| 81677 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
نکاح نامے کی کاپیاں بھی غائب کردی جاتی ہیں اور دلھے کو اس کی کاپی نہیں دی جاتی،جس میں یہ درج ہے کہ حق مہر جو کہ غیر معجل ہے،لڑکا اپنی استطاعت کے مطابق بعد میں وقتا فوقتا دیتا رہے گا،لیکن حق مہر کا مطالبہ بارہا سسرال سے سسر اور سالے کرتے ہیں،آیا اسلام میں حق مہر لڑکی کے والد اور بھائیوں کو دینا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مہر در اصل لڑکی کا حق ہے، اس کی اجازت کے بغیر نہ کسی اور کو اس کے مطالبے کا حق حاصل ہے اور نہ لڑکی کے علاوہ کسی اور کے حوالےکیاجاسکتاہے،البتہ اگر لڑکی کی طرف سے اس کی اجازت ہو تو پھر لڑکی کے والد اور بھائیوں کو مطالبے کا حق بھی ہوگا اور انہیں دینا بھی درست ہوگا،لیکن مہر وصول کرنے کے بعد والد یا بھائیوں کا لڑکی کی دلی رضامندی اور اجازت کے بغیر اسے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
"البحر الرائق " (3/ 144):
"(قوله: ولو نقصت عن مهر مثلها للولي أن يفرق بينهما أو يتم المهر) يعني عند أبي حنيفة وقالا ليس له ذلك؛ لأن ما زاد عن العشرة حقها ومن أسقط حقه لا يعترض عليه كما في الإبراء بعد التسمية ولأبي حنيفة أن الأولياء يفتخرون بغلاء المهر ويتعيرون بنقصانها فأشبه الكفاءة بخلاف الإبراء بعد التسمية؛ لأنه لا يعير به.
فحاصله: أن في المهر حقوقا ثلاثة: أحدهما حق الشرع وهو أن لا يكون أقل من عشرة دراهم أو ما يساويها. والثاني حق الأولياء وهو أن لا يكون أقل من مهر المثل. والثالث حق المرأة وهو كونه ملكا لها، ثم حق الشرع، والأولياء مراعى وقت الثبوت فقط فلا حق لهما حالة البقاء".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/ربیع الثانی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


