| 82260 | زکوة کابیان | سامان تجارت پر زکوۃ واجب ہونے کا بیان |
سوال
میرا سوال زکوة سےمتعلق ہے، کیا مجھے 4 سال کی قسطوں پر بک کرائے گئے پلاٹ کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟ پلاٹ کا مقصد میچورٹی کے بعد فروخت کرنا اور نیا مکان بنانا یا خریدنا ہے،دو سال گزر چکے ہیں اور میں نے 50% ادائیگی کر دی ہے جبکہ 50% باقی ہے جو مجھے اگلے 2 سالوں میں کرنی پڑے گی،مجھے یقین نہیں ہے کہ کیا مجھے اس پلاٹ کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟ اگر ہاں تو کس رقم پر اس کی موجودہ قیمت پر یااس رقم پر جو میں پہلے ہی ادا کر چکا ہوں؟
نیز زکوة کب سے لازم ہوگی،خریداری کے بعد سے یا پلاٹ کا قبضہ ملنے کے بعد؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پلاٹ پر زکوة تب لازم ہوتی ہے جب اسے تجارت کی حتمی نیت سے خریدا جائے اور وہ نیت بدستور برقرار رہے،ایسا پلاٹ جسے خریدتے وقت تجارت کی نیت حتمی اور یقینی نہ ہو،بلکہ بیچنے،گھر تعمیر کرنے وغیرہ جیسے مختلف ارادے ہوں تو ایسے پلاٹ پر زکوة لازم نہیں ہوگی۔
تجارت کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر قبضے کے بعد تو زکوة کے لزوم میں کوئی شک نہیں،البتہ قبضے سے پہلے ایسے پلاٹ پرزکوة لازم ہوگی یا نہیں؟ اس حوالے سے عباراتِ فقہاء میں دونوں اقوال موجود ہیں،البتہ وجوب کے قول کو راجح قرار دیا گیا ہے،اگرچہ قبضے سے پہلے زکوة کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی،لیکن قبضے کے بعد گزشتہ تمام سالوں کی زکوة کا حساب لگاکر اس کی ادائیگی لازم ہوگی،ذیل تینوں قسم کی عبارات ملاحظہ ہوں:
عدم وجوب والی عبارات:
"الدر المختار " (2/ 263):
"(فلا زكاة على مكاتب) لعدم الملك التام، ولا في كسب مأذون، ولا في مرهون بعد قبضه، ولا فيما اشتراه لتجارة قبل قبضه".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله قبل قبضه) أما بعده فيزكيه عما مضى كما فهمه في البحر من عبارة المحيط فراجعه، لكن في الخانية: رجل له سائمة اشتراها رجل للسيامة ولم يقبضها حتى حال الحول ثم قبضها لا زكاة على المشتري فيما مضى لأنها كانت مضمونة على البائع بالثمن. اهـ. ومقتضى التعليل عدم الفرق بين ما اشتراها للسيامة أو للتجارة فتأمل".
"الجوهرة النيرة " (1/ 114):
" (قوله :ملكا تاما) يحترز عن ملك المكاتب والمديون والمبيع قبل القبض لأن الملك التام هو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كملك المبيع قبل القبض والصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة".
"فتح القدير " (2/ 154):
"(قوله :لأن كمال الملك بها) مقتضى الظاهر أن يقول لأن الملك بها، فكأنه عمم الملك في الملك يدا، فلو قال على هذا التقدير لأن الملك بها لم يصدق لثبوته دونها في المكاتب فإنه مالك يدا إذ ليس بحر، ثم لم يتكلم على قيد التمام وهو مخرج لملك المكاتب فيخرج حينئذ مرتين، وهذا أعم إخراجا فإنه يخرج أيضا النصاب المعين من السائمة الذي تزوجت عليه المرأة ولم تقبضه حتى حال عليه الحول فإنه لا زكاة فيه عليها عند أبي حنيفة، خلافا لهما لأن الملك وإن تحقق بذلك لكنه غير كامل بالنظر إلى ما هو المقصود وصيرورته نصاب الزكاة ينبني على تمام المقصود به لا على مجرد الملك ولذا لم يجب في الضمار.
ويخرج أيضا المشتري للتجارة إذا لم يقبض حتى حال حول لا زكاة فيه إذ لم يستفد ملك التصرف وكمال الملك بكونه مطلقا للتصرف وحقيقته مع كونه حاجزا".
وجوب والی عبارت:
"البحر الرائق "(2/ 218):
" (قوله :وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحوائجه الأصلية نام، ولو تقديرا).....
وأطلق الملك فانصرف إلى الكامل، وهو المملوك رقبة ويدا فلا يجب على المشتري فيما اشتراه للتجارة قبل القبض، ولا على المولى في عبده المعد للتجارة إذا أبق لعدم اليد".
وفی منحة الخالق: (قوله: فانصرف إلى الكامل) قال في النهر أنت خبير بأن هذا مناف لما مر قريبا من احتياجه إلى قيد التمام (قوله: فلا يجب على المشتري إلخ) أي قبل قبضه أما بعده فيجب لما مضى كما سينبه عليه".
وجوب کے قول کی تصحیح والی عبارات:
"الفتاوى الهندية "(1/ 172):
"ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج وأما المبيع قبل القبض فقيل لا يكون نصابا والصحيح أنه يكون نصابا كذا في محيط السرخسي".
"تبيين الحقائق " (1/ 257):
"وفي الحاوي المبيع قبل القبض لا تجب فيه الزكاة، وفي قياس قول أبي حنيفة كالمهر قال الفقيه أبو الليث هو قول الكل لأن المشتري لا يملك التصرف في المبيع قبل قبضه بخلاف المهر، وفي الجامع المبيع قبل القبض نصاب عندهما وكذا عند أبي حنيفة على الأصح، وفي المحيط والصحيح أنه نصاب؛ لأنه بدل مال بخلاف المهر؛ لأنه بدل ما ليس بمال. اهـ. غاية".
"البحر الرائق " (2/ 225):
"وقدمنا أن المبيع قبل القبض لا تجب زكاته على المشتري وذكر في المحيط في بيان أقسام الدين أن المبيع قبل القبض، قيل: لا يكون نصابا؛ لأن الملك فيه ناقص بافتقاد اليد، والصحيح أنه يكون نصابا؛ لأنه عوض عن مال كانت يده ثابتة عليه، وقد أمكنه احتواء اليد على العوض فتعتبر يده باقية على النصاب باعتبار التمكن شرعا اهـ
فعلى هذا قولهم: لا تجب الزكاة معناه قبل قبضه وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي".
علاوہ ازیں عبارات فقہاء میں موجوددرج ذیل دو نظیروں سے بھی قبضے سے پہلے تجارتی پلاٹ پر وجوب زکوة کے قول کی تائید ہوتی ہے :
1۔اگر کسی نے مال تجارت خیار شرط کے ساتھ خریدا اور خیار کی مدت کے دوران سال پورا ہوگیا،تو مدت خیار کے بعد وہ مال جس کی ملکیت میں جائے گا اس شخص پربقیہ مال کے ساتھ اس کی زکوة اور صدقہ فطر کی ادائیگی لازم ہوگی۔
اس نظیر سے قول وجوب کی تائید اس طور پر ہوتی ہے کہ یہاں حولانِ حول کے وقت خیار شرط کی وجہ سے خریدی گئی چیز کی ملکیت بھی یقینی طور پر ثابت نہیں ہوتی،لیکن اس کے باوجود بعد میں بیع کے یقینی ہوجانے کی صورت میں خریدی گئی چیز کی زکوة مشتری کے ذمے لازم قرار دی گئی ہے،جبکہ غیر مقبوض تجارتی پلاٹ پر ملکیت تو یقینی ہوتی ہے،جس کے نتیجے میں مالک کو پلاٹ میں تعمیر کے علاوہ دیگر تصرفات کا اختیار بھی ہوتا ہے،اس لئے اس کی زکوة بطریقہ اولی لازم ہونی چاہیے۔
"فتح القدير للكمال ابن الهمام "(2/ 290):
" وزكاة التجارة على هذا بأن اشتراه للتجارة بشرط الخيار فتم الحول في مدة الخيار فعندنا يضم إلى من يصير له إن كان عنده نصاب فيزكيه مع نصابه، ولو لم يكن في البيع خيار، ولم يقبضه المشتري حتى مضى يوم الفطر فقبضه فالفطرة على المشتري ".
"البحر الرائق "(2/ 273):
"وأشار إلى أن وجوب زكاة مال التجارة متوقف أيضا بأن اشتراه للتجارة بشرط الخيار فتم الحول في مدة الخيار فعندنا يضم إلى من يصير له إن كان عنده نصاب فيزكيه مع نصابه، وإلى أنه لو لم يكن في البيع خيار، ولم يقبضه المشتري حتى مر يوم الفطر فالأمر موقوف، فإن قبضه المشتري فالفطرة عليه، وإلا فإن رده على البائع بخيار عيب أو رؤية بقضاء أو بغير قضاء فعلى البائع؛ لأنه عاد إليه قديم ملكه منتفعا به وإلا بأن مات قبل قبضه فلا صدقة على واحد منهما لقصور ملك المشتري وعوده إلى البائع غير منتفع به فكان كالآبق بل أشد".
"الفتاوى البزازية "(2/ 3):
"باع فاسداً ومر يوم الفطر وهو في يد المشتري فاسترد البائع أو هو في يد البائع وأعتقه البائع فالفطرة على البائع وإن أعتقه المشتري بعد قبضه فالفطرة عليه ولو كان صحيحاً وفيه خيار لأحدهما فلمن يستقر له الملك وكذا زكاة التجارة إن اشتراه للتجارة ولو لم يكن فيه خيار غير أن المشتري قبضه بعد يوم الفطر فالفطرة على المشتري".
2۔وہ مال جسے کوئی اپنے گھر میں زیر زمین چھپاکر اس کے دفن کی جگہ بھول گیا ہو تو اس کی زکوة اس شخص کے ذمے واجب ہے،جبکہ صحراء میں دفن کئے گئے مال کا مقام بھول جانے کی صورت میں وہاں دفن شدہ خزانے کے مال ضمار کے حکم میں داخل ہونے کی وجہ سے اس کی زکوة لازم نہیں ہے،کیونکہ پہلی صورت میں تھوڑی بہت کوشش کے بعد مال مدفون تک رسائی ممکن ہے،جبکہ دوسری صورت میں تلاش اور کوشش کے بعد بھی مال مدفون تک رسائی کا ظن غالب نہیں۔
"بدائع الصنائع " (2/ 9):
"والمال المدفون في الصحراء إذا خفي على المالك مكانه فإن كان مدفونا في البيت تجب فيه الزكاة بالإجماع.....
ومال ابن السبيل مقدور الانتفاع به في حقه بيد نائبه وكذا المدفون في البيت؛ لأنه يمكنه الوصول إليه بالنبش بخلاف المفازة؛ لأن نبش كل الصحراء غير مقدور له، وكذا الدين المقر به إذا كان المقر مليا فهو ممكن الوصول إليه".
اس نظیر سے قولِ وجوب کی تائید اس طور پر ہوتی ہے کہ ایسے غیر مقبوض پلاٹ کو مال ضمار یعنی عبد آبق وغیرہ کے حکم میں قرار دینا مشکل معلوم ہوتا ہے،کیونکہ مال ضمار سے نہ فی الحال استفادے کی کوئی صورت ممکن ہوتی ہے اور نہ تلاش کی کوشش کے بعد اس کے ملنے کا یقین یا غالب گمان ہوتا ہے،جبکہ قسطوں پر خریدے گئے پلاٹ کا معاملہ درج ذیل وجوہ کی بناء پراس سے مختلف ہے:
1۔پلاٹ پر حسی قبضے سے پہلے بھی مشتری اس میں تصرف سے بالکلیہ ممنوع نہیں ہوتا،بلکہ وہ اسے فروخت کرسکتا ہے،صرف تعمیر کی اجازت نہیں ہوتی،لہذا اسے بالکلیہ خارج عن الید قرار دینا محل نظر معلوم ہوتا ہے۔
2۔حسی قبضہ حاصل کرنا بھی اس کے اختیار میں ہے اس طور پر کہ وہ معین اقساط ادا کردے،یا پھر عام طور پر سوسائٹی کی طرف سے قبضے دینے کے لئے اخراجات کی مد میں کچھ رقم معین ہوتی ہے جس کی ادائیگی کے بعد قبضہ دے دیا جاتا ہے۔
اس لئے تجارت کی نیت سے خریدے گئے غیر مقبوض پلاٹ کا حکم اس خزانے کی مانند ہوگا جسے گھر میں دفن کرنے کے بعد دفن کا مقام یاد نہ رہا ہو،کیونکہ دونوں تک رسائی ممکن ہے۔
لہذامذکورہ صورت میں چونکہ یہ پلاٹ قیمت بڑھنے پر فروخت کرنے کی نیت سے خریدا گیا ہے، اس لئے جب تک یہ نیت باقی رہے گی اس پلاٹ کی قیمت فروخت کے مطابق زکوة کی ادائیگی لازم ہوگی،البتہ جن قسطوں کی ادائیگی زکاة کے رواں سال میں کرنی ہے انہیں پلاٹ کی قیمت میں سے منہا کرکے بقیہ قیمت کے حساب سے زکوة ادا کی جائے گی،چاہے فروخت کرنے کی بعد ملنے والی قیمت سے گھر بنانے یا کوئی اور ضرورت پوری کرنے کا ارادہ ہو۔
البتہ یہ واضح رہے کہ پلاٹ پر قبضے سے پہلے زکوة کی ادائیگی لازم نہیں ہے،لیکن قبضہ ملنے کے بعد پھر گزشتہ تمام سالوں کی زکوة ادا کرنا پڑے گی،لہذا آپ کو اختیار ہے کہ قبضے سے پہلے ہرسال بقیہ مال کی زکوة کے ساتھ اس کی بھی زکوة ادا کریں،یا پھر قبضہ ملنے کے بعد گزشتہ تمام سالوں کا حساب لگاکر زکوة کی ادائیگی کریں۔
حوالہ جات
"بدائع الصنائع " (2/ 6):
"وأما العشر فقد روى ابن المبارك عن أبي حنيفة أن الدين يمنع وجوب العشر فيمنع على هذه الرواية.
وأما على ظاهر الرواية فلأن العشر مؤنة الأرض النامية كالخراج فلا يعتبر فيه غنى المالك، ولهذا لا يعتبر فيه أصل الملك عندنا حتى يجب في الأراضي الموقوفة وأرض المكاتب بخلاف الزكاة فإنه لا بد فيها من غنى المالك، والغنى لا يجامع الدين، وعلى هذا يخرج مهر المرأة فإنه يمنع وجوب الزكاة عندنا معجلا كان أو مؤجلا؛ لأنها إذا طالبته يؤاخذ به، وقال بعض مشايخنا: إن المؤجل لا يمنع؛ لأنه غير مطالب به عادة، فأما المعجل فيطالب به عادة فيمنع، وقال بعضهم: إن كان الزوج على عزم من قضائه يمنع، وإن لم يكن على عزم القضاء لا يمنع؛ لأنه لا يعده دينا وإنما يؤاخذ المرء بما عنده في الأحكام.
وذكر الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل البخاري في الإجارة الطويلة التي تعارفها أهل بخارى أن الزكاة في الأجرة المعجلة تجب على الآجر؛ لأنه ملكه قبل الفسخ، وإن كان يلحقه دين بعد الحول بالفسخ.
وقال بعض مشايخنا: إنه يجب على المستأجر أيضا؛ لأنه يعد ذلك مالا موضوعا عند الآجر، وقالوا في البيع الذي اعتاده أهل سمرقند وهو بيع الوفاء: إن الزكاة على البائع في ثمنه إن بقي حولا؛ لأنه ملكه، وبعض مشايخنا قالوا: يجب أن يلزم المشتري أيضا؛ لأنه يعده مالا موضوعا عند البائع فيؤاخذ بما عنده، وقالوا فيمن ضمن الدرك فاستحق المبيع: إنه إن كان في الحول يمنع لأن المانع قارن الموجب فيمنع الوجوب فأما إذا استحق بعد الحول لا يسقط الزكاة؛ لأنه دين حادث؛ لأن الوجوب مقتصر على حالة الاستحقاق، وإن كان الضمان سببا حتى اعتبر من جميع المال، وإذا اقتصر وجوب الدين لم يمنع وجوب الزكاة قبله".
"البحر الرائق "(2/ 218):
" (قوله :وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحوائجه الأصلية نام، ولو تقديرا).....
وأطلق الملك فانصرف إلى الكامل، وهو المملوك رقبة ويدا فلا يجب على المشتري فيما اشتراه للتجارة قبل القبض، ولا على المولى في عبده المعد للتجارة إذا أبق لعدم اليد".
وفی منحة الخالق: (قوله: فانصرف إلى الكامل) قال في النهر أنت خبير بأن هذا مناف لما مر قريبا من احتياجه إلى قيد التمام (قوله: فلا يجب على المشتري إلخ) أي قبل قبضه أما بعده فيجب لما مضى كما سينبه عليه".
"البحر الرائق " (2/ 225):
"وقدمنا أن المبيع قبل القبض لا تجب زكاته على المشتري وذكر في المحيط في بيان أقسام الدين أن المبيع قبل القبض، قيل: لا يكون نصابا؛ لأن الملك فيه ناقص بافتقاد اليد، والصحيح أنه يكون نصابا؛ لأنه عوض عن مال كانت يده ثابتة عليه، وقد أمكنه احتواء اليد على العوض فتعتبر يده باقية على النصاب باعتبار التمكن شرعا اهـ .
فعلى هذا قولهم: لا تجب الزكاة معناه قبل قبضه وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
05/جمادی الثانیہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


