونکہ باستثناءعورت غلیظہ کےعورت کاپورا جسم سوائےچہرہ اور کفین وقدمین کےعورت خفیفہ ہے، لہذا عدم خوف فتنہ( شہوت نہ ہونے) کی شرط کے ساتھ اگر اجنبی آدمی کی نظر اس کے چہرے وکفین وقدمین پر پڑ جائے یا کسی معقول  عذر یا ضرورت کی وجہ سےدیکھ لے تو اس کو ستر عورت دیکھنے کا گناہ نہ ہوگا،لیکن اس سے یہ نہ تو ثابت ہوتا ہے اور نہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ عورت کے لیے بھی خوف فتنہ نہ ہونے کی صورت میں نامحرم مردوں کے سامنے چہرہ کھولنا جائز ہےاور نہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے عورت کے چہرے کوبلاشہوت دیکھنابہرحال(بلا حاجت وضرورت)جائزہے،اس لیے کہ شہوت کےبغیر نامحرم عورت کے چہرے کی طرف بالقصد،بلاضرورت وحاجت دیکھنے کے عدم جوازوکراہت میں بھی سورہ نور کی آیت اور احادیث حفظ نظر کے پیش نظر کوئی اختلاف نہیں،اس لیے کہ متقدمین کی بلاشہوت اباحت نظر کا قول بھی مواضع ضرورت اور حاجت سے متعلق ہے جیساکہ تعلیل مسئلہ(دفع حرج)اس کی دلیل ہے،بلکہ متاخرین احناف کے نزدیک تو بالاتفاق فی زمانہ غلب فساد کی وجہ سے مطلقا (اگرچہ بلاشہوت نہ ہو) نامحرم عورت کے چہرے کی طرف دیکھنا منع ہے۔(در مختار کتاب الحظر والاباحۃ)

فقہی عبارات کی یہ تفہیم اور توجیہ  باوجودیکہ موافق ظاہر اور مؤید بالقرائن ہونے کی وجہ سے محتاج سند نہیں ،لیکن  اس کی تایید میں بوادر النوادر:ص۵۱۹ کا حوالہ  بھی ہے۔

 یہ جواب تو مسئلہ کی اصل تحقیق پر مبنی ہے ،ورنہ (اگر بالفرض خوف فتنہ کو علت تسلیم کر بھی لیا جائے) تو قانون یہ ہے کہ  جہاں علت کا وجود وعدم مخفی ہو وہاں سبب کو علت کے قائم قرار دے کر اسی کو مدار حکم قرار دیا جاتا ہے، اور خوف فتنہ بھی اسی قسم میں داخل ہے ، اس کا وجود وعدم مخفی ہے ، لہذا شریعت نے سبب کشف الوجہ( چہرہ کھولنے)  کو علت یعنی خوف فتنہ کے قائم مقام قرار دیکر مطلقا کشف الوجہ پر حکم حرمت لگادیا ، اس زمانہ میں فتنہ یقینا متحقق ہے۔(احسن الفتاوی:ج۹،ص۲۳۸)

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ تعالی فتح الملہم :ج۴،ص۲۶۱ تا۲۶۹  پرحجاب اور ستر کے مسائل پرقرآن وحدیث اورمذاہب اربعہ کی کتب فقہ اور اکابر دیوبند کے حوالوں سے الگ الگ نہایت مدلل ومحققانہ،بہترین مفصل بحث فرماکر آخر میں( ص۲۶۹پر) لکھتے ہیں:

فالحاصل ان المراۃ مامورۃ فی القرآن الکریم بان تستقر فی بیتھا ولاتخرج الا لحاجۃ ثم ان خرجت لحاجۃ فھی مامورۃ بستر الوجہ بادناء الجلباب او البرقع وبان لاتسفر عن وجھھا نعم یستثنی منہ حالتان: الاولی حالۃ الحاجۃ الی ابداء الوجہ بان یلحقھا بالستر ضرر کما فی الزحام او لحاجۃ اخری کاداء الشہادۃ والثانیۃ: ان ینکشف وجھھا من غیر قصدھا عند الکسب والعمل والرجال مامورون فی ھاتین الحالتین بغض النظر۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 527)

(والمرأة) فيما مر (كالرجل) لعموم الخطاب ما لم يقم دليل الخصوص (لكنها تكشف وجهها لا رأسها؛ ولو سدلت شيئا عليه وجافته عنه جاز) بل يندب

 (قوله وجافته) أي باعدته عنه. قال في الفتح: وقد جعلوا لذلك أعوادا كالقبة توضع على الوجه ويسدل من فوقها الثوب اهـ (قوله جاز) أي من حيث الإحرام، بمعنى أنه لم يكن محظورا لأنه ليس بستر وقوله بل يندب: أي خوفا من رؤية الأجانب.

وعبر في الفتح بالاستحباب، لكن صرح في النهاية بالوجوب وفي المحيط: ودلت المسألة على أن المرأة منهية عن إظهار وجهها للأجانب بلا ضرورة لأنها منهية عن تغطيته لحق النسك لولا ذلك، وإلا لم يكن لهذا الإرخاء فائدة اهـ ونحوه في الخانية.

وفق في البحر بما حاصله أن محمل الاستحباب عند عدم الأجانب. وأما عند وجودهم فالإرخاء واجب عليها عند الإمكان، وعند عدمه يجب على الأجانب غض البصر، ثم استدرك على ذلك بأن النووي نقل أن العلماء قالوا لا يجب على المرأة ستر وجهها في طريقها، بل يجب على الرجال الغض. قال: وظاهره نقل الإجماع. واعترضه في النهر بأن المراد علماء مذهبه. قلت: يؤيده ما سمعته من تصريح علمائنا بالوجوب والنهي. .

[تنبيه]علمت مما تقرر عدم صحة ما في شرح الهداية لابن الكمال من أن المرأة غير منهية عن ستر الوجه مطلقا إلا بشيء فصل على قدر الوجه كالنقاب والبرقع كما قدمناه أول الباب

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۵صفر۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب