03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مردوں و عورتوں کے لیےسونے،چاندی اور دیگر دھاتوں سے بنی انگوٹھی کے استعمال کا حکم
81271جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

مردوں کے لیے کون سی انگوٹھی پہننا جائز ہے؟عورتوں کے لیے کیا حکم ہے؟شرعی نقطہ نظر سے رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مردوں کے لیے سونے  سے بنی انگوٹھی کا استعمال بالاتفاق حرام ہے،چاندی کی صرف انگوٹھی اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ اس کا وزن ایک مثقال سے کم ہو،ایک مثقال پانچ ماشے جبکہ اعشاری نظام میں 4.86 گرام ہوتے ہیں۔(احسن الفتاوی:69/8) عورتوں کے لیے سونے چاندی  دونوں کی انگوٹھی پہننا بالاتفاق جائز ہے۔               

سونے چاندی کے علاوہ  کسی اور دھات مثلا لوہے،پیتل وغیرہ کی انگوٹھی پہننے میں علماء ِکرام کا اختلاف ہے، متقدمین فقہاء حنفیہ  سے دو قسم کے اقوال منقول ہیں:(1) بعض کے نزدیک حرام ہے۔ (2) اکثر فقہاء کرام کے نزدیک مکروہ ہے،جس سے مراد مکروہِ تحریمی ہے۔البتہ متاخرین فقہاء حنفیہ میں سے  فقیہ النفس حضرت مفتی  رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے حضراتِ ائمہ اربعہ کے درمیان اس مسئلہ کے مختلف فیھا ہونے اور سنن نسائی کی صحیح حدیث(جس میں لوہے سے بنی انگوٹھی کے جواز کا ذکر ہے) کی وجہ سے مکروہِ تنزیہی یعنی جائز مگر خلافِ اولی کا قول ذکر فرمایا ہے، فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالی  نے کراہت تحریمی والے قول کو احوط قرار دیا ہے اور لوہے کے زیور کے شیوع وعموم کی وجہ سے مکروہِ تنزیہی کے قول کو اوسع اور ارجح قرار دیا ہے(احسن الفتاوی:405/11)۔ان حضرات نے مرد وعورت دونوں کے لیے حکم یکساں لکھا ہے۔لہذا لوہے کے شیوع و عموم اور ضرورت کی وجہ سے عورتوں کے لیے دیگر دھاتوں سے بنی انگوٹھی کا استعمال مکروہِ تنریہی یعنی جائز مگر خلافِ اولی ہے،اگر ضرورت نہ ہو تو نہ پہننا بہتر ہے، البتہ اگر کسی نے بلا ضرورت پہن لی تو اس کی بھی گنجائش ہے۔البتہ مردوں کے لیے مندرجہ ذیل دو وجہوں کی بنا پر دیگر دھاتوں سے بنی انگوٹھی کے استعمال کے بارے میں کراہتِ تحریمی کا قول اختیار کیا جائے گا:

 (1) انگوٹھی کا استعمال عورتوں کے لیے  از قبیل زینت ہے،اور ان کی زینت ان ہی زیورات وغیرہ سے ہوتی ہے، اس کے برعکس مردوں کی زینت انگوٹھی یا زیورات میں نہیں۔اسی وجہ سے عورتوں کے لیے سونے اور دیگر زیورات کا استعمال جائز قرار دیا گیا  ہے، جبکہ مردوں  کے لیے اجازت نہیں ہے ۔

(2) مردوں کے لیے اصل حکم انگوٹھی کے استعمال کا خلافِ اولی ہونا ہے،یعنی مردوں کے لیے اصل یہ ہے کہ انگوٹھی نہ پہنیں،البتہ بوجہ ضرورت اس کا استعمال جائز قرار دیا گیا ہے،جیسا کہ  علامہ سندھی رحمہ اللہ تعالی کی اس عبارت سے واضح ہے :  "فقالوا  :إنهم إلخ   يدل على أنه ما اتخذ خاتما إلا عند الحاجة إليها،فالأصل

 تركه."  (حاشیة السندی علی النسائی: کتاب الزینة: 174/8)

چونکہ مرد کے لیے عام حالت میں انگوٹھی کی نہ ضرورت ہے،نہ اس کا شیوع ہے اور نہ ہی پسندیدہ ہے،لہذا ان کے حق میں  دیگر دھاتوں سے بنی انگوٹھی کے بارے میں مکروہِ تحریمی کا حکم برقرار ہے۔البتہ اگر کوئی مرد لوہے وغیرہ کی انگوٹھی پہن لے تو اس کو حرام نہیں کہا جائے گا اور مختلف فیہ ہونے کی وجہ سے اس  پر شدید نکیربھی نہیں کی جائے گی۔

حوالہ جات

(الھدایة: کتاب الکراھیة:ج:4 ص:98،الناشر:مکتبة البشری )

"وفی الجامع الصغیر:"ولا یتختم إلا بالفضة".وھذا نص علی أن التختم بالحجر، والحدید،والصفر  حرام."                                          

( الجامع الصغير وشرحه النافع الكبير: ج :1 ، ص: 477)

"وأما التختم بالحديد والصفر حرام بالإجماع ،وأما التختم بالذهب للرجال فحرام أيضا."

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :ج :11 / ص: 389)                       

"وأماالتختم بما سوى الذهب والفضة من الحديد، والنحاس، والصفر فمكروه للرجال والنساء جميعا ؛لأنه زي أهل النار لما روينا من الحديث. "

(الفتاوى الهندية :ج :43 ، ص :218)

"وفي الخجندي: التختم بالحديد، والصفر ،والنحاس ،والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا."

(الدر المختارمع رد المحتار :ج :5 ، ص: 676)

"(ولا يتختم) إلا بالفضة؛لحصول الاستغناء بها...ولا يزيده على مثقال(وترك التختم لغير السلطان والقاضي ) وذي حاجة إليه كمتول ( أفضل ) ."

قال ابن عابدین  رحمہ اللہ تعالی فی شرحہ: ( قوله فيحرم بغيرها إلخ ) لما روى الطحاوي بإسناده إلى عمران بن حصين وأبي هريرة رضی اللہ عنھماقال : " نهى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم عن خاتم الذهب " ، وروى صاحب السنن بإسناده إلى عبد الله بن بريدة عن أبيه : " أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله تعالى عليه وسلم وعليه خاتم من شبه، فقال له : مالي أجد منك ريح الأصنام، فطرحه، ثم جاء وعليه خاتم من حديد، فقال : مالي أجد عليك حلية أهل النار، فطرحه، فقال : يا رسول الله من أي شيء أتخذه ؟ قال : اتخذه من ورق، ولا تتمه مثقالا   ...( قوله  :ولا يزيده على مثقال ) وقيل: لا يبلغ به المثقال ذخيرة .أقول : ويؤيده نص الحديث السابق من قوله عليه الصلاة والسلام :"  ولا تتممه مثقالا ".فعلم أن التختم بالذهب والحديد والصفر حرام فألحق اليشب بذلك لأنه قد يتخذ منه الأصنام ، فأشبه الشبه الذي هو منصوص معلوم بالنص إتقاني والشبه محركا النحاس الأصفر قاموس .وفي الجوهرة: والتختم بالحديد،والصفر،والنحاس،والرصاص مكروه للرجل والنساء."

(رد المحتار :ج :1 ، ص: 242)

"مطلب: الكراهة حيث أطلقت فالمراد منها التحريم. قال في البحر: واعلم أن المكروه إذا أطلق في كلامهم فالمراد منه التحريم، إلا أن ينص على كراهة التنزيه، فقد قال المصنف في المصفى: لفظ الكراهة عند الاطلاق يراد بها التحريم . "

(الدر المختار للحصفكي :ج: 5 ، ص :678)

"وترك التختم لغير السلطان والقاضي) وذي حاجة إليه كمتول (أفضل ولا يشد منه)."

   (امداد الفتاوی: (135/4

"وفی رد المحتار عن الجوھرة :والتختم بالحدید والصفر،النحاس،والرصاص مکروہ للرجال والنساء قلت وقد تقرر  فی محلہ ان مفاھیم الروایات حجة. بنا بر جزئی وکلی مذکورین کے ثابت ہوا کہ بجز انگشتری کے دوسرا زیور حدید وصفر ونحاس ورصاص عورتوں کے لیے جائز ہے۔"

(فتاوی رشیدیہ:ص:601)

"لوہے اور پیتل  کی انگوٹھی میں مرد وعورت یکساں ہیں اور کراہت ان کے پہننے کی تنزیہی ہے،نہ تحریمی کہ مسئلہ مجتھد فیھا ہے اور شافعی رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک مردوں کو بھی درست ہے."

     ابرار احمد صدیقی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

      ۲۰/صفر/١۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابراراحمد بن بہاراحمد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب