03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں بعض اولاد کو امتیازی ترجیح پر ملنے والی چیزکا حکم
81397میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک  مرحوم خاتون نے اپنی زندگی میں ہی اپنا گھر اپنے بیٹے کو گفٹ کردیا تھا کہ ایک ہی بیٹا ہے ،چھ بیٹیاں ہیں [۱یک کی وفات کو ۱۰ سال ہو گئے ہیں ، ایک غیر شادی شدہ ہے اور چار شادی شدہ ہِیں] پانچوں زندہ بیٹیوں کو دو،دو لاکھ روپے دے گئی ہیں ، اپنی تدفین و قبر کا خرچ بھی دے گئی ہیں ،جس بیٹی / بیٹا نے سونا کی کوئی چیز گفٹ کی تھی اس کو واپس کرنے کا کہا ہے اور جو کچھ بچا ہے وہ سب اپنی غیر شادی شدہ بیٹی کو دے گئی ہیں اور بیٹی کو اپنے ابو کا خیال ر کھنے کا کہا ہے ،اس خاتون کے شوہر صحت مند آدمی ہیں، مگر انھوں نے کمائی نہیں کی،غیر شادی شدہ بیٹی پڑھی لکھی ہے اور خود جاب بھی کرتی ہے ، اب اس غیر شادی شدہ بیٹی کا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب تقسیم شریعت کے مطابق ہے ؟ یا جو کچھ اس کی امی ا س کو دے گئی ہیں، اس میں سے کسی بہن بھائی کا حق نکلتا ہے ؟کیاوہ اس رقم میں سے صدقہ کرسکتی ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زندگی میں جائیداد اولاد کو دینا میراث نہیں ، ہدیہ ہے، لیکن پھر بھی بلاضرورت یا بلاکسی معقول وجہ ترجیح کے ساری جائیداد کسی ایک بیٹے  یا وارث کو دینا شرعا درست نہیں، کیونکہ شریعت نے ہدیہ دینے میں بھی انصاف کا حکم دیا ہے، اس لیےبیٹیوں کو جائیداد سے محروم کرکے صرف بیٹے  یا کسی ایک بیٹی کوساری جائیداد دینا ایک ظالمانہ رسم ہے،جس سے احتراز لازم ہے اور زندگی میں اس کا تدارک کرنا ضروری ہے، البتہ اگر کوئی صرف بیٹے یا بیٹی کو مالکانہ حقوق واختیارات کے ساتھ اپنی جائیدادیا کسی چیز کا مالک بنا دے تو وہ  قانونی طور پرمالک ہوجائے گا۔لہذا مرحومہ نے جس غیر شادی شدہ بیٹی کو دوسری بیٹیوں کے مقابلے میں مالکانہ اختیارات کےساتھ زیادہ دیا ہے وہ اس مال کی مالک ہے اور اس میں سے صدقہ کرسکتی ہے،لیکن اس بیٹی کوچاہئےکہ باقی ورثہ کوامتیازی ترجیح پرملنےوالی مال میں سے کچھ دےکرراضی کرلے تاکہ میت کے غلط اقدام کابوجھ اس سےکم ہوجائے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۲ربیع الاول ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب