03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم کی توہین سے متعلق اہم سوالات
81316جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

سب تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے اور بے شمار درود و سلام نبی کریم ﷺ پر،  اللہ رب کریم ہم سب کا خاتمہ بالا یمان فرمائے۔آمین۔آپ حضرات سے سوشل میڈیا پر ہونے والی تو ہین کے حوالہ سے چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

ا۔ اگر کوئی شخص نعوذ باللہ مذہبی مقدسات جیسےجائے نمازیا مصحف شریف کی توہین کا( پیشاب کرنے) Urinationیا (استمناء)Semination کے ذریعے مر تکب ہو اور اسے قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتا رکر لیں تو کیا عدالت میں مصحف شریف یا جائے نماز کو جرم کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کے مرحلے سے گزارنے کےوقت تک اسی حالت میں رکھنا شرعاً جائز ہے ؟ عمومًا ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ تیس دنوں میں یا اگر پہلی ترجیحی بنیادوں پر اسے مکمل کیاجائے تو کم از کم ۴۸ گھنٹوں میں دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد قرآن مجید کا اسی حالت میں کسی پینگ میں بند رہنا یاعدالتی کاروائی کے بعد اسی حالت میں مال خانہ میں جمع ہو جانا کیسا ہے ؟ برائے مہربانی اس کی شرعی حیثیت کو واضح فرمائیں۔

اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی ذمہ دار فرد توہین کرنے والے شخص سے مصحف شریف یا جائے نماز حاصل کرتے ہوئے اگر فوری طور پر اس کو اس تو ہین سے پاک کرے اور اس دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی ویڈیو بنالیں اور بعد میں اس کا ’’ڈیجیٹل فرانزک‘‘ بھی کر والیا جائے تو کیا یہ ویڈیو جرم کو ثابت کرنے کے لیے شرعًا کافی ہو گی؟ جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے ذاتی اکاونٹس اور گروپس میں ہونے والی تو ہین اس کے جرم کی شناعت کو مزید واضح اور ثابت کرتی ہو ؟

اگر ویڈیوزیا تصاویر کی صورت میں یہ متبادل طریقہ ثبوت جرم موجود نہ ہو تو محض مجرم کا جرم ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید کو توہین کی اس حالت میں رکھناشر عًاحرام ہے ؟ یا کفر ہے ؟ یا جائز ہے ؟

یہ سوال حالیہ دنوں میں گرفتار ہونے والے ایک شخص کے حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے پوچھا گیا ہے ۔ جو نعوذ باللہ قرآن مجید کی اس انداز سے توہین کیا کرتاتھا۔ اس طرح کا یہ ایک واقعہ نہیں، بلکہ اس نوعیت کی توہین کے متعدد واقعات پیش نظر رکھتے ہوئے یہ استفتاء آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ۔

۲۔ کیا فحاشی پر مبنی توہین آمیز مواد کے ساتھ گستاخی کرنے والے شخص کی گرفتاری کے بعد اسے توبہ کی دعوت دی جاسکتی ہے ؟ اور اگر وہ توبہ کر لے توگرفتاری کے بعد کی توبہ پر کیا شرعی احکامات مترتب ہوں گے؟

۳۔ کیا توہین آمیز مواد چاہے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے ہی ہوشئیر کر ناحرام ہے ؟ یا کفر ؟

۴۔ا گر توہین آمیز مواد فحاشی پر مبنی ہو جیسے نعوذ باللہ اللہ رب العزت کے اسم جلالت اور محمد رسول اللہ م کے اسم مبارک کا تصاویر میں برہنہ عورتوں کے جسموں پر ناپاک حصوں پر لکھا ہوا ہوتو کیا حصولِ لذت کے لیے اسے ڈاؤن لوڈ کر نا، لائیک کر نا، اس پر مثبت تاثرات دینا ،لذت کے لیے دیکھنا یا نعوذ باللہ رضامندی کے ساتھ شئیر کر ناشر عاکفر ہے ؟ مختلف سرچ انجنز اور ویب سائیٹس پر اس طرح کا مواد موجود ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آسمانی کتابوں میں سے سب سے اعلیٰ اور مقدس ترین کتاب ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطورِ معجزہ  عطاکی گئی اور قیامت تک کے لیے اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے لیا، یہی وجہ ہے کہ ساڑھے چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اس میں کسی قسم کی تحریف اور ترمیم نہیں کی جا سکی۔ یہ مقدس کتاب  دینِ اسلام کے عظیم الشان شعائر میں سے ہے، اس کی عظمت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حکم دیا کہ "لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ"  یعنی اس کو صرف پاکیزہ لوگ چھو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے علمائے امت نے ہمیشہ قرآن کریم کی تعظیم اور تقدیس کو لازم اور فرض قرار دیا اور اس کی تعظیم میں کوتاہی اور غفلت کرتے ہوئے توہین کا مظاہرہ کرنے والے شخص کو کافر اور غیر مسلم قرار دیا۔لہذا قرآن کریم کی توہین کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج اور عبرتناک سزا کا مستحق ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوال میں ذکرکردہ توہین آمیز رویہ کی تحقیق کرکے متعلقہ افراد کو عبرتناک سزا دیں، تاکہ وہ دیگر لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائےاور آئندہ کوئی شخص قرآنِ کریم کے ساتھ  ایسی گھناؤنی  اور غلیظ حرکت نہ کر سکے۔

اس تمہید کے بعد سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

  1. قرآن کریم پر کسی بھی قسم کی غلاظت اور نجاست لگ جانے کی صورت میں اس کو فوری طور پر یا ضرورت کے پیشِ نظر تاخیر سے دھونے سے متعلق کوئی صریح عبارت تو نہیں ملی، البتہ قرآن وسنت کی نصوص اور فقہائے  اسلام کی عبارات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں قرآن کریم کے اوراق کو فوری طور پر نجاست سے پاک  کرنا ضروری ہے، کیونکہ قرآن کریم اللہ پاک کا کلام ہے، اس پر نجاست کا لگے رہنا اس کی مسلسل توہین کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے عمداً ایک لمبے عرصے تک قرآن کریم کے اوراق کو نجاست کی حالت میں چھوڑے رکھنا ہرگزجائز نہیں۔خصوصاً جبکہ عدالتی معاملات عام طور پر کئی کئی مہینوں تک چلتے رہتے ہیں اوربعض اوقات ایسے معاملات کے حل میں خارجی عناصر کا بھی دخل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے فیصلہ مزید تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے۔

جہاں تک ثبوتِ جرم کا تعلق ہے تو مذکورہ صورت میں شرعی قانون کے مطابق ویڈیو یا  قرآن کریم کو نعوذباللہ نجاست کی حالت میں عدالت میں پیش کرنا دونوں شرعاً ثبوتِ جرم کے لیے کافی نہیں، کیونکہ ویڈیو میں ایڈیٹنگ کا احتمال اور قرآن کریم کو نجس حالت میں پیش کرنے میں یہ احتمال ہے کہ نجاست ایک شخص نے لگائی ہو اور نام دوسرے شخص کا پیش کر دیا جائے اور آج کے دور میں یہ کوئی بعید چیز نہیں ہے، اس لیے شریعت میں حدود وقصاص اور اس طرح کے دیگربڑے جرائم کے ثبوت کے لیے دو عادل گواہ یا مجرم کا اقرار ضروری ہے، نیز سیکورٹی اداروں کے افراد نے اگر اس شخص کو جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے پکڑا ہے تو وہ بھی گواہی دے سکتے ہیں اور اس سے شرعاً جرم ثابت ہو جائے گااوراگر کوشش کے باوجود گواہوں یا اقرار کے ذریعہ اس کا جرم ثابت نہ ہو سکے تو ایسی صورت میں عدالت کے پاس دو اختیار ہیں:

نمبر1: اگر اس شخص  کی ویڈیواور اس کی فرانزک رپورٹ،سوشل میڈیا پر اس کے ذاتی اکاونٹس، اور اس کی طرف سےگروپس میں ہونے والی توہین آمیز گفتگو سے اس کے ارتکابِ جرم کے واضح قرائن کی روشنی میں عدالت کو ارتکابِ جرم کا یقین ہو جائے تو عدالت اپنے علم کے مطابق اس پر تعزیری سزا جاری کر سکتی ہے، کیونکہ علامہ کاسانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ قاضی اپنے علم کے مطابق بھی تعزیر لگا سکتا ہے(عبارت نمبر:10) اور تعزیر کا اصول یہ ہے کہ عدالت جرم کی نوعیت اور اس کی سنگینی کے مطابق تعزیر میں کمی بیشی کر سکتی ہے، اگر جرم بہت بڑا ہو اور مجرم اس کا عادی ہو کہ بار بار اس جرم کا ارتکاب کرتا ہو تو عدالت قرائن کی روشنی میں حاصل شدہ اپنے علم کے مطابق اس کو قتل بھی کرسکتی ہے اور تعزیر بالقتل کی کئی نظائر فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات میں موجود ہیں، چنانچہ اگر کوئی شخص اعلانیہ زنا کرے  یا رمضان المبارک میں اعلانیہ کھائے پیے اور روکنے کے باوجود باز نہ آئے تو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے ایسے شخص پر حاکم اور جج کو تعزیرا قتل کی سزا جاری کرنے کی اجازت دی ہے۔(عبارت نمبر:13،12)لہذا صورتِ مسئولہ میں عدالت مذکورہ بالا قرائن کا جائزہ لے کر اپنے علم کے مطابق ایسے شخص کے خلاف قتل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

نمبر2: اگر سوال میں ذکر کیے گئے قرائن سے عدالت کو اس شخص کے ارتکابِ جرم کا یقین نہ ہو، بلکہ غالب گمان ہو تو دوسرا اختیار یہ ہے کہ عدالت اقرار کروانے کے لیے اس کو جیل میں بند کر سکتی ہے اور حقیقت حال واضح کرنے کے لیے اس پر دباؤ(جيسےسردیوں میں بسترکی اورگرميوں ميں پنكھے كی سہولت فراہم نہ کرنا وغیرہ)بھی ڈالا  جا سکتاہے، جيسا كہ معين القضاة میں مذکور ہے اوراقرارنہ کرنے کی صورت میں عدالت کے پاس اس کو تاحیات قید میں ڈالنے کا بھی اختیار ہے، تاکہ مجرم اپنے سنگین جرم کا اقرار کرلے یا جیل میں ہی قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتا ہوا مر جائے، جیسا کہ علامہ علاؤالدین طرابلسی  نے معین الحکام میں متہم بالسرقة کے بارے میں تصریح کی ہے، اسی طرح مولانا شمس الحق افغانی صاحب رحمہ اللہ نے معین القضاة میں لکھا ہے کہ متہم بالسرقہ کو اقرار کرنے تک قید میں رکھا جائے گا۔(عبارت نمبر:14،15) جب چور کے بارے میں یہ حکم ہے تو توہین قرآن کے عادی مجرم کےبارے میں بدرجہ اولیٰ یہ حکم ہو گا۔

مذکورہ بالا تمام تفصیل قرآن کریم کی توہین سے متعلق ہے، لیکن اگر اس شخص نے جائے نماز کے ساتھ یہ قبیح حرکت کی ہے تو اس کو ثبوت جرم کےقرینہ کے طور پر نجاست کی حالت میں  باقی رکھنے کی گنجائش ہے، کیونکہ جائے نماز کی حیثیت ایک کپڑے کی سی ہے، لہذا ضرورت کے پیشِ نظر ارتکابِ جرم کے قرینہ کے طور پر اس کو نجاست کی حالت میں برقرار رکھنے کی گنجائش ہے، البتہ اس طرح ناپاکی کی حالت میں اس پر نماز ادا کرنا جائز نہیں ہو گا۔

1۔القرْآن الكريم [الواقعة: 77 - 82]:

{إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ (78) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (79) تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ (80) أَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ أَنْتُمْ مُدْهِنُونَ (81) }

2۔بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 33) دار الكتب العلمية، بيروت:

فللحدث أحكام، وهي أن لا يجوز للمحدث أداء الصلاة لفقد شرط جوازها، وهو الوضوء قال - صلى الله عليه وسلم - «لا صلاة إلا بوضوء»، ولا مس المصحف من غير غلاف عندنا، وعند الشافعي يباح له مس المصحف من غير غلاف وقاس المس على القراءة فقال: يجوز له القراءة فيجوز له المس. (ولنا) قوله تعالى {لا يمسه إلا المطهرون} [الواقعة:79] وقول النبي - صلى الله عليه وسلم - «لا يمس القرآن إلا طاهر»، ولأن تعظيم القرآن واجب، وليس من التعظيم مس المصحف بيد حلها حدث، واعتبار المس بالقراءة غير سديد.

3۔المجموع شرح المهذب(2 / 71) أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي (المتوفى: 676هـ) الناشر: دار الفكر،بيروت:

"أجمع العلماء على وجوب صيانة المصحف واحترامه، فلو ألقاه والعياذ بالله في قاذورة: كفر "وأجمعوا على استحباب كتابة المصحف وتحسين كتابته وتبيينها وإيضاحها وإيضاح الخط دون مشقة وتعليقه ويستحب نقط المصحف وشكله لأنه صيانة له من اللحن والتحريف.

4۔التبيان في آداب حملة القرآن (ص: 164) أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي (المتوفى: 676هـ) الناشر: دار الفكر،بيروت:

أجمع المسلمون على وجوب تعظيم القرآن العزيز على الإطلاق وتنزيهه وصيانته وأجمعوا على أن من جحد منه حرفا مما أجمع عليه أو زاد حرفا لم يقرأ به أحد وهو عالم بذلك فهو كافر قال الامام الحافظ أبو الفضل القاضي عياض رحمه الله أعلم أن من استخف بالقرآن أو بشئ منه أو سبه أو جحد حرفا منه أو كذب بشئ مما صرح به فيه من حكم أو خبر أو أثبت ما نفاه أو نفي ما أثبته وهو عالم بذلك أو يشك في شئ من ذلك فهو كافر بإجماع المسلمين وكذلك إذا جحد التوراة والإنجيل أو كتب الله المنزلة أو كفر بها أو سبها أو استخف بها فهو كافر تنبيه وقد أجمع المسلمون على أن القرآن المتلو في الأقطار المكتوب في الصحف الذي بأيدي المسلمين مما جمعه الدفتان من أول الحمد لله رب العالمين إلى آخر قل أعوذ برب الناس كلام الله ووحيه المنزل على نبيه محمد صلى الله عليه وسلم: وأن جميع ما فيه حق وأن من نقص منه حرفا قاصدا لذلك أو بدله بحرف آخر مكانه أو زاد فيه حرفا مما لم يشتمل عليهالمصحف الذي وقع فيه الإجماع وأجمع على أنه ليس بقرآن عامدا لكل هذا فهو كافر قال أبو عثمان بن الحذاء جميع أهل التوحيد متفقون على أن الجحد بحرف من القرآن كفر وقد اتفق فقهاء بغداد على استتابة ابن شنبوذ المقرئ أحد أئمة المقرئين المتصدرين بها مع ابن مجاهد لقراءته وإقرأئه بشواذ من الحروف مما ليس في المصحف وعقدوا عليه للرجوع عنه والتوبة سجلا أشهدوا فيه على نفسه في مجلس الوزير أبي بن مقلة سنة ثلاث وعشرين وثلثمائة وأفتى محمد بن أبي زيد فيمن قال لصبي لعن الله معلمك وما علمك قال أردت سوء الأدب ولم أرد القرآن قال يؤدب القائل قال وأما من لعن المصحف فانه يقتل هذا آخر كلام القاضي عياض رحمه الله.

5۔حكم الطهارة لمس القرآن الكريم (ص: 4) للشيخ عمر بن محمد السبيل:

أن الله عز وجل أخبر أن هذا القرآن الكريم لا يمسه إلا المطهرون إجلالاً له وتعظيمًا، وجاء الإخبار في الآية بصيغة الحصر فاقتضى ذلك حصر الجواز في المطهرين، وعموم سلبه في غيرهم، والمراد بالمطهرين؛ المطهرون من الأحداث والأنجاس من بني آدم.

6۔مجموع الفتاوى" (8 / 425) شيخ الإسلام  تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن تيمية (المتوفى: 728هـ)

"وقد اتفق المسلمون على أن من استخف بالمصحف،مثل أن يلقيه في الحش أو يركضه برجله إهانة له: أنه كافرمباح الدم " 

7۔مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج (5/ 431) محمد بن أحمد الخطيب الشربيني (المتوفى: 977هـ) دار الكتب العلمية، بيروت:

 (والفعل المكفر ما تعمده) صاحبه (استهزاء صريحا بالدين أو جحودا له كإلقاء مصحف) وهو اسم للمكتوب من كلام الله بين الدفتين (بقاذورة) بذال معجمة لأنه صريح في الاستخفاف بكلام الله تعالى، والاستخفاف بالكلام استخفاف بالمتكلم.

8۔حاشيتا قليوبي وعميرة (1/ 40) دار الفكر،بيروت:

ويجب غسل مصحف تنجس وإن أدى إلى تلفه وكان لمحجور ولا ضمان. نعم لا تحرم الوقاية بورقة مكتوب عليها نحو البسملة، ويحرم السفر بالمصحف إلى بلاد الكفار إن خيف وقوعه في أيديهم، ويحرم كتابة القرآن بنجس ولو معفوا عنه كمسه به.

9۔منح الجليل شرح مختصر خليل (1/ 56) دار الفكر،بيروت:

وإن كتب مصحف بمداد متنجس محي بماء طهور أو أحرق فإن زالت عين النجاسة وبقي حكمها بثوب، أو منديل، أو نعل جاز الانتفاع به في المسجد.

10۔ ۔بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 65) دار الكتب العلمية، بيروت:

وأما بيان ما يظهر به فنقول: إنه يظهر به سائر حقوق العباد من الإقرار والبينة والنكول وعلم القاضي، ويقبل فيه شهادة النساء مع الرجال، والشهادة على الشهادة، وكتاب القاضي إلى القاضي، كما في سائر حقوق العباد، وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمهما الله - لا يقبل فيه شهادة النساء، والصحيح هو الأول؛ لأنه حق العبد على الخلوص فيظهر بما يظهر به حقوق العباد، ولا يعمل فيه الرجوع كما لا يعمل في القصاص وغيره، بخلاف الحدود الخالصة لله تعالى، والله تعالى - عز شأنه - أعلم بالصواب، وإليه المرجع والمآب.

11۔تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (3/ 211) لمطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

ويثبت التعزير بشهادة رجلين أو رجل وامرأتين لأنه من جنس حقوق العباد ولهذا تقبل فيه الشهادة على الشهادة ويصح العفو عنه وشرع في حق الصبيان والتكفيل.

12۔مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 609) دار إحياء التراث العربي،بيروت:

وفي التنوير ويكون التعزير بالقتل كمن وجد رجلا مع امرأة لا تحل له إن كان يعلم أنه لا ينزجر بصياح وضرب بما دون السلاح وإلا لا، وإن كانت المرأة مطاوعة قتلهما، ولو

كان مع امرأته، وهو يزني بها، أو مع محرمه وهما مطاوعتان قتلهما جميعا مطلقا وعلى هذا المكابر بالظلم وقطاع الطريق وصاحب المكس وجميع الظلمة بأدنى شيء قيمة ويقيمه كل مسلم حال مباشرة المعصية وبعدها ليس ذلك لغير الحاكم حتى لو عزره بعد الفراغ منها بغير إذن المحتسب فللمحتسب أن يعزر المعزر.

13۔الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (7/ 5594) دار الفكر - سوريَّة – دمشق:

التعزير بالقتل سياسة:

أجاز الحنفية والمالكية : أن تكون عقوبة التعزير كما في حال التكرار (العود) أو اعتياد الإجرام، أو المواقعة في الدبر (اللواطة)، أو القتل بالمثقل عند الحنفية: هي القتل، ويسمونه القتل سياسة، أي إذا رأى الحاكم المصلحة فيه، وكان جنس الجريمة يوجب القتل.

وقد أفتى أكثر فقهاء الحنفية بناء عليه بقتل من أكثر من سب النبي صلّى الله عليه وسلم من أهل الذمة، وإن أسلم بعد أخذه، وقالوا: يقتل سياسة. وأجمع العلماء كما قال القاضي عياض في الشفا على وجوب قتل المسلم إذا سب النبي صلّى الله عليه وسلم، لقوله تعالى: {إن الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والآخرة وأعد لهم عذاباً مهيناً}

14معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام (ص: 178) دار الفكر،بيروت:

إذا وجد عند المتهم بعض المتاع المسروق وادعى المتهم أنه اشتراه ولا بينة له - فهو متهم بالسرقة ولا سبيل للمدعي إلا فيما بيده، فإن كان غير معروف بذلك فعلى السلطان حبسه والكشف عنه، وقد صح عنه - عليه الصلاة والسلام - أنه حبس في تهمة، وإن كان معروفا بالسرقة فإنه يطال في حبسه حتى يقر.

 (مسألة): إذا كان المدعى عليه متهما قال بعضهم: يمتحن بالسجن بقدر رأي الإمام. وكتب عمر بن عبد العزيز أنه يحبس حتى يموت: يعني إذا لم يقر، وبه قال أبو الليث.

15۔معين القضاة للشيخ شمس الحق الأفغاني(ص:71)ميرمحمد كتب خانه كراتشي:

إذا رفع للقاضي رجل يعرف بالسرقة والدعارة فادعى عليه بذلك رجل فحبسه لاختبار ذلك فأقرفي السجن بما ادعى عليه من ذلك فذلك يلزمه وهذا الحبس خارج عن الإكراه وقال في شرح التجريد في مثله، وإن خوّفه بضرب سوط أو حبس يوم حتى يقر، فهذا ليس بإكراه وقال محمد ليس في هذا وقت لأن الناس متفاوتون في ذلك، فرب إنسان يغتم لحبس يوم والاخرلا يغتم لتفاوتهم  في الشرف والدناءة فيفوض إلى رأي كل قاضي في زمنه۔ 

  1. سوال میں ذکر کی گئی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص فیس بک اور وٹس ایپ گروپس میں بھی نعوذ باللہ قرآن کریم کی توہین کا ارتکاب کرتا تھا، جو کہ اعلانیہ توہین کرنے کے مترادف ہےاوراس سے اس کا توہینِ قرآن  کےسلسلہ میں داعی ہونا بھی لازم آتا ہے، نیز سوال میں یہ بھی درج ہے:"کہ یہ سوال اس شخص کے بارے میں ہے جو نعوذ باللہ قرآن مجید کی اس انداز سے توہین کیا کرتاتھا"جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس گھناؤنے فعل کا عادی مجرم ہے اور پھر اس شخص کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے، اس لیے اس تمام صورتِ حال کے پیشِ نظر قرآن کریم کی اس طرح غلیظ طریقہ سے توہین کرنے والے عادی مجرم کو گرفتار کرنے کے بعد توبہ کی دعوت نہیں دی جائے گی، کیونکہ ایسے شخص کو توبہ کی دعوت دینا اس کو سزا سے بچنے کا ایک حیلہ بتانے کے مترادف ہو گا، جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔

چنانچہ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے تو مختلف ائمہ کرام رحمہم اللہ کے حوالے سے ایسے شخص کے قتل کرنے اور اس کی توبہ کے قبول نہ کرنے پرفقہائے اسلام کے اتفاق اور اجماع کا دعوی کیا ہے، علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ نے بھی جمہور فقہائے کرام رحمہم اللہ کے حوالے سے یہی موقف نقل کیا ہے، علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور توبہ سے متعلق اپنے  مفصل رسالہ میں  بحث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اگر ایسا شخص اپنے اس قبیح فعل میں معروف ہو اور وہ اس جرمِ عظیم کی طرف داعی ہو تو اس کے قتل کرنے میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں، اگرچہ وہ توبہ کر لے۔علامہ ابنِ نجیم رحمہ اللہ نے اس قول پر فتوی کی تصریح کی ہے، لہذا سوال میں ذکر کیے گئے شخص کو نہ توبہ کی دعوت دی جائے گی اور اگر یہ شخص از خود توبہ کر لے تو بھی فقہائے کرام کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ بلکہ ایسے شخص کو اس کے سنگین جرم کی پاداش میں قتل کی سزا دے کر کیفر کردار تک پہنچانا عدالت اور ریاستی اداروں کی شرعی ذمہ داری ہے، تاکہ آئندہ کے لیے کوئی شخص اس طرح کے قبیح جرم کا ارتکاب نہ کرے۔

۳۔ قرآن کریم یا اسلام کے کسی قطعی حکم کی توہین پر مشتمل مواد کو آگے شیئر کرنا ہرگز جائز نہیں، اگرچہ اس سے فی نفسہ توہین کرنا لازم نہیں آتا، لیکن اس طرح کے مواد کوسوشل میڈیا پر برسرِ عام شیئر کرنا عزت اور احترام کے بالکل خلاف ہے،یہ ایسا ہی ہے  جیسے کوئی شخص کسی کی ماں یا باپ کو گالی دے اور دوسراشخص دوسروں کوبتائے کہ فلاں شخص نے میرے والدین کو یوں گالی دی ہے تو اس کو کوئی بھی عقلمند شخص درست نہیں سمجھے گا، بلکہ اس کو والدین کی بے عزتی تصور کرے گا۔

لہذا اللہ تعالیٰ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن کریم یا شعائر اسلام پر مشتمل توہن آمیز مواد کو بلاضرورت عوام الناس یا میڈیا وغیرہ کے سامنے شیئر کرنا جائز نہیں، البتہ اگر عدالت یا کسی پنچائت وغیرہ میں ایسےشخص کے جرم کو ثابت کرنے کے ارادے سے اس طرح کے موا کو پیش کیا جائے یا اس کی اس طرح کی ویڈیوز عدالت میں شیئر کی جائیں تو اس کی اجازت ہے۔

۴۔ نعوذ باللہ فحاشی پرمشتمل توہین آمیز پر خوش ہونا اور حصولِ لذت کے لیے اس کو ڈاؤن لوڈ کرنے،اس کو لائیک (پسند) کرنے، اس پر مثبت تاثرات دینے، رضامندی کے ساتھ شئیر کر نے اور اس طرح کے مواد کو حصولِ لذت کے لیے دیکھنے میں دو احتمال ہیں:

اول: اول یہ کہ یہ شخص اس توہین پر خوش ہو اورنعوذ باللہ اس طرح کی گستاخی اور توہین  کو رضامندی کے ساتھ ڈاؤن لوڈ یا لائیک (پسند)  یا اس پر مثبت اور تائیدی کلمات لکھے یا توہین آمیز کلمات کو دیکھ کرلذت حاصل کرتا ہے تو ایسی صورت میں یہ شخص بھی دائرہٴ اسلام سے خارج ، زندیق اور مرتد ہے،  کیونکہ پر شعائراسلام کی توہین پر رضامندی کا اظہاربھی کفر ہے، لہذااس کی سزا  بھی قتل ہے۔

دوم: اگر یہ شخص توہین اور گستاخی  پر راضی نہیں تھا، بلکہ وہ  اپنی فاسد طبیعت اور بہیمانہ فطرت کے باعث مردوعورت کےبرہنہ اعضاء کو دیکھ کر لذت حاصل کرتا ہے اور انہی اعضاء کی تصاویر کو حصولِ لذت کی خاطرڈاؤن لوڈ یا لائیک (پسند)  کرتا ہے یا اس پر مثبت اور تائیدی کلمات  لکھتا ہے تو ایسی صورت میں اگرچہ وہ سخت گناہ گار اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے اورزجرا سزا کا بھی مستحق ہے، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت رکھنے والا کوئی بھی مسلمان ایسے قبیح فعل کا ارتکاب نہیں کر سکتا، مگر چونکہ اس میں توہین پر عدمِ رضامندی کا کسی حد تک احتمال موجود ہے اور کفرواسلام کا معاملہ انتہائی نازک اور احتیاط پر مبنی ہے، چنانچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کے قول یا فعل میں  کئی احتمالات ہوں، ان میں سے ایک احتمال اسلام کا اور باقی سب کفر کے ہوں تو اسلام کے ایک احتمال کا اعتبار کر کے  اس کو مسلمان قرار دیا جائے گا اور اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا، اس لیے مذکورہ صورت میں ادنی احتمال کی وجہ سے اس کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ البتہ ایسے شخص کو بھی احتیاطا تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کرنا  اورآئندہ کے لیے اس طرح کے گھناؤنے اور قبیح فعل سے اجتناب ضروری ہے، نیز اپنے سابقہ جرمِ عظیم پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا بھی لازم ہے۔

حوالہ جات

الشفاء بتعريف حقوق المصطفى - وحاشية الشمني (2/ 214) دار الفكر الطباعة والنشر والتوزيع:

أن جميع من سب النبي صلى الله عليه وسلم أو عابه أو ألحق به نقصا في نفسه أو نسبه أو دينه أو خصلة من خصاله أو عرض به أو شبهة بشئ على طريق السب له أو الأزراء عليه أو التصغير لشأنه أو الغض منه والعيب له فهو ساب له والحكم فيه حكم الساب يقتل كما نبينه ولا نستثني فصلا من فصول هذا الباب على هذا المقصد ولا يمترى فيه تصريحا كان أو تلويحا وكذلك من لعنه أو دعا عليه أو تمنى مضرة له أو نسب إليه ما لا يليق بمنصبه على طريق الذم أو عبث في جهته العزيزة بسخف من الكلام وهجر ومنكر من القول وزور أو عيره بشئ مما جرى من البلاء والمحنة عليه أو غمصه ببعض العوارض البشرية الجائزة والمعهودة لديه وهذا كله إجماع من العلماء وأئمة الفتوى من لدن الصحابة رضوان الله عليهم إلى هلم جرا، قال أبو بكر بن المنذر أجمع عوام أهلى العلم على أن من سب النبي صلى الله عليه وسلم يقتل وممن قال ذلك مالك بن أنس والليث وأحمد وإسحاق وهو مذهب الشافعي قال القاضي أبو الفضل وهو مقتضى قول أبي بكر الصديق رضي الله عنه ولا تقبل توبته عند هؤلاء، وبمثله قال أبو حنيفة وأصحابه والثوري وأهل الكوفة والأوزاعي في المسلمين لكنهم قالوا: هيردة، وروى مثله الوليد بن مسلم عن مالك وحكى الطبري مثله عن أبي حنيفة وأصحابه فيمن تنقصه صلى الله عليه وسلم أو برئ منه أو كذبه وقال سحنون فيمن سبه: ذلك ردة كالزندقة وعلى هذا وقع الخلاف في استنابته وتكفيره وهل قتله حد أو كفر كما سنبينه في الباب الثاني أن شاء الله تعالى، ولا نعلم خلافا في استباحه دمه بين علماء الأمصار وسلف الأمة وقد ذكر غير واحد الإجماع على قتله وتكفيره وأشار بعض الظاهرية وهو أبو محمد علي بن أحمد الفارسي إلى الخلاف في تكفير المسخف به والمعروف ما قدمناه قال محمد بن سحنون أجمع العلماء أن شاتم النبي صلى الله عليه وسلم المتنقص له كافروالوعيد جار عليه بعذابالله له وحكمه عند الأمة قتل.

السيف المسلول على من سب الرسول (ص: 161) دار الفتح، عمان، أردن:

المسألة الأولى: في قبوله توبته: ولا خلاف أن توبته لا تكون بغير الإسلام، وحيث أطلقنا توبته فالمراد بها إذا أسلم. وقد اختلف العلماء في قبولها مع اتفاقهم أو أكثرهم على قبول توبة المرتد غير الزنديق،/ وقد قدمنا عن القاضي عياض أن مشهور مذهب مالك وأصحابه وقول السلف وجمهور العلماء أنه لا تقبل توبته وأنه يقتل حدًا. قال: وحكمه حكم الزنديق ومسر الكفر في هذا القول، سواء أكانت توبته بعد القدرة والشهادة على قوله أما جاء تائبًا من قبل نفسه، لأنه حد وجب لا تسقطه التوبة، كسائر الحدود.

رسائل ابن عابدين (ج:1،ص:341)ط:سهيل اكيڈمي، لاهور:

وقال صاحب الخلاصة وفي النوازل الخناق والساحر يقتلان لأنهما ساعيان في الأرض بالفساد فإن تابا إن قل الظفر بهما قبلت توبتهما وبعدما أخذا لا تقبل ويقتلان كما في قطاع الطريق وكذا الزنديق المعروف  الداعي إليه أن إلى مذهب الإلحاد .انتهى............... نعم لو کان معروفا بھذا الفعل الفظیع داعیا إلى اعتقاده الشنيع فلاشك ولا ارتياب في زندقته وقتله وإن تاب.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 136) دار الكتاب الإسلامي، بيروت:

وفي الخانية من كتاب الحظر والإباحة الساحر إذا تاب فهو على وجوه إن كان يعتقد نفسه خالقا لما يفعل فإن تاب عن ذلك فقال خالق كل شيء هو الله تعالى وتبرأ عما كان يقول تقبل توبته ولا يقتل وإن كان الساحر يستعمل السحر بالتجربة والامتحان ولا يعتقد لذلك أثرا لا يقتل لأنه ليس بكافر وساحر يجحد السحر ولا يدري كيف يفعل ولا يقربه قالوا لا يستتاب بل يقتل إذا ثبت أنه يستعمل السحر وفي بعض المواضع ذكر أن الاستتابة أحوط قال الفقيه أبو الليث إذا تاب الساحر قبل أن يؤخذ تقبل توبته ولا يقتل وإن أخذ ثم تاب لم تقبل توبته ويقتل وكذا الزنديق المعروف الداعي والفتوى على هذا القول اهـ.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 136) دار الكتاب الإسلامي، بيروت:

وفي الخانية من كتاب الحظر والإباحة الساحر إذا تاب فهو على وجوه إن كان يعتقد نفسه خالقا لما يفعل فإن تاب عن ذلك فقال خالق كل شيء هو الله تعالى وتبرأ عما كان يقول تقبل توبته ولا يقتل وإن كان الساحر يستعمل السحر بالتجربة والامتحان ولا يعتقد لذلك أثرا لا يقتل لأنه ليس بكافر وساحر يجحد السحر ولا يدري كيف يفعل ولا يقربه قالوا لا  يستتاب بل يقتل إذا ثبت أنه يستعمل السحر وفي بعض المواضع ذكر أن الاستتابة أحوط قال الفقيه أبو الليث إذا تاب الساحر قبل أن يؤخذ تقبل توبته ولا يقتل وإن أخذ ثم تاب لم تقبل توبته ويقتل وكذا الزنديق المعروف الداعي والفتوى على هذا القول اهـ.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 231) دار الفكر-بيروت:

(وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا) جماعة من تكررت ردته على ما مر و (الكافر بسب نبي) من الأنبياء فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا، ولو سب الله تعالى قبلت لأنه حق الله تعالى، والأول حق عبد لا يزول بالتوبة، ومن شك في عذابه وكفره كفر.

قال ابن عابدين: (قوله الكافر بسب نبي) في بعض النسخ والكافر بواو العطف وهو المناسب (قوله فإنه يقتل حدا) يعني أن جزاءه القتل على وجه كونه حدا، ولذا عطف عليه قوله ولا تقبل توبته لأن الحد لا يسقط بالتوبة فهو عطف تفسير؛ وأفاد أنه حكم الدنيا، أما عند الله تعالى فهي مقبولة كما في البحر. ثم اعلم أن هذا ذكره الشارح مجاراة لصاحب الدرر والبزازية، وإلا فسيذكر خلافه ويأتي تحقيقه (قوله مطلقا) أي سواء جاء تائبا بنفسه أو شهد عليه بذلك بحر.

حاشية ابن عابدين على الدر المختار (4/ 215) دار الفكر-بيروت:

ومن أصولهم يعني الحنفية أن ما لا قتل فيه عندهم مثل القتل بالمثقل، والجماع في غير القبل إذا تكرر، فللإمام أن يقتل فاعله، وكذلك له أن يزيد على الحد المقدر إذا رأى المصلحة في ذلك ويحملون ما جاء عن النبي - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه من القتل في مثل هذه الجرائم، على أنه رأي المصلحة في ذلك ويسمونه القتل سياسة. وكان حاصله: أن له أن يعزّر بالقتل في الجرائم التي تعظمت بالتكرار، وشرع القتل في جنسها؛ ولهذا أفتى أكثرهم بقتل من أكثر من سب النبي - صلى الله عليه وسلم - من أهل الذمة وإن أسلم بعد أخذه، وقالوا يقتل سياسة، وهذا متوجه على أصولهم. اهـ. فقد أفاد أنه يجوز عندنا قتله إذا تكرر منه ذلك وأظهره وقوله وإن أسلم بعد أخذه لم أر من صرح به عندنا لكنه نقله عن مذهبنا وهو ثبت فيقبل.

الفتاوى الهندية (5/ 381) دار الفكر،بيروت:

الخناق والساحر يقتلان لأنهما يسعيان في الأرض بالفساد وإن تابا لم يقبل ذلك منهما وإن أخذا ثم تابا لم يقبل منهما ويقتلان وكذا الزنديق المعروف الداعي. وبه يفتى.

صحيح ابن حبان  البستي(1/ 483) مؤسسة الرسالة، بيروت.

عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  «ما أكفر رجل رجلا قط إلا باء أحدهما بها إن كان كافرا وإلا كفر بتكفيره».

جامع الفصولين (2/ 164) الفصل الثامن والثلاثون في مسائل الكلمات الكفرية:

اعلم أنه لو كان في المسألة وجوه توجب الكفر ووجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتى أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسيناً للظن بالمسلم ثم لو كانت نية القائل ذلك فهو مسلم ولو كانت نيته الوجه الذي يوجب الكفر لا ينفعه حمل المفتي كلامه فيؤمر بالتوبة وتجديد النكاح ثم لو أتى بكلمة الشهادة على وجه العادة لم ينفعه ما لم يرجع عما قال إذ لا يرتفع بها كفره.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

27/صفرالمظفر 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب