| 81305 | خرید و فروخت کے احکام | زمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل |
سوال
آپ حضرات کے علم میں یہ بات ہوگی کہ دور حاضر میں پھلوں کے باغات کی خریدوفروخت کی مختلف صورتیں مروج ہیں۔ ان میں سے صرف دو صورتوں کے متعلق شرعی حکم معلوم کرنا ہے ۔
پہلی صورت :بعض حضرات باغات صرف اس وقت فروخت کرتے ہیں جب درختوں پرصرف پھول ظاہر ہوجائیں۔اب اس صورت میں یہ بات تومسلم ہے کہ یہاں پر پھولوں کی بیع بالاتفاق نا جائز ہے، كما قال في البناية شرح الهداية:
"وبيع الثمارقبل الظہور لا يجوز بالاجماع" (البناية : 21/6)
لیکن یہاں پر "بیع من حیث الأزھار" یعنی صرف پھولوں کی بیع کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس صورت میں بھی پھول موجود ہیں جو اگرچہ فی الحال قابل انتفاع نہیں ہیں، لیکن مستقبل میں قابل انتفاع ہیں ، جیساکہ احسن الفتاوی ( کتاب البیوع جلد6 ،صفحہ 489) اور فتاوی عثمانی (کتاب البیوع جلد 3 صفحہ 109 ، 10) میں اس کی گنجائش دی گئی ہے ۔
اب سوال یہ ہے اس صورت میں بیع من حیث الازھار کے حوالے سے جامعۃ الرشید کاموقف کیا ہے؟ کیا دورحاضر میں بوجہ عرف و رواج اور ضرورت و تعامل کے اس کی اجازت دی جاسکتی ہے؟
دوسری صورت : باغات کی خریدو فروخت اس وقت کی جائے جب درختوں پر پھول اور پھل دونوں اب تک ظاہر نہ ہوئے ہوں،ظاہرسی بات ہے کہ اس صورت میں بیع من حیث الأزھار اور بیع من حیث الأثمار دونوں ناجائز ہیں کیونکہ دونوں معدوم ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آیایہ صورت بیع سلم پر حمل کر کے جائز قرار دی جا سکتی ہے ؟اور اس صورت میں اگر چہ احناف کی بیع سلم کی شرائط کا تحقق نہیں ہوسکتا ، لیکن امام مالک کے ہاں بیع سلم کی مقررہ شرائط کا اس میں لحاظ رکھا جاسکتا ہے کیوں کہ امام مالک کے ہاں بیع سلم کی شرائط میں نرمی ہے. اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ معاملات میں بغرض سہولت اور بوجہ ابتلاء عام مذہب سے خروج جائز بلکہ بعض حالات میں ضروری ہو تا ہے جیسا کہ احسن الفتاوی ، 489 پر یہ بات مذکور بھی ہے۔
اگر بیع سلم پر اس کا حمل کسی طرح ممکن نہیں ہے تو کیا اس عقدکو "اجارةالاشجار" پر محمول کیا جا سکتا ہے جیساکہ استیجارالظئر( مرضعہ کے ساتھ عقداجارہ) کے جواز کی ایک علت تعامل الناس اور عرف و رواج بھی ہے ۔جو آج کل تقریبا عرف عام بن چکا ہے ۔
حضرات مفتیان کرام جامعۃ الرشید!
اگراس صورت (دوسری صورت)میں جواز کا فتوی نہیں دیا جا سکتا تو کیا جن لوگوں نے اس صورت میں ماضی میں کئی عقود کیے ہیں ان کو درستی پر محمول کیا جا سکتا ہے یاوہ عقود باطلہ ہی شمار ہو ں گے ؟اس وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ یہ لوگ کئی سالوں سے اس طرح کے عقود باطلہ میں مبتلا ہیں،اب اس کی تلافی ہم کیسے کریں گے؟اب اگر ہم ان کو یہ جواب دیں کہ یہ عقود باطلہ ہیں جو آپ کر چکے ہیں،لہذا آپ عقود باطلہ کے تمام سالوں کا منافع باغات کے مالکوں کوواپس کریں گے تو یہ لوگ شاید حرج میں مبتلا ہو جائیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے کئی سالوں سے مسلسل دونوں طرح کے یعنی پہلی اور دوسری صورت کےمطابق معاملات کیے ہیں اور اس قسم کےمعاملات کرنے کے بعد باغات سے لاکھوں کروڑوں کی مقدار میں کمائی کی ہے،تواس کا حکم کیا ہو گا؟
1۔کیا کئی سالوں کی ساری کمائی باغات کے مالکوں کو دیں گے؟
2۔اس کے حساب کتاب کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟
3۔اگرحرجِ شدیدہو ( اور یہ مسلم ہے کہ اس میں ضرورحرج شدید ہوگا کیوں کہ ان باغات پر کافی سارے اخراجات بھی ہوچکے ہیں تو کیا اس میں معافی کی کوئی گنجائش ہو سکتی ہے ؟
کیا آئندہ اس طرح کے عقود ( پہلی ودوسری صورت) کےجواز کی کوئی گنجائش ہو سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ جب درخت پرصرف پھول ظاہر ہوئے ہوں تو ان کی خرید وفروخت درست ہے ،لیکن اس صورت میں پھلوں کی نہیں، بلکہ پھولوں کی بیع کرنی پڑے گی ۔
2۔ جب تک پھل ظاہر نہ ہوئے ہوں اس وقت تک ان کی خرید وفروخت ناجائز ہے ۔
3۔احناف کے نزدیک اس میں سلم کا معاملہ نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ کسی متعین باغ یا کھیت کی پیداوار سے متعلق سلم کا معاملہ درست نہیں،کیونکہ سلم میں مسلم فیہ (جو چیز خریدی جائے)ایسی ہونی چاہیے جو کبھی موسمی خرابی کی وجہ سے بالکل ناپید نہ ہوتی ہو،بلکہ اگر ایک جگہ سے نہ ملے تو دوسری جگہ سے ملنے کی امید ہو،اب اگر ایک خاص باغ پر معاملہ کیاجائے تو اس میں یہ شرط نہیں پائی جائے گی،کیونکہ اگر اس خاص باغ میں موسمی خرابی کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے پیداوار ہی حاصل نہ ہوتو پھر اس کا کوئی متبادل نہ ہوگا۔جبکہ سلم میں اسی چیز کی خرید وفروخت ہوسکتی ہے کہ اگر ایک جگہ سے نہ ملے تو دوسری جگہ سے اس جیسی چیز بآسانی مل سکتی ہو،تاکہ سلم کا معاملہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے۔نیز اس میں سلم کی دوسری شرائط بھی مفقود ہیں،مثلا:مدت اورمقدار کاتعین وغیرہ ۔
4۔ مالکیہ کے نزدیک پھلوں میں سلم کا معاملہ کرنا درست نہیں ہے،فقط بیع کرسکتے ہیں ،اس کےلیے بھی یہ شرط ہے کہ پھل ظاہر ہوکر سرخی یا زردی مائل ہوچکے ہوں۔
علامہ ابن المنذر رحمہ اللہ نے اس بات پر اجماع ذکر کیا ہے کہ متعین باغ وزمین کی پیداوار میں سلم کی ممانعت پر علماء متفق ہیں۔
5۔واضح رہے کہ:"عقدِاجارہ"کے ذریعہ کسی چیز کے منافع اور سہولیات کو حاصل کیاجاسکتاہے،کسی چیز کےعین اورذات کو حاصل نہیں کیاجاسکتا؛لہٰذا باغات کو اس طور پر کرایہ پر دینا کہ:"کرایہ دار اس کے پھلوں کواستعمال میں لاکر اس سے فائدہ اٹھائے گا"جائز نہیں ہے؛کیوں کہ اس معاملہ میں درختوں اورپھلوں کے "عین" کوکرایہ پرلیاجاتاہے، نہ کہ اس کے"منافع "کو،اوراجارہ میں "عین"کوکرایہ پرلیناجائز نہیں ہے۔
استیجارالظئر کا مسئلہ قرآن کریم کی آیت سے استدلال کے ساتھ اور حدیث سے ثابت ہے۔فقہاءاحناف نے وہاں اس جہت کو ترجیح دی ہے کہ اس میں بھی منافع یعنی بچے کی خدمت اور دیکھ بھال کے عوض رقم دی جاتی ہے،عین یعنی دودھ کا عوض نہیں دیا جاتا۔
6۔ پھولوں کی بیع درست ہے،جیساکہ نمبر1 میں گذر چکاہے۔
ظاہر ہونےسے پہلے پھلوں کی خریدوفروخت بیع باطل کے حکم میں ہے ،اور بیع باطل میں جب مبیع موجود نہ ہوتو اس کی مثل واپس دینا لازم ہے،اگر مثل نہ ہوتو قیمت دی جائے گی۔پھلوں میں چونکہ مثل واپس کرنا ممکن نہیں،اس لیے قیمت واپس کی جائے گی۔اور جب معاملہ کئی سالوں پر مبنی ہو،اخراجات کا حساب وکتاب بھی معلوم نہ ہوتو پھر آسانی کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ فروخت کرنے والا اور خریدار آپس میں ایک دوسرے کے ذمہ موجود رقم کا مقاصہ کرلیں۔یعنی ایک دوسرے کے ذمہ لازم رقم کی ادائیگی ساقط کردیں۔اور جس کی طرف اضافی رقم بن رہی ہو وہ معاف کردیں۔
7۔ اگر پھلوں کے ظاہر ہونے سے پہلےباغ کی خرید وفروخت کرنا چاہیں تو جائز ہونے کی یہ صورتیں ہوسکتی ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ اس وقت بیع نہ کی جائے بلکہ وعدہ بیع کیا جائے مثلا ، بائع (فروخت کنندہ) مشتری (خریدار) کو کہے کہ جب پھل قابلِ بیع ہو جائیں گے تو میں اتنی رقم کے عوض وہ پھل آپ کو بیچ دوں گا اور خریدار اس بات کا وعدہ کرے کہ میں اس رقم کے عوض یہ پھل خرید لوں گا، اور اس صورت میں بائع یہ دیکھنے کے لئے کہ خریدار اپنے وعدہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں ؟ کچھ رقم وعد ہ کے وقت لے سکتا ہے۔ پھر جب پھل بیع کے قابل ہو جائیں تو خریدار باقاعدہ بیع( ایجاب و قبول) کے ذریعے ان پھلوں کو خرید لے،باہمی رضامندی سے سابقہ قیمت پر بھی بیع ہو سکتی ہے اور نئی قیمت پر بھی ہو سکتی ہے،بیع ہونے کی صورت میں وعدہ کے وقت لی گئی رقم کو اصل قیمت سے منہا کیا جائے گا۔نیز بیع ہونے سے پہلے باغ کے پھول یا پھل ضائع ہوگئے تو وہ نقصان خریدار کا نہیں ،بلکہ باغ کے مالک کا ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ پہلے درختوں میں مساقاۃ (درختوں کی نگہبانی اور پیداوار میں شرکت) کا عقد ہو، اس
شرط پر کہ ان پھلوں کا متناسب حصہ،مثلا:35فیصد، باغ کے مالک کو اور باقی حصے خریدار کو ملیں گے ،اس کے بعدباغ کا مالک اپنا حصہ خریدار کے لیے مباح کردے ، پھرباغ کا مالک،خریدار کو جتنے سالوں کےلیے چاہے وہ خالی زمین اجارے پر دیدے جو کہ درختوں کے درمیان ہے اور اس کا کرایہ اپنی مرضی سے اس قدرمقرر کرے ، جس میں زمین اور پیداوار دونوں کو ملحوظ رکھا جائے اور اسے مناسب نفع حاصل ہو،اس صورت میں (کہ پہلے مساقاۃ کا عقد ہو ،پھر اجارہ کا )ترتیب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، یہاں دو الگ الگ معاملات ہوں گے،اب اگر پھل نہ ہو یا کم ہو تو اس کی وجہ سے کرایہ دار کو اجارہ کی اجرت میں کمی کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں ہوگا،نیز اگر کرایہ دار اس زمین میں اپنی کوئی چیز کاشت کرلیتا ہے تو باغ کے مالک کو بھی اسے روکنے کا حق نہیں ہوگا۔
تیسری صورت جو ذرا طویل اور مشکل ہے مگراس اعتبارسے بہتر ہے کہ لوگ زمین کے ساتھ پھر درختوں کی بھی حفاظت کریں گے وہ یہ ہے کہ متعین مدت تک متعین اجرت پر زمین کرایہ پر دی جائے،اس کے بعد کرایہ پر لینے والا اس میں اپنے خرچے سے باغ لگائےاور آمدن بھی خود لے ،کرایہ داری کی مدت ختم ہونے پر باغ کے درختوں کی مناسب قیمت لگا کر مالکِ زمین کو دیے جائیں،یا اگر فریقین چاہیں تو درخت کاٹے بھی جاسکتے ہیں۔
حوالہ جات
مسند احمد (2/25):
عن ابي إسحاق ، عن النجراني ، قال: قلت لعبد الله بن عمر : اسلم في نخل، قبل ان يطلع، قال: لا، قلت: لم، قال: إن رجلا اسلم في حديقة نخل في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، قبل ان يطلع النخل فلم يطلع النخل شيئا ذلك العام، فقال المشتري: هو لي حتى يطلع، وقال البائع: إنما بعتك النخل هذه السنة، فاختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال للبائع:" اخذ من نخلك شيئا"، قال: لا، قال:" فبم تستحل ماله اردد عليه ما اخذت منه ولا تسلموا في نخل حتى يبدو صلاحه".
" سنن أبي داود" (3/ 260):
"عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع العنب حتى يسود و عن بيع الحب حتى يشتد".
" رد المحتار" (18/ 383):
" ( ومن باع ثمرة بارزة ) أما قبل الظهور فلا يصح اتفاقا .( ظهر صلاحها أو لا صح ) في الأصح .( ولو برز بعضها دون بعض لا ) يصح .( في ظاهر المذهب ) وصححه السرخسي وأفتى الحلواني بالجواز لو الخارج أكثر زيلعي" .
"الدر المختار" (5/ 288):
"فيستأجر أرضه الخالية من الأشجار بمبلغ كثير، ویساقي على أشجارها بسهم من ألف سهم، فالحظ ظاهر في ا لإجارة لا في المساقاة، فمفاده فساد المساقاة بالأولى لأن كلا منهما عقد على حدة. (بمبلغ كثير) أي بمقدار ما يساوي أجرة الأرض وثمن الثمار.قوله: (ويساقي على أشجارها) يعني قبل عقد ا لإجارة ، وإلا كانت إجارة الأرض مشغولة فلا تصح كما سيأتي.
وفي مسائل الشيوع من البزازية: استأجر أرضا فيها أشجار أو أخذها زراعة وفيها أشجار: إن كان في وسطها لا يجوز إلا إذا كان في الوسط شجرتان صغيرتان مضى عليهما حول أو حولان لا كبيرتان، لأن ورقهما وظلهما يأخذ الأرض والصغار لا عروق لها، وإن كان في جانب من الأرض كالمسناة والجداول يجوز لعدم الإخلال اه.قوله: (بسهم) أي بإعطاء سهم واحد لليتيم أو الوقف والباقي للعامل.
قوله: (فمفاده) أي مفاد ما تقدم من قوله: فتفسخ في كل المدة إلخ وقدمنا أن المصنف استفاده من كلام الخانية، وهو بمعنى ما استفاده منه الشارح فافهم.قوله: (بالأولى) ۔۔۔وفي فتاوى الحانوتي: التنصيص في الإجارة على بياض الأرض لا يفيد الصحة، حيث تقدم عقد الإجارة على عقد المساقاة، أما إذا تقدم عقد المساقاة بشروطه كانت الإجارة صحيحة كما صرح به في البزازية".
وقال الرافعی رحمہ اللہ تعالی:"(قولہ:فلا تصح کما سیأتی)الذی ذکرہ الحموی أخر السابع عشر من فن الحیل نقلا عن المحیط الرضوی استیجار الأشجار لایجوز ،وحیلتہ أن یؤاجر الأرض البیضاء التی تصلح للزراعۃ فیما بین الأشجار بأجر مثلھا وزیادۃ قیمۃ الثمار ثم یدفع رب الأرض الأشجار معاملۃ الیہ علی أن یکون لرب الأرض جزء من ألف جزء ویأمرہ أن یضع ذلک الجزء حیث أراد ،لأن مقصود رب الأرض أن تحصل لہ زیادۃ أجرالمثل بقیمۃ الثمار ومقصود المستأجر أن یحصل لہ ثمار الأشجار مع الأرض وقد حصل مقصودھما بذلک فیجوز".
الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي (3/ 211):
(و) الشرط السابع (وجوده) أي المسلم فيه (عند حلوله) أي حلول أجله المعين بينهما ولا يشترط وجوده في جميع الأجل ولذا قال (وإن انقطع قبله)۔۔۔(لا نسل حيوان عين وقل) فلا يجوز لفقد الشرطين السابقين مع ما فيه من بيع الأجنة المنهي عنه وتبع في قيد القلة ابن الحاجب وابن شاس وتعقبه ابن عرفة بأن ظاهر المدونة المنع مطلقا (أو) ثمر (حائط) عين وقل أي صغر فحذفه من الثاني لدلالة الأول عليه فيمتنع السلم فيه لما تقرر أن المسلم فيه لا بد أن يكون دينا في الذمة وثمر الحائط المذكور ليس كذلك فلا يتعلق به العقد على وجه السلم الحقيقي والعقد المتعلق به إنما هو بيع حقيقة فيجري على حكمه غير أنه تارة يقع العقد على تسميته سلما وتارة يقع عليه مجردا عن التسمية المذكورة ولكل منهما شروط إلا أنهما يتفقان في معظمها كما بينه وحينئذ فالتفرقة نظرا للفظ وإلا فهو بيع في الحقيقة لأن الفرض أن الحائط معين وهي إحدى المواضع التي فرقوا فيها بين الألفاظ فظهر بهذا التقرير أنه لا منافاة بين قوله أو حائط أي لا يسلم فيه سلما حقيقيا وبين قوله (وشرط) لشراء ثمرة الحائط المعين (إن سمي) في العقد (سلما لا) إن سمي (بيعا إزهاؤه) لأن تسميته سلما مجاز لا حقيقة وأشار بذلك إلى أنه يشترط حيث سمي سلما شروط ستة فإن سمي بيعا اشترط فيه ما عدا كيفية قبضه,فإنه شرط في السلم خاصة خلافا لما يفيده كلام المصنف من أنه إن سمي بيعا لا يشترط فيه شيء منها، الشرط الأول إزهاؤه للنهي عن بيع الثمرة قبل بدو صلاحها۔(قوله الشرط الأول) أي فيهما (قوله إزهاؤه) أي اصفراره أو احمراره۔
المغني لابن قدامة (4/ 221):
[فصل أسلم في ثمرة بستان بعينه أو قرية صغيرة]
(3227) فصل: ولا يجوز أن يسلم في ثمرة بستان بعينه، ولا قرية صغيرة؛ لكونه لا يؤمن تلفه وانقطاعه. قال ابن المنذر: إبطال السلم إذا أسلم في ثمرة بستان بعينه كالإجماع من أهل العلم، وممن حفظنا عنه ذلك؛ الثوري، ومالك، والأوزاعي، والشافعي، وأصحاب الرأي، وإسحاق.
قال: وروينا عن النبي - صلى الله عليه وسلم - «، أنه أسلف إليه رجل من اليهود دنانير في تمر مسمى، فقال اليهودي: من تمر حائط بني فلان. فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: أما من حائط بني فلان فلا، ولكن كيل مسمى إلى أجل مسمى» . رواه ابن ماجه وغيره، ورواه أبو إسحاق الجوزجاني، في " المترجم ". وقال: أجمع الناس على الكراهة لهذا البيع. ولأنه إذا أسلم في ثمرة بستان بعينه، لم يؤمن انقطاعه وتلفه، فلم يصح، كما لو أسلم في شيء قدره بمكيال معين، أو صنجة معينة، أو أحضر خرقة، وقال: أسلمت إليك في مثل هذه.
البناية شرح الهداية (10/ 287)
قال: ويجوز استئجار الظئر بأجرة معلومة لقوله تعالى: {فإن أرضعن لكم فآتوهن أجورهن} [الطلاق: 6] (الطلاق: الآية 6) ، ولأن التعامل به كان جاريا على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وقبله وأقرهم عليه. ثم قيل إن العقد يقع على المنافع وهي خدمتها للصبي والقيام به، واللبن يستحق على طريق التبع بمنزلة الصبغ في الثوب. وقيل إن العقد يقع على اللبن والخدمة تابعة، ولهذا لو أرضعته بلبن شاة لا تستحق الأجر، والأول أقرب إلى الفقه؛ لأن عقد الإجارة لا ينعقد على إتلاف الأعيان مقصودا، كما إذا استأجر بقرة ليشرب لبنها
سیدنویداللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید
25/صفر 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


