| 81593 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
سوال:کیافرماتےہیں علمائےدین اس مسئلےکےبارےمیں کہ 25سال پہلےطارق کاایکسڈنٹ ہواتھا،15دن بیہوش تھا،اس حادثہ کےبعدطارق ایک دماغی ونفسیاتی مریض ہے،گزشتہ 25سال سےکراچی کےمعروف دماغی ونفسیاتی ڈاکٹروں کےزیرعلاج ہے،روزانہ کی بنیاد پرمیڈیسن استعمال کرتاہےاورانجکشن لگواتاہےتواس کی جنونی کیفیت قدرےقابومیں رہتی ہے،دواچھوٹ جائےتوجنونی کیفیت شدیدہوجاتی ہے،اس دوران ماں باپ ،بیوی بچوں کےساتھ مارپیٹ گالم گلوچ کرتاہے،دن رات سوتانہیں ہے،نیندنہیں آتی،اتنی بےچینی ہوتی ہےکہ کنٹرول میں نہیں ہوتا،پاگل دیوانہ ہوجاتاہے،سارےگھروالوں کواس سےاتنازیادہ خوف ہوتاہے،مارتابھی ہےاوراچھے برےکی تمییزنہیں ہوتی،سب لوگوں سےنفرت کرتاہےاورجوکچھ منہ میں آئےبولتارہتاہے،دن رات جاگتارہتاہے،مارپیٹ کرتاہے۔بیماری کااثریہ ہےکہ تکلیف شروع ہونےسےقبل گالی دیناشروع کردیتاہے،اوراپنےہوش وحواس کھوبیٹھتاہے،وسوسےکثرت سےآتےہیں،اتنابداخلاق ہوجاتاہےکہ دماغ کنٹرول میں نہیں رہتا،سال میں ایک یادوبارنفسیاتی ہسپتال میں مہینہ یاڈیڑھ مہینہ کےلیےداخل کرواتےہیں،عام دنوں میں بھی نارمل لوگوں کی طرح نہیں ہے،نہ کوئی کام کرتاہے،کھاناکھاتاہے،سوتارہتاہے،نہ نماز کاخیال ہے،نہ کوئی اورذمہ داری،ایک دن اسی طرح جنونی کیفیت میں تھا،بھائی نماز کےلیےجارہاتھا،بھائی کوپکڑکرمارنےلگا،بیوی کوکہتاہے،جاؤیہاں سے،بیٹابھی لےجاؤ،شوہرکی حالت یہ ہوجاتی ہےکہ اپنی ماں کو بھی مارتاہےاوریبوی کوبھی،اس کیفیت میں خودروتابھی ہے،کمروں کےدروازےتوڑدیتاہے۔ایک دن رات کےوقت پاگل دیوانہ ہوگیاتھا،اوربیوی کوگھرسےنکال دیا،اس کی اس کیفیت میں گھرمیں رہنا بہت مشکل تھا،بیوی گھرپرنہیں تھی،اپنےماں کےپاس جا کربولا میں نےاپنی بیوی کو طلاق دی ہے،تین باربولا وہ اپنےہوش میں نہیں تھا،صبح پھرآکربولنےلگا،اس کی ماں نےغصےمیں آکراس کو چپ کروایا،ماں کہتی ہیں،پتہ نہیں ایک باربولایادوباربولا،لیکن جورات کوبولاتھاوہ بھول گیا،اس کویادنہیں،صبح والاتھوڑاتھوڑایادہے۔ (رات میں جوکہاتھا،شوہرکواس سےمتعلق کچھ یادنہیں ،البتہ صبح جو کچھ کہاتھاوہ شوہرکو تھوڑا تھوڑایادہے)
علاقےکےایک مولاناسےپوچھاہےوہ کہتےہیں: ذہنی معذورہے،طلاق واقع نہیں ہوگی۔۔
تنقیح:بیوی کاکہناہےکہ شوہرنےالگ سےاس کو طلاق کےالفاظ نہیں کہے،صرف اپنی والدہ کودو دفعہ کہاہےکہ "میں نےاپنی بیوی کو طلاق دی ہے"اس کےعلاوہ کچھ نہیں کہا،بیوی اور شوہرکی والدہ کےبقول جس وقت شوہرنےطلاق کی خبردی تھی، اس وقت بھی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی،دونوں دفعہ جنونی کیفیت میں تھا،ایک دفعہ کاتوشوہرکو یادہی نہیں ،دوسری دفعہ کا یاد ہے،لیکن اس وقت بھی جنونی کیفیت میں تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایک مسئلہ یہ ہےکہ اگر شوہرکی دماغی حالت ایسی ہوکہ اس کواپنےافعال واقوال کےبارےمیں بالکل شعورنہ رہتاہو،پتہ نہ چلتاہوکہ کیاکہہ رہاہےاورکیاکررہاہے،اوربےاختیاربول پڑتاہو،اور اس کی یہ کیفیت لوگو ں میں معرو ف بھی ہوتوایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔
دوسرامسئلہ یہ ہےکہ اگرطلاق کی جھوٹی خبردی جائے،جیساکہ موجودہ مسئلہ میں ہےکہ شوہراپنی والدہ کوکہہ رہاہےکہ میں نےاپنی بیوی کوطلاق دیدی ،جبکہ حقیقت میں طلاق نہ دی ہو،ایسی صورت میں قضاء طلاق واقع ہوجاتی ہے،دیانتا (فیمابینہ وبین اللہ )طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں(پہلےمسئلہ کےمطابق ) اگرشوہرنےواقعتاایسی(سخت جنونی کیفیت) طلاق دی ہےتو طلاق واقع نہیں ہوئی،کیونکہ ایسی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔
اور(دوسرےمسئلہ کےمطابق)اگرشوہرنےپہلےطلاق کےالفاظ بالکل نہیں کہے،والدہ کوجھوٹی خبردی ہے(جیسےوضاحت کی گئی ہے)توبھی اگرچہ عام حالات میں طلاق کی جھوٹی خبردینےسےقضاءطلاق واقع ہوجاتی ہے،لیکن موجودہ صورت میں چونکہ یہ الفاظ کہتےوقت جنونی کیفیت تھی،لہذا اس جھوٹی خبر کابھی اعتبارنہ ہوگا،اس لیےمذکورہ صورت میں قضاء بھی طلاق واقع نہیں ہوئی،لہذا میاں بیوی کاسابقہ نکاح برقرارہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار" 1 / 303):كل الطلاق واقع إلا طلاق المعتوه والمغلوب على عقله فافهم"
"الھندیہ" 1/353 :ولایقع طلاق الصبی وان کان یعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمی علیہ والمدھوش ۔
"فتح القدير 7 / 493:( قوله ولا يقع طلاق الصبي ) وإن كان يعقل ( والمجنون والنائم ) والمعتوه كالمجنون ، قيل هو القليل الفهم المختلط الكلام الفاسد التدبير لكن لا يضرب ولا يشتم ، بخلاف المجنون ... عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم { كل طلاق جائز إلا طلاق المعتوه المغلوب على عقله }"
"حاشية رد المحتار" 3 / 268:
وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، فأجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان ۔
"تنقيح الفتاوى الحامدية"1 / 272:
( سئل ) في رجل حصل له دهش زال به عقله وصار لا شعور له لأمر عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة يا رب أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه ؟ ( الجواب ) : الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم الله تعالى ۔
"حاشية رد المحتار" 3 / 269:فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته، فما دام في حال غلبة الخلل في الاقوال والافعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها، لان هذه المعرفة والارادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح ۔
"رد المحتار " 10 / 485:
( قوله والمجنون ) قال في التلويح : الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب ، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها ، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة ، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة ، وإما لاستيلاء الشيطان عليه وإلقاء الخيالات الفاسدة إليه بحيث يفرح ويفزع من غير ما يصلح سببا ۔
وفي البحر عن الخانية : رجل عرف أنه كان مجنونا فقالت له امرأته : طلقتني البارحة فقال : أصابني الجنون ولا يعرف ذلك إلا بقوله كان القول قوله ۔
"رد المحتار على الدرالمختار" 4/440،443:لو أقر بالطلاق كاذباً، أو هازلا وقع قضاء لا ديانة۔۔۔۔لو أراد به الخبر عن الماضي كذبأ لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاءً أيضاً۔
" حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار"2/113:الاقرار بالطلاق کاذبا یقع بہ قضاءً لا دیانۃً ۔"
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
11/ربیع الثانی 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


