| 81681 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ان سب معاملات کے بعد پھر ایک جرگہ ہوا،جس میں اہل علم شامل تھے،پرانے جھگڑے ختم کروائے اور آئندہ کے لئے یہ طے پایا کہ نومولود بیٹی کو اس کے والد اور دادا،دادی سے ملوایا جائے،لیکن وہ لوگ اس فیصلے سے بھی مکرگئے،شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟
بچی اس دوران والدہ کے پاس رہتی ہے،اس کی شرعی مدت کیا ہوگی اور والد کب اس کی کسٹڈی لے سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نو سال تک بچی کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے، البتہ اگر اس دوران ماں نے کسی ایسے مرد سے نکاح کرلیا جو بچی کا محرم رشتہ دار نہ ہو تو اس کی پرورش کا حق ختم ہوجائے گا،اس کے بعد نانی کو پرورش کا حق حاصل ہوگا،اگر نانی نہ ہو یا وہ پرورش پر آمادہ نہ ہو تو پھر دادی کو حق حاصل ہوگا۔
بچی کی عمر نو سال ہونے کے بعد باپ اسے لے سکتا ہے اور نو سال کے عرصے کے دوران بچی کا خرچہ باپ ہی کے ذمے لازم ہوگا لیکن بچی والدین میں سے جس کے پاس بھی ہو وہ دوسرے کو بچی سے ملنے سےنہیں روک سکتا۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (1/ 541):
"وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير".
" الدر المختار "(3/ 566):
"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا.
وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. وبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا زيلعي.
"الدر المختار " (3/ 612):
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر، فإن نفقة المملوك على مالكه والغني في ماله الحاضر".
"الفتاوى الهندية "(1/ 543):
"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/ربیع الثانی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


